روس کے صدر ولادیمیر پوتن گزشتہ چھ دسمبر کو نئی دہلی تشریف لائے۔ اس دورے کے دوران انہوں نے وزیر اعظم مودی سے ملاقات کی اور ان کے سینئر وزرا2+2کے فارمولے کے مطابق اپنے ہندوستانی ہم منصوبوں یعنی وزیر دفاع اور وزیر خارجہ سے مذاکرات کیے۔ 2+2کا فارمولا ابھی تک امریکی اور ہندوستانی وزرا کے درمیان ہی ہوتا چلا آیا ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ ہندوستان کسی دوسرے ملک اور وہ بھی ایک سابقہ سپر پاور کے عہدیداروں کے ساتھ اس طریقے کی بات چیت کررہا ہے۔ ان ملاقاتوں کی نوعیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ملک ان مذاکرات کو کتنی اہمیت دے رہے ہیں۔
دونوں ملکوں کے تعلقات کی گہرائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کووڈ وبا کے دوران سفر پر لگائی گئی پابندیوں کی وجہ سے صدر پوتن نے نہ تو UNGAکے اجلاس میں شرکت کی اور نہ ہی اپنے پہلے سے طے شدہ دورئہ چین پر روانہ ہوئے، بلکہ اس سال انھوں نے اپنا سب سے پہلا سفر ہندوستان آنے کے لیے کیاجس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو کتنی اہمیت دیتے ہیں اور وزیر اعظم مودی سے مل کر وہ خاص طور سے علاقائی اور عالمی مسائل پر تبادلہ خیال کرنا چاہتے تھے۔اس کے علاوہ کرونا وبا کے دوران روس نے اپنے یہاں تیار Sputnikٹیکے کو سب سے پہلے ہندوستان بھیجا اور ان پر اپنا بھروسہ ظاہر کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے ہندوستانی رکن پارلیمان اور مختلف ریاستوں کے رکن اسمبلیوں کے لیے Sputnik ٹیکے لگانے کا اہتمام کیا جو یہ ظاہر کرتا تھا کہ ہندوستانی قیادت دوسرے ملکوں کے بجائے روس میں بنائے گئے ٹیکوں پر زیادہ بھروسہ کرتی ہے۔
اس کے علاوہ وزیر اعظم مودی اور صدر پوتن کے درمیان جو ذہنی آہم آہنگی ہے وہ بھی کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ سن 2014میں وزیر اعظم بننے کے بعد مودی اور پوتن کے درمیان 19ملاقاتیں ہوچکی ہیں اور نئی دہلی میں یہ ان کی 20ویں ملاقات تھی۔ اس کے علاوہ کووڈ کے ماحول میں عالمی سفر پر پابندیوں اور عالمی رہنماؤں کی دوسرے ملکوں کے سفر کم ہونے کے باوجود صدر پوتن نے اپنا پہلا سفر ہندوستان آنے کے لیے کیا ہے۔اس کے علاوہ ایک موقع پر وزیر اعظم مودی بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ ولادیمیر پوتن کا نام ہندوستان کا بچہ بچہ جانتا ہے۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان بات چیت کا محور خصوصی طور پر افغانستان کے تازہ حالات اور وہاں کی صورت حال کو مستحکم کرنے کے علاوہ علاقائی دفاعی صورت حال خاص طور پر ہند -بحرالکاہل کے کواڈ معاہدے میں ہندوستان کی شمولیت اور ماحولیاتی تبدیلی کا مقابلہ کرنے جیسے موضوع رہے۔ لیکن سب سے اہم موضوع جو دونوں رہنماؤں کے درمیان طے کیا گیا وہ تھا روس کے ذریعہ ہندوستان کو روس میں تیار جدید ترین اسلحہ کی فروخت۔کواڈ میں ہندوستان کی شمولیت کے معاملے پر روس نے شروع میں اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ اس معاہدے کے ذریعہ امریکہ ہندوستان کی دفاعی طاقت کا فائدہ اپنے مفاد کے حصول کے لیے کرنا چاہتا ہے۔ مجموعی طور پر دونوں رہنماؤں نے اس ایک روزہ دورے کے دوران دونوں ملکوں کے تعلقات کو اور وسیع تر کرنے اور آج کے تقاضوں کے مطابق انھیں پورے کرنے کی خاطر 28معاہدوں اور MoU پر دستخط کیے، اور امید ہے کہ جلد ہی کسی بڑے دفاعی سودے کے بارے میں بھی انکشاف ہوگا۔جو معاہدے کیے گئے ہیں وہ دونوں ملکوں کے درمیان اشتراک اور شراکت داری کو مختلف شعبوں میں اور آگے لے جائیں گے جس سے کہ یہ 70سال پرانی دوستی اور زیادہ تقویت حاصل کرسکے گی۔
ہند-روس دفاعی تعاون
دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی سازو سامان کی فروخت کوئی نئی بات نہیں ہے۔ سرد جنگ کے دوران روس نے امریکی پابندیوں کی وجہ سے ہندوستان کو کثیر مقدار میں اس کی فوج، بحریہ اور فضائیہ تینوں کو روسی ساخت کے مختلف سازوسامان مہیا کرائے، جبکہ امریکہ ان کی فروخت کے سلسلے میں ہمیشہ حیل و حجت سے کام لیتا رہا۔
ہندوستانی اور روسی محکمہ دفاع کے ذرائع کے بقول اس دورے کے دوران روس ہندوستان کو اپنے جدید ترین میزائل فروخت کرنے کے سودے کو پکا کرنا چاہتا ہے۔ ذرائع کے مطابق روس اس مرتبہ ہندوستان کو جدید ترین S-500اور S-550 میزائل فروخت کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس مہینے S-400 میزائل کی پہلی کھیپ ہندوستان پہنچ جائے گی۔ روس کی جانب سے ہندوستان کو S-400میزائل فروخت کرنے پر امریکہ نے شدید احتجاج کیا تھا اور کہا تھاکہ اس کے نتیجے میں وہ ہندوستان پر CAATSA قانون کے تحت پابندیاں بھی عائد کرسکتا ہے۔لیکن اس معاملے پر ہندوستان نے سخت موقف اپناتے ہوئے امریکہ کو یہ واضح کرادیا تھا کہ یہ معاہدہ CAATSA قانون کے عمل میں آنے سے پہلے ہی طے پا چکا تھا۔
یہاں ایک دوسری بات بھی قابلِ غور ہے کہ جہاں ایک جانب وزیر اعظم مودی کے دورِ اقتدار میں ہندوستان کے تعلقات امریکہ سے ذرا بہتر ہوئے ہیں ، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان کبھی بھی دفاعی شعبے میں کوئی بڑا سودا طے نہیں پایا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان نے 1991 سے اب تک یعنی گزشتہ تیس سالوں کے عرصے میں روس سے 70بلین ڈالر کا دفاعی سازوسامان خریدا ہے۔ اور صرف 2018-2019میں 15بلین ڈالر کا سامان خریدا ہے وہیں امریکہ سے اس نے گزشتہ 15سال کے عرصے میں صرف 18بلین ڈالر کا دفاعی ساز وسامان خریدا ہے اور وہ بھی زیادہ تر چھوٹا دفاعی سازوسامان اور ایسا کوئی بھی اسلحہ امریکہ نے ہندوستان کو فروخت نہیں کیا ہے جس سے کہ اس کی دفاعی طاقت میں کوئی اضافہ ہوسکے،جیسے کہ جنگی ہوائی طیارے یا جنگی بحری جہاز۔
اس کے علاوہ دونوں ملکوں کے درمیان ہوائی دفاعی نظام کے دیگر اسلحے کی فروخت ، جن کی مالیت 1.5بلین ڈالر ہے، اس کے سلسلے میں مذاکرات آخری دور میں ہے، اور ساتھ ہی MiG-29, 21 اور Sukhoi- 30, 12 جنگی طیاروں کا معاہدہ اگلے سال تکمیل پالے گا، روس نے ہندوستان کی امیٹھی آرڈینس فیکٹری میں AK-203, 671,000 کلاشنکوف رائفلز بنانے کا بھی سودا طے کردیا ہے۔
ہند-روس باہمی تعلقات
دونوں ملکوں کے درمیان رشتوں کی گہرائی اور وسعت کا اندازہ وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی جولائی میں ماسکو میں دی گئی تقریر سے لگایا جاسکتا ہے جس میں کہ انھوں نے کہا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تعلقات دوسری جنگِ عظیم کے بعد کی دنیا کے سب سے مستحکم اور تاریخی رشتے رہے ہیں اور شاید اسی وجہ سے دیگر ممالک ان رشتوں کی گہرائی نہیں سمجھ پاتے اور انھیں عام رشتوں کی طرح لیتے ہیں اور ان کی اصل نوعیت سے غافل رہتے ہیں۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ یہ تعلقات اتنے لمبے عرصے تک قائم رہے ہیں اور وقت کے ساتھ ان میں پختگی اور استحکام میں اضافہ ہوتا چلا جارہا ہے۔
دراصل، روس نے ہندوستان کی آزادی کے بعد سے ہی اس کی ہر شعبے یعنی زراعت، تعلیم، ٹکنالوجی، کانکنی، بڑی صنعتیں قائم کرنے، بجلی پیدا کرنے، اپنی فوجوں کو طاقت ور بنانے غرض کہ ترقی کے ہر راستے پر اس کی مدد کی اور یہ تعلقات کمیونسٹ روس کا شیرازہ بکھر جانے کے بعد بھی جاری اور قائم رہے۔ دوسرے چونکہ شروع دن سے ہی ہندوستانی افواج روسی ساخت کے اسلحے کے استعمال کی عادی تھی اس لیے یہ شراکت داری وقت کے ساتھ اور زیادہ مضبوط ہوتی چلی گئی۔ تیسرے ہندوستان روس کی وجہ سے دوسرے اسلحہ فروخت کرنے والے ممالک کے ساتھ سودے بازی بھی کرسکتا ہے اور روس کو معلوم ہے کہ کثیر مقدار میں زر مبادلہ حاصل کرنے کے لیے ہندوستان ایک اہم خریدار ہے اور اسی وجہ سے اس نے بعض دفاعی سازوسامان تیار کرنے کی ٹیکنالوجی بھی ہندوستان کو مہیا کرانا شروع کردی ہے، جس کے لیے امریکی کمپنیاں کبھی بھی تیار نہیں ہوتیں اور ساتھ ہی روسی اسلحہ امریکی اسلحہ سے سستا بھی ہوتا ہے۔ سب سے اہم بات ہے کہ اس شراکت کے لیے روس نے کبھی بھی ہندوستان سے کوئی خصوصی رعایت یا اپنے لیے روسی فوجی اڈے تعمیر کرنے یا خفیہ معلومات حاصل کرنے کے کبھی دباؤ نہیں ڈالا۔مزید یہ کہ روس کی جانب سے ہندوستان کو جلد ہی کسی بحری جنگی جہاز اور جوہری آبدوز مہیا کرانے کی بابت بات چیت چل رہی ہے۔
انھیں سب بنیادی باتوں کی وجہ سے امید ہے کہ صدر پوتن کا دورہ دونوں ملکوں کے باہمی مفاد میں رہے گا اور پرانے رشتوں کو مزید مستحکم اور نتیجہ خیز بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔
(مضمون نگارسینئر سیاسی تجزیہ نگار ہیں ۔ ماضی میں وہ بی بی سی اردو سروس اور خلیج ٹائمز ،دبئی سے بھی وابستہ رہ چکے ہیں۔)
www.asad-mirza.blogspot.com