اس گنبد مینائی کے سائے میں خاکداں کے نشیت و فراز میں جب سے انسانی معاشرہ کی تشکیل عمل میں آئی ہے، تب سے ہی رشتوں کا سلسلہ حلقہ در حلقہ زنجیر کی طرح مذہبی اصول و ضوابط کے تحت بڑھتا ہی چلا آرہا ہے۔ہر معاشرہ نے رشتوں کے اس بندھن کو آسان اور کٹھن بھی بنا دیا ہے۔ جہاں تک دین اسلام کا تعلق ہے یہاں رشتہ انتہائی سادگی اور پاکیزگی سے انجام دینے کے واضح اصول و ضوابط ہیں یعنی پہلے لڑکے اور لڑکی کو ایک دوسرے کو تہذیب و شرافت کے دائرے میں دیکھنا لازمی ہے ۔ لڑکا ، لڑکی کو دیکھنے کے حوالہ سے واقعہ چشم کشا ہے کہ کسی گاوں میں ہندو لڑکی کا رشتہ کشمیر میں پنڈت گھرانے میں طے ہوا، دلہن جب سسرال پہنچی تو خوب ناچ گانا ہوا ۔ رات کو جب دلہن حُجلہ عروسی میں گئی تو دیکھا کہ یہاں اس کا شورہر کوئی اور ہی ہے۔
اسی طرح جب مسلمان جوڑا ایک دوسرے کو دل کے آئینے میں اُتار لیتے ہیں پھر چار گواہوں کی بر موقعہ شہادت سے ایجاب و قبول یعنی نکاح عمل میں آتا ہے اور حسبِ استطاعت حق مہر مقرر کیا جاتا ہے ۔ لیکن اکثر لوگ حق مہر ادا کرنے میںلا پرواہی سے کام لیتے ہیں ،حق مہر ادا نہیں کرتے ہیں اور گناہ کبیرہ کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔ یہ ائمہ حضرات کی منصبی ذمہ داری ہے کہ عوام کو حق مہر کی ادائیگی کی دینی اہمیت سے آگاہ کریں۔ جب بیٹے ، بیٹیاں شباب کی سرحد کے قریب پہنچنے لگتے ہیں تو والدین کو ان کے بہتر رشتے کی فکر دا منگیتر ہو جاتی ہے۔
قریباً پندرہ سال قبل وادی چناب میں رشتہ مانگنے کا عام طریقہ یہ تھا کہ محلے یا گاوں کے کسی معتبر شخص کو لڑکے والے ،لڑکی والے کے ہاں رشتہ ما نگنےکےلئے بھیجا جاتا تھا ۔ یہ معتبر شخص مطلوبہ گھر کے صاحب خانہ سے دو معنی الفاظ و انداز میں راہ چلتے کہہ دیتا تھا’’ عصر کے وقت نمکین چائے آپ کے ہاں پیوں گا۔ بیگم صاحبہ کو کہنا دودھ نہ سہی دو پیالے پانی چائے کے پتیلے میں اور ڈالنا‘‘۔ لڑکی والا سمجھ جاتا تھا کہ یہ شخص لڑکی کا رشتہ ما نگنے آئے گا، تو یہ لڑکی والا ذ ہنی طور رشتہ قبول کےلئے تیار ہو جاتا تھا پھر یہ بچو لیا کھانستے کھانستے تن تنہا لڑکی والے کے گھر میں دستک دیتا اور صاحب خانہ خلوص کے ساتھ خوش آمدید کہتا، پھر نمکین چائے کا دور چلتا پھر یہ بچولیا نہایت ہی راز دار نہ انداز میں لڑکی کے والد محترم سے کہتا کہ فلاں شخص آپ کا جانا پہچانا ہے، وہ اپنے فرزند ارجمند کےلئے رشتہ مانگتا ہے، یہی درخواست لے کر میں آیا ہوں۔ ہفتہ دس دن تک سوچ و وچار کر لو پھر مجھے اپنے فیصلے سے ہو سکے تو مسجد میں ہی مطلع کرنا۔ بس یہیں سے رشتے کا تا بانا بننا شروع ہو جاتا پھر وہ مبارک دن بھی آ جاتا کہ لڑکی کے والدین ہاں کر لیتے ،بس بات پکی ہو جاتی پھر یا تو عہد و پیماں باندھا جاتا جِسے عرف عام میں خدا رسول لینا کہا جاتا ہے یا نکاح ہی پڑھا جاتا اور نمکین چائے سے لطف انداز ہوا جاتا۔ پھر تاریخ مقررہ پر شادی کی تقریب سعید اور رخصتی کی رسم نمناک آنکھوں سے پایہ تکمیل پہنچ جاتی تھی۔اب یہ مسلم معاشرہ کی بد قسمتی کہیے یا نحوست کی پر چھائیاں ہیں کہ اب رشتہ کرنا مشکل ترین عمل بن گیا ہے۔ اس حوالہ سے چند اعصاب شکن واقعات قارئین کرام کے تفنن طبع کےلئے ضبط تحریر میں لاتا ہوں۔
تاریخی قصبہ کشتواڑ کے متمدن گھرانے نے بٹوت کشتوار ہانی وے پر واقع موضع ٹھاٹھری میں ایک مستوسط گھرانے میں لڑکے کا رشتہ طے ہوا ،تاریخ مقرر ہوئی، شادی کی مقررہ تاریخ سے چند دن پہلے لڑکے والوں نے مہندی بھیجنے کا اہتمام کیا اور پندرہ نفوس پر مشتمل وفد ترتیب دیا اور یہ وفد اطلاع دئے بغیر لڑکی والے گھر آدھمکا۔ اس وفد جو آفت ناگہانی سے کم نہ تھا، کے لطفِ کام و دہن کا سامان میسر کرنا کتنا مشکل ترین مرحلہ تھا۔ تفصیل بیان کرنے کی چندان ضرورت نہیں ہے۔
اس سے بھی تلخ واقعہ اسی ہائے وے پر موضع درابؔ شالہ کا ہے۔ کشتواڑ کی ہی ایک دختر انیک اختر کی شادی یہاں ہوئی ،شادی کے چند دن بعد لڑکی کے والدین نے اپنی استطاعت کے مطابق جہیز کا اہتمام کیا اور اپنے قریبی رشتہ داروں سےسامانِ جہیز موضع دراب شالہ پہنچانے کا مشورہ کیا۔ جن افراد کو جہیز لے جانے کا مُکلف کیا، انہوں نے اپنے یاردوستوں کو جمع کیا اور ٹرک میں جہیز کے ہمراہ 45 افراد کا قافلہ بن گیا۔ ٹرک میں جہیز کے ہمراہ یہ قافلہ ذیشان موضع دراب شالہ، نئی نویلی دلہن کے ہاں پہنچا۔ لیکن نہ ظہرانہ کا وقت نہ عصرانے کا تھا، اس بلائے نا گہانی کو دیکھ کر دلہن کے اہل خانہ دست تہہ سنگ ہو کے رہ گئے کیونکہ موضع دراب شالہ محض پڑاو کی جگہ ہے ،کوئی تھری اسٹار ہوٹل نہیں ہے بلکہ ایک دو غریب مسلم ہوٹل ہیں جہاں نہ خورد و نوش کا معقول سامان، کباب ، گشتابہ، رستہ، یخنی وغیرہ کا سوال نہیں، بس ویشنو قسم کا کھانا دستیاب ہوتاہے ۔اس سے اندازہ کیجئے کہ اہل خانہ پر کیا گزری اور ضیافتوں کے زیبا کی آرزویں کیسے خاک ہو کے رہ گئیں۔
اہل کرم کی کرمائیاں دیکھئے کہ فورتھ کلاس اکلوتے بیٹے اور چار یتیم بیٹیوں کی بیوہ ماں، جو دائمی علیل رہتی ہے۔ دو تین مہینوں کے بعد سرینگر علاج معالجہ کےلئے جانا پڑتا ہےاور دوا دارو کےلئے بار بار قرض اٹھانا پڑتا ہے۔ ان کے ہاں رشتہ مانگنے کےلئے ایک عالم دین و مفسر ِقرآن پاک کو بھیجا گیا۔ جس کی طرفدار شخصیت علم و اعتقاد کی پیکر دلنواز لگتی ہے۔ ہمارا یہی حسن ظن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں نورِ بصیرت اور عصری آگہی سے سر فراز کیا ہے۔ تقویٰ کا نور ان کے خط و خال سے مترشح ہے ۔جب یہ صاحب بصیرت و نکتہ رس اپنے ہمراہ پندرہ کے قریب ذی وقار افراد کے ہمراہ عنوان الصدر مظلوم بیوہ کے رشتہ مانگے نماز مغرب کے بعد تشریف لائے ،پیشگی اطلاع کو مد نظر علیل بیوہ کے ہاں وازہ دان لگا یا گیا، انتظار کرتے کرتے عالم دین اور مفسر قرآن پاک کو دیکھ کر راقم شستدار ہو کے رہ گیا۔ یوں لگا کہ انہوں نے اسلام اور تقویٰ کے حضرت موسیٰ کے پُر اسرار صندوق میں مقفل کرکے رکھ دیا ہے اور ہکلے پھلکے سبک خرای سے بیوہ کے ظلمت کدہ کو منورہ کرنے آئے ہیں ۔یہ تماشہ اہل کرم دیکھ بندہ عاصی و خا طی دنگ رہ کر ہی نہیں رہ گیا بلکہ حیرانی اور پریشانی سے دم بخود ہوکے رہ گیا اور تحت الشعور میں حکیم الامت علامہ اقبال ؒ کا یہ شعر آبدار شرارے کی طرح گونج اٹھا۔
خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں
ہوئے ہیں کس قدر فقیہا ن حرم بے توفیق
یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ شرف اس کو آتی ہے جس کاضمیر زندہ ہے ، زندہ ضمیری کا نام ہی ایمان ہے۔ مردہ ضمیر غیرت سے عاری ہوتا ہے، اُسے بار بار آئینہ دکھانے سے بھی اپنی رو سیاہی نظر نہیں آتی ہے۔ اُسے داغہائے سیاہ کاری بھی درخشندہ موتی لگتے ہیں، ایسے امام میں شمر لعین کی خصلت سنگدلی کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے، ایسے ہی ایک امام کو راقم نے 500 رو پئے دیکر لاف ننگا کیا تھا۔
دعا ہے کہ دو چہرے والوں کے خیر و شر سے اللہ ہمیں محفوظ رکھے۔ ( آمین)
رابطہ۔ ڈوڈہ
فون نمبر۔ 9596959045
������