زاہد ابن نبی
ڈرامہ یونانی زبان کا لفظ ڈراو سے مشتق ہے، جس کے معنی میں عمل یا ایکشن ۔ہر ملک اور ہر زبان کی تعریف کے مطابق ڈرامہ انسان زندگی کی عملی تصویر مانا گیا ہے۔ارسطو بوطیقا میں لکھتا ہے ” ڈرامہ انسانی افعال کی ایسی نقل ہے جس میں الفاظ کی موزونیت اور نغمہ کے ذریعے کرداروں کو محوگفتگو اور مصروف عمل ہو بہو ویسا ہی دکھایا جائے جیسے کہ وہ ہوتے ہیں۔’ڈرامہ کےپلاٹ زیادہ ترفرضی ہوتےہیں، لیکن ایسے ڈرامے بھی لکھے گئے گئے جو تاریخی واقعات پر مبنی ہوتے ہیں، مثلاً آفاق احمد کے لکھے ہوئے ڈرامے’’زنیت محل ‘‘یا’’قوت فرزانہ‘‘ وغیرہ ۔
زیر تبصرہ کتاب اور’’ ظلم کی تلوار ٹوٹ گئی‘‘ علامہ یوسف القرضاوی کا لکھا ہوا ڈرامہ ہے۔
علامہ یوسف القرضا وی کو دنیا میں کون نہیں جانتا، اس کی شہرت سے کون واقف نہیں۔ وہ عالمِ اسلام کے عظیم مصنف اور علمِ فقہ کے فاصل ومجتہد کی حیثیت سے شہرت رکھتے ہیں۔مسلمانوں کی اکثریت آپ کو معتدل قدامت پسند اور جدید حالات سے ہم آہنگ عالم قرار دیتی ہے۔ آپ عصر حاضر کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں۔متذکرہ کتاب علامہ نے بعنوانِ’’ عالم وطاغیۃسعید ابن جبیر والحجاج بن یوسف مسرحیۃ تاریخیۃ‘‘عربی زبان میں لکھی ہے،جس کااردو ترجمہ عنایت اللہ ندوی ،اسسٹنٹ پروفیسر عربی گورنمنٹ ڈگری کالج ڈوڈہ جموں و کشمیرنے ’’ ظلم کی تلوار ٹوٹ گئی‘‘ کے نام سے کیا ہے ۔کتاب کا پیش لفظ میں پروفیسر عنایت اللہ وانی رقمطراز ہے۔’’’ایک تاریخی ڈرامہ تھا لیکن یہ کوئی فرضی کہانی نہیں بلکہ حق و باطل کی کشمکش کے ایک تاریخی دور کی مبنی بر حقیقت عکاسی تھی ،اس کتاب میں حضرت سعید بن جبیر اور حجاج بن یوسف کے کردار کو نہایت عمدہ ادبی اسلوب کے ساتھ تحریر کیا گیا تھا۔ کتاب کو ہاتھ میں لینے کے بعد جب تک مکمل نہیں کیا، اس وقت تک کتاب سے جدا ہونے کے لیے دل تیار نہیں ہوا۔‘‘(ص3)۔ حروف آغاز میں مصنف علامہ یوسف القرضاوی رقم طراز ہے۔
’’ یہ ڈرامہ جدید بھی ہے اور قدیم بھی۔ جدید اپنے اسلوب کے اعتبار سے اور قدیم اپنے موضوع کے اعتبار سے، یہ ڈرامہ حجاج بن یوسف اور سعید بن جبیر کے تاریخی واقعات پر مبنی ہے۔ حجاج بن یوسف عراق کا گورنر تھا، جس نے امتِ مسلمہ پر خوب ترظلم کیا، وہیں سعید بن جبیر بھی اُس کے ظلم سے نہ بچ سکا۔سعید بن جبیر ایک تاریخی کردار ہے جو عالم دین تھے اور اُس جیسے ہزاروں حق پرست علما و داعیان حجاج بن یوسف جیسے ظالم و سفاک نام نہاد مسلمان اصحابِ اقتدار اورافسران کے ہاتھوں ظلم و عدوان اور سفاکیت کی چکی میں پس رہے ہیں۔کون ہے سعید بن جبیر؟’حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جب اہل کوفہ کسی مسلہ کے متعلق دریافت کرتے تو آپ فرماتے، سعید بن جبیر کے ہوتے ہوئے تم لوگ مجھ سے کیوںپوچھتے ہو۔امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے سعید بن جبیر کو شہید کر دیا گیا ،حالانکہ روئے زمین پر کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو اُن کے علم کا محتاج نہ ہو ”۔(ص6)ابن الاشیعت بھی تب تک حجاج اور بنوامیہ کے خلاف بغاوت نہیں کرسکے ،جب تک سعید بن جبیر ان کے ساتھ شریک نہیں ہوئے، بالآخر’’ دیر جمام‘‘کی جگہ میدان سج گیا۔’’اس مشہور معرکہ میں حجاج بن یوسف نے ابن الاشعت کو ایک خطرناک شکست دی ،جس کی بعدابن الاشعت کوفرار کی راہ اختیار کرنی پڑی۔ سعید بن جبیر بھی اُن لوگوں میں سے تھے جو بحفاظت بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے اور پھر روپوش ہوگے ۔‘‘(ص 7) یہ ایک تاریخی ڈرامہ ہے، حق و باطل کی کشمکش کے ایک تاریخی دور کی مبنی بر حقیقت کا عکاس تھا۔ اس ڈرامہ کا پلاٹ ایک مربوط پلاٹ ہے، مربوط پلاٹ میں واقعات کی ترتیب ایک خاص ڈھنگ کی ہوتی ہے، واقعات ایک کے بعد ایک اس طرح آگے بڑھتے ہیں کہ ان میں منطقی ربط وتسلسل ہوتا ہے اور دل چسپی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔اس لحاظ سے علامہ یوسف اپنے ڈرامہ میں کامیاب نظر آتے ہیں۔اس میں ابتدا ،انتہا اور اختتام بالکل نظر آتا ہے۔ علامہ یوسف القرضاوی رقمطراز ہیں۔’’ مجھے سعید بن جبیر اور حجاج بن یوسف کا تاریخی واقعہ اس اعتبار سے بہت ہی مناسب معلوم ہوا کہ یہ ایک با مقصد اور پیغام کا حامل فقرہ بن سکتاہے ۔‘‘
یہ ڈرامہ چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے حصے میں مصنف نے قاری کو حجاج بن یوسف جو اُس وقت عراق کا گورنر تھا، کے دربار میں پہنچاتا ہے ،وہان حجاج ایوان میں نخوت وغرور کا مظاہرہ کرتے ہوئے دکھائی دیتا ہے، اس کے درباری آس پاس بیٹھے ہیں اور حجاج کو ظلم پر اُکساتے ہیں ۔اس بیج حجاج اُس وقت کے مسلمانوں کے امیر عبدالمالک بن مروان کے خط کا انتظار کرتا ہے، جس میں قیدیوں کے ساتھ سلوک کے بارے میں احکامات ہوں۔ امیر کے طرف حکم ملا ’’جو بھی جمام کے معرکہ میں ابن الاشعت کے ساتھ شریک تھے ،ان کو تہہ تیغ کیا جائے ،ہمارے خلاف بغاوت کرنے کی وجہ سے اُن میں سے جو اپنے بارے میں کافر ہونے کا اقرار کرلیں، اُن کو چھوڑا جا سکتا ہے اور جو کفراقرار نہ کریں اور اپنے آپ مومن سمجھیں ،اُن کی گردن تن سے جدا کردی جائیں۔(ص10)۔ حجاج ایک ایک کرکے قیدیوں کو بلاتا، جو قیدی عزیمت کا مظاہرہ کرتا، اس کو قتل کیا جاتا اور حجاج یہ بھی حکم صادر کرتا سعید بن جبیر کو جلدی گرفتار کیا جائے، اس سین میں منصب نے بار بار قرآن کی آیت کا حوالہ قیدیوںکےذریعہ دیا ہے۔
دوسرا حصہ، دو سین پر مشتمل ہے۔ پہلےسین میں سعید بن جبیر مکہ مکرمہ میں اپنے شاگرد کے گھر میں روپوش ہے اور ان کے چاروں طرف ایک عالمی مجلس لگی ہوئی ہے، اس مجلس میں سعید بن جبیر ہ روپوش نظر آتے ہوئے بھی اپنے مشن پر کام کر رہے ہیں، یعنی وہ اپنے شاگردوں کو تعلیم دے رہے تھے ۔شاگرد اپنے استاد یعنی سعید بن جبیر کو سوال کر رہے تھے اور سعید بن جبیر ر اُن کوتفصیلاً تسلی بخش جواب دیتے تھے۔
شاگرد: خوف خدا کی علامت کیا ہے ؟
سعید: خوف خدا کی علامت یہ ہے کہ وہ تمہارے درمیان اور اللہ کی نافرمانی کے درمیان حائل ہو جاتی ہے۔
شاگرد: خوف خدا پیدا کرنے میں کون سی چیزیں معاون بن سکتی ہے؟
سعید: موت اور آخرت کی یاد اس سے دلوں کا میل کچیل دور ہوتا ہے۔
سعید اپنے شاگردوں کو کامیابی اورنا کامیابی کا تصور اس طرح سمجھاتے ہیں، جس سے شاگرد مطمئن ہو جاتے ہیں۔اسلامی تاریخ میں اس کی بہترین مثال ہجرت کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمل ہے۔ جس دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر سے مظلومیت اور پریشانی کی حالت میں ایک تاریک غار میں چھپتے چھپاتے نکلتے ہیں، تم اس موقف کو کس نگاہ سے دیکھو گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغلوب و شکست خوردہ تھے یا کامیاب و فاتح؟(طلبہ کے پاس کوئی جواب نہیں بن پاتا ہے، سب پر خاموشی طاری ہوجاتی ہے)
سعید: کیا بات ہے جواب کیوں نہیں دیتے؟
طالب علم: کون مومن اس کی جرأت کر سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے بارے میں شکست وہزیمت کی بات کرے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تو اللہ تعالی کی خصوصی تائیدی و نصرت تھی۔
سعید: تم نے بالکل صحیح کہا اور بہت اچھی بات کی ،تو بتاؤ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اُس وقت کامیاب تھے نا؟
طالب علم : ہکا بکا رہ جاتا اور صحیح جواب نہیں دے پاتا۔
سعید: جہاں تک میرا تعلق ہے، تو میں اس دن کو اسلام کے غلبہ اور عزت کے ایام میں سے ایک اہم دن سمجھتا ہوں اور کیوں نہ سمجھوں جب اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب مبین میں اس کو نصرت و تائید کا دن بتایا ہے۔ اس خطاب ِالہٰی کو ذرا سن لو۔’’تم نے اگر نبی کی مدد نہیں کی تو کوئی پروا نہیں ،اللہ اس کی مدد اس وقت کر چکا ہے جب کافروں نے اس سے نکال دیا تھا ،جب وہ صرف دو میں تو دوسرا تھا ،جب وہ غار میں تھے۔ جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غم نہ کر اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘۔سورۃالتوبہ :40 (ص24) ۔
سعید اور شاگرد بات کر رہے تھے، اسی اثناء میں ایک فوجی سعید کو گرفتار کرنے کے لیے گھر میں داخل ہوجاتا ہے لیکن سعید کی باتوں اور تقویٰ سے وہ متاثر ہوکرسعید کو گرفتار نہیں کرتا اور راہ فرار کی تجویز پیش کرتاہے۔ دوسرے سین میں سعید مکہ سے دور اپنے دوست ابوحصین کے گھر میں ہوتا ہے۔ ابوحصین سعید کو فرماتے ہیں کہ مکہ کے نئے گورنر نے آپ کے خلاف تقریرکیاا ور تین دن میں آپ کوگرفتارکرنے کو کہا ہے۔ اُسی وقت ایک اجنبی گھر میں داخل ہوتا ہے جس کو گورنر نے سعید کو گرفتار کرنے کے لیے بھیجاہوتا ہے، وہ اجنبی بھی سعید کی باتوں سے متاثر ہوجاتا ہے اوراُنہیں مشورہ دیتا ہے کہ آپ فرار ہوجائیں، میں بھی آپ کے ساتھ آ جاؤں گا۔ مگر سعید کہتے تھے کہ میں بہت بھاگااور یہاں تک کہ مجھے اپنے ربّ سے شرم محسوس ہو رہی ہے اور آخر کار دس سال کے بعدسعید گرفتار ہو جاتے ہیں۔
تیسرے حصے میں دو سین ہیں۔ پہلے سین میں سعید قید خانے کی ایک کوٹھری میں تین فقہاء کے ساتھ مقید ہیں اور آپس میں بات کر رہے ہیں۔ علماء کی محفل جمی ہوئی ہے، اس میں مکالمہ نگاری کا دلکش نظارہ دکھایاگیا اور ساتھ ساتھ سعید کی عظمت اور علمی وقار بھی دکھائی دیتا ہے۔ دوسرے سین میں سعید بن جبیر اور حجاج کے درمیان دربار میں گفتگو کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اس موقع پر سعید ہر بات کا جواب قرآن کے حوالہ کے ساتھ دیتا ہے۔ حجاج غصہ میں آکر سعید کو قتل کرنے کا حکم دیتا ہے ۔سعید حجاج کے لیے آخر پر دعا کرتے ہیں’’اللہ اس کو میری بعد کسی کے قتل کرنے کی مہلت نہ دینا‘‘۔(ص45)
ڈرامہ کا آخری حصہ سعید کی شہادت کے ٹھیک دو ہفتے کے بعد دکھایا گیا ہے، جب حجاج اپنی چارپائی پر سویا ہوا نیند میں مست ہے اور اچانک وہ خوفزدہ ہوجاتا ہے ،اس کو لگتا ہے سعید بن جبیر مجھے مار ڈالے گا ،وہ ذہنی مریض بن چکا ہے، بالآخر اس کی موت ایسی ہی حالت میں ہو جاتی ہے۔
ڈرامہ کی زبان آسان ہے ،سادہ الفاظ استعمال کئے گئےہیں، مشکل الفاظوں کو ترک کیا گیا ہے۔ یہ ڈرامہ قاری کو ایک ہی نشست میں ختم کرنے پر مجبور کرتا ہے، اس کی گرفت مضبوط ہے ۔48صفحات پر مشتمل دیدہ زیب پرنٹنگ سے مزیّن اس کتاب کی قیمت 40/-روپے ہے،جس کی اشاعت 2021میں ہدایت پبلشرز کے ذمہ دار برادر ابوالاعلی سید سبحانی نے کی ہے۔
(یاری پورہ کولگام)
[email protected]>