گلفام بارجی،ہارون
ہر سال 8مارچ کو دنیا بھر میں عالمی یومِ خواتین اس عہد کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ خواتین کو زندگی کے ہر شعبے میں مساوی حقوق اور مواقع فراہم کیے جائیں۔ یہ دن خواتین کی تاریخی جدوجہد، ان کی بے مثال قربانیوں اور ناقابلِ فراموش کامیابیوں کا اعتراف بھی ہے اور ایک ایسے مستقبل کی نوید بھی جہاں صنفی امتیاز کا کوئی وجود نہ ہو۔ عالمی یومِ خواتین محض ایک رسمی تقریب یا تقاریر تک محدود نہیں بلکہ ایک تحریک ہے ایسی تحریک جو معاشرے کے ہر فرد کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا واقعی ہم نے خواتین کو وہ مقام دیا ہے جس کی وہ مستحق ہیں؟
انیسویں اور بیسویں صدی کے سنگم پر صنعتی انقلاب نے دنیا بھر میں مزدور طبقات کو متاثر کیا۔ خواتین بھی کارخانوں میں کام کر رہی تھیں مگر انہیں کم اجرت اور طویل اوقاتِ کار کا سامنا تھا۔ 1908ء میں نیویارک کی خواتین مزدوروں نے اپنے حقوق کے لئے آواز بلند کی۔ اس تحریک نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کی۔1910ء میں کوپن ہیگن میں منعقدہ سوشلسٹ خواتین کانفرنس میں جرمن رہنما کلارا زیٹکن نے خواتین کے عالمی دن کی تجویز پیش کی۔ 1911ء میں پہلی بار آسٹریا، ڈنمارک، جرمنی اور سوئٹزرلینڈ میں یہ دن منایا گیا۔1975ء میں اقوامِ متحدہ نے اس دن کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا اور ہر سال ایک مخصوص تھیم کے تحت تقریبات منعقد کی جانے لگیں جن کا مقصد خواتین کو درپیش مسائل کی نشاندہی اور ان کے حل کے لئے عالمی تعاون کو فروغ دینا ہے۔اسلامی تعلیمات اور خواتین کا مقام اسلام نے ساڑھے چودہ سو سال قبل عورت کو وہ حقوق عطا کیئے جو اُس وقت دنیا کے دیگر معاشروں میں ناپید تھے۔ تعلیم حاصل کرنا، جائیداد رکھنا، وراثت میں حصہ پانا اور اپنی مرضی سے نکاح کا حق یہ سب اسلامی تعلیمات کا حصہ ہیں۔ حضرت خدیجہؓ ایک کامیاب تاجرہ تھیں جبکہ حضرت عائشہؓ علم و فقہ میں ممتاز مقام رکھتی تھیں۔ یہ مثالیں اس بات کی دلیل ہیں کہ اسلام نے عورت کو باعزت اور بااختیار مقام دیا۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی معاشرتی روایات کو مذہبی تعلیمات کی اصل روح کے مطابق ڈھالیں۔انگریزوں سے آزادی کے بعد ہندوستان میں خواتین نے آج تک ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ تحریکِ آزادی میں بھی ہندوستانی خواتین نے اہم کردار نبھایا۔دوسری اور اگر ہم دیکھیں گے تو دہشتگردی سے متاثرہ پاکستان کی ملالہ یوسفزئی نے بچیوں کی تعلیم کے لئے آواز بلند کر کے دنیا کو متوجہ کیا۔جبکہ اپنے ملک ہندوستان میں کھیل کے میدان میں قومی ویمن کرکٹ ٹیم اور دیگر قومی کھیلوں میں خواتین کھلاڑیوں نے بین الاقوامی سطح پر کامیابیاں سمیٹیں۔ فضائیہ، فوج، پولیس اور عدلیہ میں بھی خواتین کی شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندوستانی خواتین کسی بھی شعبے میں پیچھے نہیں۔کسی بھی معاشرے کی ترقی کا دارومدار تعلیم پر ہوتا ہے اور جب لڑکی تعلیم یافتہ ہوتی ہے تو پورا خاندان باشعور بنتا ہے۔ اگرچہ شہروں میں بچیوں کی تعلیم کی شرح میں اضافہ ہوا ہے لیکن دیہی علاقوں میں اب بھی بہت سی بچیاں بنیادی تعلیم سے محروم ہیں۔اس مسئلے کے حل کے لئے حکومتی اقدامات کے ساتھ ساتھ سماجی شعور بیدار کرنا بھی ضروری ہے۔ والدین کو یہ سمجھنا ہوگا کہ بیٹی کی تعلیم سرمایہ کاری ہے خرچ نہیں۔حالانکہ اس طرزعمل کو اپنانے اور عام کرنے کے لئے مرکزی سرکار کی طرف سے ایک اسکیم شروع کی گئی ہے’’بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ‘‘اور یہ اسکیم ملک بھر میں فائیدہ مند ثابت ہوئی اور اس اسکیم کی ملک بھر میں پزیرائی ہورہی ہے۔خواتین کی معاشی خودمختاری انہیں بااعتماد اور بااختیار بناتی ہے۔ ہنر مندی کے پروگرام، مائیکرو فنانس اسکیمیں، آن لائن کاروبار اور گھریلو صنعتیں خواتین کو روزگار کے مواقع فراہم کر رہی ہیں۔دیہی علاقوں میں دستکاری، کڑھائی، زراعت اور مویشی پالنے کے شعبے خواتین کی آمدنی کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ شہروں میں آئی ٹی اور فری لانسنگ کے مواقع نوجوان لڑکیوں کو عالمی منڈی تک رسائی دے رہے ہیں۔
اگر حکومت، نجی ادارے اور سماجی تنظیمیں مل کر خواتین کو تربیت اور سرمایہ فراہم کریں تو معیشت میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ ملک بھر میں اگرچہ خواتین کو بااختیار بنانے میں پیش رفت ہوئی ہے لیکن خواتین کو اب بھی متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔گھریلو تشدد اور ہراسانی،کم عمری کی شادی،وراثتی حقوق سے محرومی، صحت کی ناکافی سہولیات، ملازمتوں میں مساوی تنخواہ کا فقدان اور قانون سازی کے باوجود ان قوانین پر مؤثر عمل درآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔ اس کے لیے عدالتی نظام، پولیس اور سماجی اداروں کو فعال کردار ادا کرنا ہوگا.ڈیجیٹل دور میں میڈیا خواتین کے مسائل اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا مہمات نے نہ صرف شعور بیدار کیا بلکہ متاثرہ خواتین کو آواز بھی دی۔ تاہم اس کے ساتھ ذمہ دارانہ استعمال بھی ضروری ہے تاکہ غلط معلومات یا کردار کشی جیسے مسائل سے بچا جا سکے۔ دنیا کے مختلف ممالک میں خواتین نے ووٹ کے حق سے لے کر مساوی اجرت تک طویل جدوجہد کی ہے۔ آج بھی کئی ممالک میں خواتین کو بنیادی حقوق حاصل نہیں۔ عالمی برادری کو چاہئے کہ وہ تعلیم، صحت اور روزگار کے میدان میں خواتین کی بہتری کے لئے مشترکہ حکمتِ عملی اپنائے۔ عالمی یومِ خواتین ہمیں یاد دلاتا ہے کہ بیٹیوں کی تعلیم کو یقینی بنایا جائے، خواتین کے تحفظ کے قوانین پر سختی سے عمل کیاجائے،معاشی مواقع میں برابری دی جائے اور مثبت سوچ اور احترام کے کلچر کو فروغ دیا جائے۔یہ اقدامات صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کا فرض ہیں۔
عالمی یومِ خواتین کا اصل پیغام یہی ہے کہ عورت کمزور نہیں بلکہ معاشرے کی بنیاد ہے۔ جب اسے تعلیم، تحفظ اور مواقع ملتے ہیں تو وہ قوم کی تقدیر بدل سکتی ہے۔
آئیے اس 8 مارچ کو ہم عہد کریں کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ اور ان کی ترقی کے لئے عملی اقدامات کریں گے۔ کیونکہ جب عورت بااختیار ہوگی تو خاندان مضبوط ہوگا اور جب خاندان مضبوط ہوگا تو ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔عالمی یومِ خواتین ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ برابری محض نعرہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔
بقول علامہ اقبال ‘ ؎
وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوزدرؤں