مختار احمد قریشی
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ یہ صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ صفائی کو اسلام میں غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ یہاں تک کہا گیا کہ صفائی آدھا ایمان ہے۔ یہ جملہ اپنی معنویت میں بہت گہرا پیغام رکھتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ صفائی صرف ظاہری عمل نہیں بلکہ ایمان کا حصہ ہے۔اسلام انسان کو پاکیزگی کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ پاکیزگی جسمانی بھی ہے اور روحانی بھی۔ ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے جسم، لباس اور ماحول کو صاف رکھے۔ وضو، غسل اور طہارت کے احکامات اسی مقصد کے تحت دیے گئے ہیں۔ دن میں پانچ مرتبہ وضو کرنا انسان کو صفائی کا عادی بناتا ہے۔ یہ صرف عبادت کی تیاری نہیں بلکہ صحت کا ذریعہ بھی ہے۔ ایک صاف ستھرا انسان بیماریوں سے زیادہ محفوظ رہتا ہے۔ گندگی جراثیم کو جنم دیتی ہے۔ یہ جراثیم مختلف بیماریوں کا سبب بنتے ہیں۔ اسلام ان نقصانات سے بچانے کے لیے پہلے ہی صفائی کی تلقین کرتا ہے۔ اس طرح اسلام ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے۔ اسلام ہمیں اپنے گھروں کو صاف رکھنے کا حکم دیتا ہے۔ کچرا ادھر ادھر پھینکنا منع کیا گیا ہے۔ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا بھی صدقہ قرار دیا گیا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام میں صفائی ایک سماجی ذمہ داری بھی ہے۔ ہر فرد کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اگر ہر فرد اپنی ذمہ داری سمجھے تو پورا معاشرہ صاف ہو سکتا ہے۔ بدقسمتی سے ہم اکثر صفائی کو دوسروں کی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ ہم اپنے اردگرد گندگی پھیلا دیتے ہیں اور پھر حکومت کو الزام دیتے ہیں، یہ رویہ درست نہیں۔ اسلام ہمیں خود احتسابی کی تعلیم دیتا ہے۔
مسلمانوں کا کردار اس حوالے سے بہت اہم ہے۔ ایک مسلمان کو دوسروں کے لیے مثال بننا چاہیے۔ اگر مسلمان خود صفائی کا خیال رکھیں گے تو دوسرے لوگ بھی متاثر ہوں گے۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی عملی زندگی میں اسلامی تعلیمات کو شامل کریں۔ صرف باتیں کرنے سے کچھ نہیں ہوگا، عمل ضروری ہے۔تعلیمی اداروں میں صفائی کی تعلیم دینا بھی ضروری ہے۔ بچوں کو شروع سے ہی صفائی کی عادت ڈالنی چاہیے۔ اساتذہ کا کردار یہاں اہم ہے، وہ بچوں کو عملی طور پر صفائی کی اہمیت سمجھا سکتے ہیں۔ اگر بچپن میں یہ عادت پیدا ہو جائے تو پوری زندگی قائم رہتی ہے۔ مسجد ایک مقدس جگہ ہے، یہاں آنے والا ہر شخص صفائی کا خیال رکھتا ہے۔ اگر ہم اسی جذبے کو اپنے گھروں اور گلیوں میں لے آئیں تو حالات بدل سکتے ہیں۔
آج کے دور میں ماحولیاتی آلودگی ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ ہوا، پانی اور زمین سب متاثر ہو رہے ہیں۔ اسلام ان سب چیزوں کی حفاظت کا درس دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان تعلیمات کو سمجھیں اور ان پر عمل کریں، یہ صرف دینی فریضہ نہیں بلکہ انسانی ضرورت بھی ہے۔میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز کا استعمال بھی صفائی کے پیغام کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ لوگ جب تک شعور حاصل نہیں کریں گے تب تک تبدیلی ممکن نہیں۔ یہ بات واضح ہے کہ صفائی صرف ایک عمل نہیں بلکہ ایک سوچ ہے۔ ہمیں اس سوچ کو اپنی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ ایک صاف فرد، ایک صاف گھر اور ایک صاف معاشرہ ہی ایک بہتر قوم کی پہچان ہے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھیں اور صفائی کو اپنی پہچان بنائیں۔یہ ذمہ داری صرف محدود دائرے تک نہیں رہتی بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں پھیلتی ہے۔ ایک مسلمان بازار میں ہو، دفتر میں ہو یا سفر میں اسے ہر جگہ صفائی کا خیال رکھنا چاہیے۔ عوامی مقامات پر گندگی پھیلانا نہ صرف اخلاقی کمزوری ہے بلکہ دینی تعلیمات کے خلاف بھی ہے۔ ہمیں یہ احساس پیدا کرنا ہوگا کہ ہر جگہ ہماری اپنی ہے۔ اگر ہم خود اس پر عمل کریں گے تو دوسروں کے لیے مثال بنیں گے۔ یہی اسلام کا اصل پیغام ہے کہ اپنے عمل سے دوسروں کو متاثر کیا جائے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ ہم صفائی کے تصور کو صرف انفرادی عمل تک محدود نہ رکھیں۔ جب ایک محلہ مل کر صفائی کا نظام قائم کرتا ہے تو نتائج واضح نظر آتے ہیں۔ گلیاں صاف ہوتی ہیں، بیماریاں کم ہوتی ہیں، لوگوں میں احساس ذمہ داری پیدا ہوتا ہے۔مقامی سطح پر کمیٹیاں بنائی جا سکتی ہیں، یہ کمیٹیاں صفائی کے نظام کی نگرانی کریں۔ کچرے کے لیے مخصوص جگہیں مقرر کی جائیں۔ وقت پر صفائی کا اہتمام ہو۔ اگر ہر علاقہ خود کو منظم کرے تو بڑے پیمانے پر تبدیلی ممکن ہے۔مساجد، مدارس اور اسکول اس شعور کو پھیلانے کے بہترین مراکز ہیں۔ یہاں سے صفائی کا پیغام عام کیا جا سکتا ہے۔ خطبات، تقاریر اور تعلیمی سرگرمیوں کے ذریعے لوگوں کو عملی طور پر تیار کیا جا سکتا ہے۔ جب دین اور عمل ایک ساتھ چلیں گے تو اثر زیادہ ہوگا۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض اوقات لوگ صفائی کے اصول جانتے ہیں مگر ان پر عمل نہیں کرتے۔ اس کی وجہ عادت اور لاپرواہی ہے۔ اس رویے کو بدلنے کے لیے مسلسل یاد دہانی ضروری ہے۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ صفائی صرف آج کے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی ضروری ہے۔ اگر ہم ماحول کو آلودہ کریں گے تو اس کا اثر ہمارے بچوں پر پڑے گا۔ ایک ذمہ دار قوم وہی ہوتی ہے جو مستقبل کے بارے میں سوچتی ہے۔
دیہات اور شہروں میں صفائی کے مسائل مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں۔ دیہات میں آگاہی کی کمی زیادہ ہوتی ہے۔ شہروں میں آبادی کا دباؤ زیادہ ہوتا ہے۔ دونوں جگہوں پر الگ حکمت عملی اپنانا ضروری ہے۔ لیکن اصول ایک ہی ہے، صفائی ہر جگہ لازم ہے۔یہ وقت ہے کہ ہم اپنی ترجیحات کو درست کریں، صفائی کو ثانوی حیثیت نہ دیں، اسے روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں۔ صبح گھر سے نکلتے وقت یہ سوچیں کہ ہم اپنے اردگرد کو کیسے بہتر بنا سکتے ہیں،ایک چھوٹا قدم بھی اہم ہوتا ہے۔ راستے میں پڑا کچرا اٹھانا، دوسروں کو نرمی سے سمجھانا اور خود مثال بننا، یہ سب عملی اقدامات ہیں۔ یہی اقدامات مل کر ایک بڑی تبدیلی لاتے ہیں۔ ہمیں اپنے ایمان اور عمل کے درمیان تعلق کو مضبوط کرنا ہوگا۔ جب ہم صفائی کو ایمان کا حصہ سمجھ کر اپنائیں گے تو یہ ہماری شناخت بن جائے گی۔ ایک ایسا معاشرہ وجود میں آئے گا جہاں صفائی صرف ضرورت نہیں بلکہ ثقافت بن جائے گی۔
(مصنف پیشہ سے ایک استاد ہیں اور ان کا تعلق بونیاربارہمولہ سے ہے)
رابطہ۔8082403001