میر شوکت
کبھی ایسا بھی وقت تھا کہ جب صبح سویرے اخبار کے صفحات پر نگاہ پڑتی تھی تو یوں لگتا تھا جیسے کسی معزز ضمیر کی پکار کانوں میں رس گھول رہی ہو۔ ہر خبر، ہر سطر، ہر تصویر میں ایک جذبہ چھپا ہوتا تھا، ایک درد، ایک اخلاص۔ صحافت محض پیشہ نہیں، ایک عبادت تھی۔ صحافی وہ درویش ہوتے تھے جو تخت کے سامنے کلمہ حق کہنے کی جسارت رکھتے تھے۔ وہ نہ اشتہار سے مرعوب ہوتے تھے، نہ اقتدار کی دہلیز پر سجدہ ریز ہوتے تھے۔ ان کے قلم میں جو سیاہی بہتی تھی، وہ دراصل عوام کے آنسوؤں سے کشید کی گئی ہوتی۔ ان کے کیمرے کی آنکھ گواہ تھی اس سچائی کی جو حاکموں کی نیند حرام کر دیتی تھی۔ وہ لفظ جو اخبار کے سرورق پر چھپتے، گویا پتھر پر لکیر تھے جنہیں کوئی طاقت مٹا نہ سکتی تھی۔ وہ صحافی جو راتوں کو جاگ کر سچ کی تلاش میں نکلتے، وہ رپورٹر جو گلیوں میں پھرتے ہوئے مظلوم کی آہ سنتے، وہ ایڈیٹر جو خبر کو چھاپنے سے پہلے اپنے ضمیر سے پوچھتے،یہ سب ایک ایسی روشنی تھے جو معاشرے کے اندھیروں کو چیر دیتی تھی۔
مگر اب؟ اب معاملہ کچھ یوں ہے جیسے خبر ایک واہیات سازش بن چکی ہو، جیسے صحافت ایک نازیبا تماشا ہو اور کیمرہ صرف اسی طرف گھومتا ہو ،جہاں سے اشتہار آتے ہیں یا اقتدار کی چمک دکھائی دیتی ہے۔ اینکرز کے چہروں پر سجتی مسکراہٹیں دراصل مردہ ضمیر کی علامت بن چکی ہیں۔ وہ بولتے ہیں تو یوں نہیں کہ سچ بول رہے ہوں بلکہ یوں کہ جیسے کسی نے ان کے گلے میں چاپلوسی کی بانسری تھما دی ہو۔ ان کے لہجے میں تحقیق نہیں تحقیر ہے۔ ان کے سوالات میں تجسس نہیں تذلیل ہے۔ اب صحافت’بحث‘ نہیں بلکہ ’بھڑاس‘ ہے، خبر’اطلاع‘ نہیں’اکساہٹ‘ ہے۔ یہ وہ بازار ہے جہاں سچ کی نیلامی ہوتی ہے، جہاں ضمیر کی بولی لگتی ہے اور جھوٹ کی قیمت سب سے بلند ہوتی ہے۔یوں لگتا ہے جیسے ہر نیوز چینل اب ایک مکروہ دربار ہے، جس میں ہر اینکر ایک خوشامدی ہے اور ہر تجزیہ کار ایک درباری شاعر۔ بس فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں قصیدے لفظوں میں کہے جاتے تھے، یہاں چیخوں میں۔ آج اگر کوئی سوال کرے تو اسے’غدار‘،’ملک دشمن‘،’ٹکڑے ٹکڑے گینگ‘ کے خطاب دیے جاتے ہیں اور اگر کوئی خاموش رہے تو اسے’محب وطن‘ مانا جاتا ہے۔ گویا وفاداری اب ضمیر سے نہیں خاموشی سے ناپی جاتی ہے۔ یہ وہ زہریلا ماحول ہے جہاں سچ کو گھٹن بھری راتوں میں دفن کیا جاتا ہے اور جھوٹ کو سورج کی روشنی میں سجایا جاتا ہے۔
جہاں کبھی خبر کا مطلب تھا ’جو ہوا، وہ بتاؤ‘ وہاں آج اس کا مطلب ہے ’جو حکومت چاہے، وہ دکھاؤ‘۔ جہاں کبھی صحافت کا اصول تھا’سچ ہر قیمت پر‘، وہاں آج اصول ہے، TRP ہر قیمت پر‘۔ جہاں کبھی سوال تھا ’عوام کے حق میں‘، وہاں اب سوال ہے ’اپوزیشن کے خلاف‘۔ وہی میڈیا جو ماضی میں ننگے پاؤں سچ کی تلاش میں نکلتا تھا، آج کارپوریٹ قالینوں پر سچ کو دفن کر چکا ہے۔ وہی چینل جو پہلے مظلوم کی آواز ہوا کرتے تھے، آج ظالم کا ہمنوا بن چکے ہیں۔ ہر خبر میں جھوٹ کا مسالا، نفرت کا تڑکا اور حب الوطنی کا جعلی لباس پہنا دیا جاتا ہے۔ مہنگائی کو’عالمی بحران‘ کا نام دیا جاتا ہے، بے روزگاری کو’پچھلی حکومتوں کی دین‘ اور اقلیتوں پر ظلم کو’قومی سلامتی‘ کا جواز۔ سچ کو اس طرح لپیٹا جاتا ہے کہ وہ پہچانا نہ جائے اور جھوٹ کو اس شان سے پیش کیا جاتا ہے کہ وہی ایمان بن جائے۔
صحافت اب گویائی نہیں گویندگی بن چکی ہے۔ ایک ایسی گویندگی جو حاکم کے ہونٹوں سے نکلتی ہے، مگر عوام کے کانوں میں زہر بن کر ٹپکتی ہے۔ جب اینکر اپنی آنکھوں میں سچ کی جگہ تعصب کا سرمہ لگاتے ہیں، جب رپورٹر زمینی حقائق کے بجائے وزارتی بریفنگ پڑھتے ہیں، جب ڈیسک پر بیٹھے پروڈیوسر یہ طے کرتے ہیں کہ’خبر وہ نہیں جو ہوئی بلکہ وہ ہے جو دکھائی جائے‘تو یقین جانیے جمہوریت کا جنازہ نکل چکا ہوتا ہے، بس دفنانا باقی ہوتا ہے۔ یہ وہ دھوکہ باز آئینہ ہے جو حقیقت کو مسخ کرتا ہے، وہ بےشرم ہتھوڑا جو ضمیر کی ہڈیوں کو توڑتا ہے، وہ فریب کار طوفان جو سچائی کی کشتی کو ڈبو دیتا ہے۔
اب صحافت ایک واہیات تماشا بن گئی ہے، جہاں کردار سچے نہیں اداکار ہوتے ہیں۔ اسٹوڈیو ایک اسٹیج ہے اور ہر اینکر ایک اداکار جو عوام کی عقل کو نشانہ بناتا ہے۔ ہر تجزیہ کار ایک مداری، جو الفاظ کے جادو سے سچ کو غائب کر دیتا ہے۔ اب خبر خبر نہیں رہتی ،وہ ایک اسکرپٹ ہے، جسے کہیں کسی اقتدار کے کمرے میں لکھا جاتا ہے۔ یہ وہ منافع بخش صنعت ہے جو جھوٹ کو فروغ دیتی ہے جو نفرت کو ہوا دیتی ہے جو شعور کو کچلتی ہے۔ واٹس ایپ یونیورسٹی نے عوام کے اذہان کو جس طرح ایک’فارسہ‘ بنا دیا ہے، وہ جدید صحافت کا سب سے افسوسناک پہلو ہے۔ ایک ایسا گھٹن بھرا ماحول بنایا گیا ہے جس میں دلیل کی موت ہو چکی ہے، تحقیق کا جنازہ نکل چکا ہے اور شعور کو زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے۔ جو بولے وہ غدار، جو چپ رہے وہ محب وطن۔ یہاں عقل نہیں عقیدت بولتی ہے، یہاں منطق نہیںمغالطے چلتے ہیں۔
یہ معاشرہ ایک عظیم تھیٹر بن چکا ہے۔ اس کی اسکرپٹ اقتدار میں لکھی جاتی ہے، ہدایت کاری میڈیا کرتا ہے اور تماشائی وہی عوام ہیں جو کبھی تالیاں بجاتے ہیں، کبھی سوشل میڈیا پر ’دیش بھکت‘ بن کر اپنے ہی ضمیر پر تھپڑ مارتے ہیں۔ یہاں سچائی ایک لطیفہ ہے، سوال ایک جرم، تحقیق ایک سازش اور صحافت ایک مجرم۔ یہ وہ بےحس نظام ہے جہاں جھوٹ کی عمر ایک وائرل ویڈیو تک ہوتی ہے اور سچ کی قیمت ایک ٹویٹ سے زیادہ نہیں۔
ایسے میں امید کہاں ہے؟ امید وہاں ہے جہاں اب بھی کچھ نڈر صحافی موجود ہیں جو حکومت سے سوال کرنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ امید وہاں ہے جہاں اب بھی کچھ بےباک کالم نگار ہیں جو اشتہار کے عوض اپنا قلم نہیں بیچتے۔ امید وہاں ہے جہاں ایک عام نوجوان، ایک پرانی سچائی کو فیس بک پر پوسٹ کرنے کے لیے ڈرتا نہیں۔ امید وہاں ہے جہاں ایک ماں اپنے بچے کو سچ بولنے کی تعلیم دیتی ہے، چاہے اس کی قیمت کتنی ہی بھاری کیوں نہ ہو۔ امید وہاں ہے جہاں چند بیدار ضمیر اب بھی اقتدار کے سامنے جھکتے نہیں جو جھوٹ کے طوفان میں سچ کی شمع جلائے رکھتے ہیں جو خاموشی کے عفریت سے لڑتے ہیں جو فریب کے اندھیرے میں بصیرت کا چراغ روشن کرتے ہیں۔
جب تک کچھ چہرے ایسے ہیں جن پر سچائی کا نور جھلکتا ہے، جب تک کچھ آوازیں ایسی ہیں جن میں ضمیر کی گھن گرج سنائی دیتی ہے، جب تک کچھ انگلیاں ایسی ہیں جو نہ صرف لکھتی ہیں بلکہ کٹنے کا حوصلہ بھی رکھتی ہیں،تب تک امید زندہ ہے۔ متاعِ لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے کہ خونِ دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے۔ قلم کی وہی انگلیاں ہمیں پھر سے یاد دلانی ہوں گی ،جو لکھتی تھیں تو ایوانوں میں زلزلہ آتا تھا، جو چیختی نہیں تھیں، مگر جن کی تحریر کی گونج سنائی دیتی تھی۔ جب میڈیا اپنا آئینہ ہونا بھول جائے تو ہمیں خود کو شیشہ بنانا پڑتا ہے۔ جب قوم اپنا چہرہ دیکھنے سے ڈرے تو ضمیر کو شعلہ بننا پڑتا ہے۔ جب ہر طرف اندھیرا چھا جائے تو روشنی ہم خود بننا پڑتی ہے۔
سچ کی تلاش، سوال کی جرأت اور شعور کی بیداری ،یہی وہ تین مشعلیں ہیں جو اس طوفان میں بھی ہمیں منزل دکھا سکتی ہیں۔ یہ سفر مشکل ہے، تھکا دینے والا ہے، زخموں سے لبریز ہے،مگر لازم ہے۔ کیونکہ اگر ہم آج نہ جاگے، تو کل ہمیں نہ نیند آئے گی، نہ خواب۔ اور جن قوموں کے خواب مر جائیں، ان کے مقدر میں صرف غلامی لکھ دی جاتی ہے۔ ہمیں اس آگ کو پھر سے سلگانا ہوگا جو کبھی صحافت کے چراغ سے بھڑکتی تھی۔ ہمیں وہ آئینہ دوبارہ اُٹھانا ہوگا جو جھوٹ کو ننگا کرے اور سچ کو چمکائے۔ یہ جنگ لفظوں کی ہے، ضمیروں کی ہے، شعور کی ہے۔ یہ وہ جہاد ہے جو واہیات تماشوں کے خلاف لڑا جاتا ہے جو چاپلوسی کے زہر کو بے اثر کرتا ہے، جو جھوٹ کے جال کو چاک کرتا ہے۔ جب تک ایک بھی سچا لفظ زندہ ہے، ایک بھی بےباک سوال باقی ہے، یہ لڑائی جاری رہے گی۔