جموں//جموں یونیورسٹی کے پانچ طالب علموں کی معطلی کے حکم کو واپس لینے کے بعدمتعدد طلبأ ایسوسی ایشنوں نے اپنی ہڑتال ختم کردی ہے۔یونیورسٹی کے ترجمان نے بتایا کہ اس ہڑتال کو ختم کرنے کے لئے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے تشکیل دی گئی ٹیم اور طلبأ کے نمائندوں کے درمیان ہوئی بات چیت کے بعد طلبأ ایسوسی ایشنوں نے اپنی ہڑتال واپس لینے کا فیصلہ لیا ہے۔قبل ازیںجموںیونیورسٹی میںطلاب کے احتجاج اورادارے کے تدریسی اور غیر تدریسی ملازمین کی کام چھوڑہڑتال سے کام کاج ٹھپ ہو کر رہ گیا۔احتجاج کے دوران طلباء مطالبہ کر رہے تھے کہ گزشتہ ماہ ڈین سٹوڈینٹ ویلفیر پروفیسر ستنام کور نے چار بچوں کو یونیورسٹی سے نکالنے کا فیصلہ لیااور ان کے مستقبل کو عمر بھر کے لئے سیاہ بنا دینے کا قابل مذمت رویہ اختیار کیااس فیصلے کو واپس لینے کے لئے طلبہء نے احتجاج جاری رکھا ۔یہ طلباء 22مارچ کو ہوسٹلوں میں وائی فائی اور لیبریری کی صہولیات کے لئے ڈین سٹوڈینٹ ویلفیر دفتر کے باہر احتجاج کر رہے تھے اور ان پر دفتر میں توڑ پھوڑ کرنے کا الظام لگا کر یونیورسٹی سے خارج کیا گیا اور ان پر پولیس کیس بھی درج کیا گیا ۔کام کاج معتل رکھنے کا فیصلہ ڈین ریسرچ سٹیڈیز نے مختلف سٹوڈینٹ تنظیموں کے صدور سے ملنے کے بعد لیا انہوں نے ناراضگی جتاتے ہوئے کہا کہ کچھ طلباء نے پر تشدداحتجاج کے دوران ملازمین کو ادارے میں داخل ہونے سے روکا اور ادارے میں داخل ہونے کے تمام راستے بند کر دیئے۔اس دوران انہوں نے ذرائع سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کے تمام امتیحانات اعلان شدہ نوٹس کے تحت لئے جائیں گے۔