ملک منظور
طلاق ایک ناپسندیدہ فعل ہے ۔اس پر ممانعت تو نہیں ہے لیکن پرہیز کرنا افضل ہے ۔کہتے ہیں کہ طلاق سے زمین و آسمان ہل جاتے ہیں ۔
طلاق وہ بد فعل ہے جس سے خاندان ٹوٹ جاتے ہیں اور رشتے بکھر جاتے ہیں۔آجکل ہر پلیٹ فارم پر عورتوں پر گھریلو تشدد کا چرچا ہورہا ہے اور ہر کوئی اس ظلم وستم کی نقطہ چینی بھی کررہا ہے ۔عالمی سطح پر یوں تو کئی دن منائے جارہے ہیں جیسے ،عالمی یوم خواتین،یوم ماں اور بیٹیوں کا دن وغیرہ وغیرہ لیکن یہ سب ایک فضول عمل ہے جس میں باتیں بڑی بڑی کی جاتی ہیں اور دکھاوے کے لئے بڑے بڑے پروگرام مرطب کئے جارہے ہیں ۔اس کے باوجود عورتوں کی خراب حالت میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے اور گھریلو تشدد میں خاطر خواہ کمی کے برعکس اضافہ ہی ہورہا ہے ۔اس کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ انصاف کی باتیں وہی کررہے ہیں جو مظالم ڈھا رہے ہیں ۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ایک عورت ہی دوسری عورت کی دشمن ہے کیونکہ جب ایک شادی شدہ مرد کسی خوبصورت عورت کی طرف راغب ہوتا ہے تو وہ عورت یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ آدمی شادی شدہ ہے سےنہ صرف رشتہ بناتی ہے بلکہ بچوں والی ماں کے رشتے کو توڑنے کی بھر پور کوشش بھی کرتی ہے۔ طلاق کا بڑھتا ہوا رجحان ایک سنگین مسئلہ ہے جس پر فوری پابندی کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں جو عذر پیش کیے جاتے ہیں وہ نسبتاً متزلزل اور غیر تسلی بخش ہوتے ہیں ۔ وہ من گھڑت کہانیاں بناتے ہیں یا ان پر جھوٹے الزامات لگاتے ہیں۔ خواتین فطرتاً ایسے شیطانی ہتھکنڈوں سے لڑنے میں شرم محسوس کرتی ہیں اور حقیقی ردعمل پر خاموشی کو ترجیح دیتی ہیں۔ جب کوئی کام نہیں ہوتا تو مرد عورتوں کو بے رحمی سے مارنا شروع کر دیتے ہیں۔ دوسری محبوباؤں نے بہت سے آباد گھروں یا خاندانوں کو برباد کر دیا ہے۔ ایسے میں عورت ہی دوسری عورت کی زندگی میں دشمن کا کردار ادا کرتی ہے۔ اسی طرح جہیز کا لالچ خواتین کی زندگی اجیرن بنا دیتا ہے۔
ہمارے معاشرے میں طلاق شدہ یا مطلوق خواتین کی تعداد بہت زیادہ ہے۔طلاق خواتین اور ان کے بچوں کی ذہنی صحت کو متاثر کرتی ہے۔ جب بھی کوئی طلاق شدہ عورت والدین کے گھر واپس آتی ہے تو وہاں بہوؤں کی طرف سے اس کا استقبال نہیں کیا جاتا، اس لیے یہاں سے ایڈجسٹمنٹ کا مسئلہ شروع ہوتا ہے۔ ایڈجسٹمنٹ کا یہ مسئلہ بہت سی خواتین کو خودکشی جیسے سخت قدم اٹھانے پر اکساتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ایسا نہیں ہونا چاہیے کیونکہ بیٹیاں یا بہنیں ہمارے خاندان کا حصہ ہیں۔ سسرال والوں کے ساتھ رہنا ان کے ہاتھ میں نہیں ہوتا جو اس کی جان کی پرواہ کیے بغیر اسے گھر چھوڑنے پر مجبور کرتے ہیں۔ بھائیوں کی یہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ طلاق یافتہ بہنوں کے ساتھ اچھا سلوک کریں اور ان کو پیار اور عزت دیں۔ اس کے علاوہ ہر عورت کو دوسری عورت کے مسائل کو سمجھنا چاہیے اور مشکل وقت میں اس کی مدد کرنی چاہیے۔ دیکھا گیا ہے کہ زیادہ تر معاملات میں ساس یا دیورانی کے روپ میں عورت ہی دشمن ہوتی ہے جو عورت کی پریشانی کا سبب بنتی ہیں۔ ساس اور بہو کی صدیوں پرانی دشمنی کو فلموں اور سیریلز میں بھی دکھایا جاتا ہے۔ یہ ان کے درمیان تنازعات کی متانت کو ظاہر کرتا ہے۔ خواتین کے ہاتھوں مرد خواتین کی اذیت میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں دو اہم شکار بیویاں اور طلاق یافتہ خواتین ہیں۔ اس برائی کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے خواتین کو اپنا رویہ بدلنا ہوگا۔بیٹی کی جگہ بہو کو تسلیم کرکے ساس گھریلو تشدد روک سکتی ہے اور ماں کی طرح ساس کو پیار دے کر بہو دوسروں کا دل جیت سکتی ہے ۔اگر عورتوں میں قومیت کا جذبہ پیدا ہوجائےگا تو کوئی مرد ظلم ڈھانے کی سوچے گا بھی نہیں ۔ عورتوں کو متحد ہوکر مشکلات کا سامنا کرنا چاہیے ۔ان میں اتحاد کا جذبہ ہونا چاہیے۔ ہر عورت کو دوسری عورتوں کا درد محسوس کرنا چاہیے۔ انہیں ایک دوسرے کو بچانے کے لیے آگے آنا چاہیے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ساسو مائیں اپنے منفی رویے کو بدل لیں تو 60 فیصد مسائل حل ہو جائیں گے اور طلاقوں کی تعداد میں خاطرخواہ کمی آئے گی۔
کسی بھی طلاق کا سب سے زیادہ شکار بچے ہوتے ہیں۔ وہ اپنی تکلیف کی وجہ بھی نہیں جانتے۔ والدین کی جدائی انہیں نفسیاتی طور پر بیمار بنا دیتی ہے۔ ان کی نشوونما پسماندگی کی شکار ہوتی ہے اور گھبراہٹ انہیں اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ وہ مشترکہ محبت اور باہمی احترام سے محروم ہوجاتے ہیں۔ ماؤں کی محبت اور پیار بچوں کے حوصلے بلند کرتے ہیں اور ان کی زندگیوں میں خوشی بھرتے ہیں۔ تاہم، ماں کی غیر موجودگی میں، بچے صحیح طریقے سے نشوونما نہیں پاتے۔ وہ پشیمان رہتے ہیں اور اپنے درد کو بیان کرنے سے قاصر ہوجاتے ہیں۔ ماں کی محبت ہمیشہ سے اپنے بچوں کے لیے ایک پائیدار قوت رہی ہے، اور ماں کی سب سے بڑی خوشی ان کی دیانتداری، اس کی شفقت اور اس کی ذہانت کو اپنے بچوں میں جھلکتی دیکھنا ہے۔ جدائی بچوں کی خوشگوار زندگیوں کو تباہ کر دیتی ہے۔
غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ نقصان ہمارے تصور سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ان بچوں کے مقابلے میں جن کے والدین شادی شدہ رہتے ہیں، طلاق یافتہ جوڑوں کے بچوں کو زیادہ تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے بچے جسمانی امراض کا آسان ہدف ہوتے ہیں، بشمول دمہ، سر درد، بولنے میں رکاوٹ، اور یہاں تک کہ کینسر، فالج، اور دل کا بحران کے شکار ہوجاتے ہیں
واحد والدین والے بچوں کے مقابلے میں یکجا خاندانوں کے بچوں میں نفسیاتی مسائل بہت زیادہ کمزور ہوتے ہیں ۔طلق شدہ والدین کے بچوں میں کلینیکل ڈپریشن کی زیادہ شرح پائی جاتی ہے۔ ان بچوں میں دوسرے بچوں کے مقابلے میں خودکشی کی کوشش کرنے کا امکان دوگنا ہوتا ہے۔ ذہنی نشوونما میں واضح کمی آجاتی ہے۔ دیگر متفرق مسائل جیسے اٹیچمنٹ کے مسائل، غلط اور مضر صحت چیزوں کا استعمال، جنسی بے راہ روی، اور موٹاپا بھی ان پر حاوی ہیں۔
سوتیلی ماں یا سوتیلا باپ سگےماں یا باپ کی جگہ نہیں لے سکتے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ والدین کی جدائی کی وجہ سے بہت سے بچے منشیات کے عادی یا مجرم بن جاتے ہیں۔
مختصر یہ کہ مردوں کو اپنے طریقے بدلنے ہوں گے، اور عورتوں کو، خاص طور پر ساس کو اپنا رویہ بدلنا چاہیے۔ طلاق کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے اورآپسی صلح پر زور دیا جانا چاہیے۔ سزا دینے سے معاف کرنا بہتر ہے۔ شادی کے بعد عورت کا وہی حق ہے جو بیٹی کا ہے۔ طلاق کی اجازت ہے لیکن طلاق خدا کو ناپسند ہے۔ طلاق خاندانوں اور دیگر رشتوں میں بھی خلل ڈالتی ہے۔ لہٰذا کھلتے گلابوں یعنیمعصوم بچوں کے خاطر طلاق سے پرہیز کریں۔ کہا جاتا ہے کہ ’’پہلی بیوی نعمت ہے اور دوسری آفت ہے‘‘۔
وکالت کرنے والوں کی بھی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ آنکھیں بند کرکے طلاق کا مسودہ تیار نہ کریں ،انہیں اس دستاویز کے تباہ کن اثرات کو ذہن میں رکھنا چاہیے ۔بعض اوقات مرد کسی معمولی بات پر غصے میں آکر اپنی بیوی کو طلاق دینے کا فیصلہ کر لیتا ہے ۔ وکلاء آسانی سےایک خوبصورت خاندان کو زندگی بھر تباہ ہونے سے بچا سکتے ہیں۔پیسہ ہمیشہ خوشی نہیں دے سکتا لیکن دعائیں دے سکتی ہیں۔آو طلاق سے پاک معاشرے کی تعمیر کریں۔
(رابطہ۔9906598163)
طَلاق کے منفی اَثرات