حال و احوال
یوسف شمسی
عالمی سیاست میں بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو طاقتور رہنماؤں کے برسوں پرانے دعوؤں کو ایک لمحے میں بے نقاب کر دیتے ہیں۔ گزشتہ دنوں لاطینی امریکہ سے جڑی پیش رفت نے بھی کچھ ایسا ہی منظر پیش کیا، جب دنیا نے امن، مفاہمت اور جنگ سے گریز کے نعروں کے برعکس ایک بالکل مختلف حقیقت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ انہی حالات نے اس سوال کو جنم دیا کہ کیا عالمی امن کے دعوے محض سیاسی بیانیہ ہیں، یا واقعی ان کے پیچھے کوئی اخلاقی اصول بھی کارفرما ہوتے ہیں؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ طویل عرصے تک خود کو جنگوں کا مخالف اور دنیا میں امن قائم کرنے والا رہنما قرار دیتے رہے۔ وہ بارہا یہ دعویٰ کرتے رہے کہ ان کی پالیسیوں کے باعث کئی بڑی جنگیں ٹل دےدی گئیں اور اسی بنیاد پر وہ خود کو عالمی سطح پر امن کا علمبردار ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ یہاں تک کہ بعض مواقع پر انہیں نوبل انعامِ امن کے لیے موزوں قرار دینے کی باتیں بھی کی گئیں۔ تاہم حالیہ واقعات نے ان تمام دعوؤں پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے اور عالمی برادری کو چونکا دیا۔
لاطینی امریکہ کے ایک تیل سے مالا مال ملک میں ہونے والی اچانک اور غیر معمولی پیش رفت نے یہ واضح کر دیا کہ طاقت کی سیاست آج بھی عالمی فیصلوں پر حاوی ہے۔ ایک منتخب صدر اور ان کے خاندان سے متعلق سامنے آنے والی خبروں نے نہ صرف اس خطے بلکہ پوری دنیا میں تشویش کی لہر دوڑا دی۔اور یہ سوال اُبھر تا جارہا ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں امن، خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی حقیقی حیثیت کیا رہ گئی ہے۔
اکیسویں صدی کی جنگیں اب صرف روایتی محاذوں تک محدود نہیں رہیں۔ معاشی پابندیاں، سفارتی تنہائی، داخلی سیاست میں مداخلت، میڈیا کے ذریعے بیانیہ سازی اور وسائل پر بالواسطہ کنٹرول جیسے طریقے جدید دور کی جنگی حکمتِ عملی بن چکے ہیں۔ وینزویلا جیسے ممالک، جو قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں، اسی لیے عالمی طاقتوں کی خاص توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں، جہاں سیاسی بحران محض داخلی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ عالمی مفادات سے جڑ جاتا ہے۔
قدرتی وسائل، خصوصاً تیل، آج بھی عالمی سیاست کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔ جن ممالک کے پاس یہ وسائل وافر مقدار میں موجود ہیں، وہ یا تو عالمی طاقتوں کے قریبی اتحادی بن جاتے ہیں یا پھر دباؤ، پابندیوں اور مداخلت کا سامنا کرتے ہیں۔ اس تناظر میں وینزویلا کا معاملہ محض ایک ملک کی کہانی نہیں بلکہ ایک ایسی مثال ہے جو دنیا کے دیگر وسائل سے مالا مال ممالک کے لیے بھی لمحۂ فکریہ ہے۔
یہ معاملہ صرف لاطینی امریکہ تک محدود نہیں۔ جب کسی خطے میں طاقت کے ذریعے توازن بدلنے کی مثال قائم ہوتی ہے تو اس کے اثرات ہمسایہ ممالک اور دیگر خطوں تک پھیلتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لاطینی امریکہ کے ساتھ ساتھ ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں بھی بے چینی پائی جاتی ہے۔ توانائی کے بڑے ذخائر رکھنے والے ممالک، خصوصاً ایران، اسی تناظر میں عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، جہاں پہلے ہی سیاسی دباؤ اور معاشی پابندیاں ایک مستقل حقیقت بن چکی ہیں۔
تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ طاقتور ریاستیں اکثر اپنے مفادات کے لیے اصولوں کی نئی تشریحات گھڑ لیتی ہیں۔ بین الاقوامی قوانین کو کبھی انسانی حقوق، کبھی جمہوریت اور کبھی عالمی سلامتی کے نام پر موڑا جاتا ہے۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی ادارے ایسے مواقع پر تشویش اور مذمت کا اظہار تو کرتے ہیں، مگر عملی سطح پر کمزور ممالک کے لیے تحفظ کی ضمانت کم ہی فراہم کر پاتے ہیں۔ نتیجتاً خودمختاری، عوامی مینڈیٹ اور قومی وقار جیسے تصورات محض بیانات اور قراردادوں تک محدود ہو کر رہ جاتے ہیں۔
ان حالات میں یہ مضمون اس بنیادی سوال کے گرد گھومتا ہے کہ اگر امن کے دعوے رکھنے والی طاقتیں بھی طاقت کے استعمال کو جائز سمجھنے لگیں، تو عالمی نظام کس سمت جا رہا ہے؟ کیا دنیا ایک بار پھر اسی دور کی طرف لوٹ رہی ہے جہاں طاقت ہی حق کا تعین کرتی تھی؟ وینزویلا کے بعد اصل تشویش یہ نہیں کہ اگلا ہدف کون ہوگا، بلکہ یہ ہے کہ دنیا کب تک اس طرزِ سیاست کو قبول کرتی رہے گی، جہاں امن کے نعروں کے پیچھے طاقت، وسائل اور مفاد کی سیاست کارفرما ہو۔
رابطہ۔ 9162216560