جس برفباری نے رواں ماہ کے پہلے ہفتے سے عام اہل وادی کا ناک میں دم کر رکھا ہے اور دوسری طرف جس کا لطف اٹھانے کیلئے بعض گلمرگ جیسے پہاڑی مقامات پر جانے کیلئے پر تول رہے ہیں، وہ آسمانی آبشاروں میں شامل ہے۔ہم میں سے بہت سے لوگوں کے لئے بچپن میں برف کے ایام یادگارہیں ۔ آج بھی چھوٹے بچوں اور اپنے گھر کے نوجوانوں سے بات کرکے دیکھیں کہ وہ پہلی برفباری پر کس قدر خوش ہوتے ہیں۔اب تو زمانہ’جدید‘ ہے ورنہ کون نہیں جانتا کہ ہمارے ننھے منوںکے ساتھ ساتھ گھر کے بڑے بھی اپنے صحنوں کے اندرپہلی برفباری کے بعد اس پُر کشش اور جمادینے والی شے کے ساتھ طرح طرح کی کلاکاری کا مظاہرہ کرکے اپنی تخلیقات کو بعد میں ’شنہ لڑائی‘ کی نذر کرتے تھے۔ماضی قریب کی ایسی کئی روایات اب بھی موجود ہیں بلکہ اُن میں بہت حد تک نیا پن بھی آیا ہے، جیسے کہ ’شنہ موہنیو‘ کو کپڑے زیب تن کرنے کا رواج وغیرہ۔حال میںبھی ہمارے بزرگ برفباری کا نظارہ کرنے کیلئے گھروں کی کھڑکیوں کے قریب کچھ وقت گذارکر شاید اپنے ماضی میں کھو جاتے ہیں۔
ارسطو ، جارج آر آر مارٹن ، ای۔ای۔کیمنگس ، سلویہ پلاٹ ، اور مارکس زوساک جیسے مفکرین کو متاثر کرنے والی برف نے دنیا میں ہر دورکے شاعروں پر بھی اپنا اثر ڈالاہے۔ یہی وجہ ہے کہ ادب میں برف کا بہت ذکر موجود ہے۔یہ ذکر عام طور پر’ اندھیرے‘ یا’ پاکیزگی ‘اور’ بے گناہی ‘کے معنی میں ہے ۔انگریزی ادب میں کئی ایسی کہانیاں موجود ہیںجن میںبرف کو ’پاکیزگی ‘ظاہر کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے ۔ ایسی بھی کہانیاں ہیںجن میں برف کو’ اندھیرے‘ کی علامت کے طور پیش کیا گیا ہے۔فارسی ادب میں برف سب سے زیادہ استعمال ہوا ہے اور فارسی کی کئی نظموں میں برف کی تباہ کاریوں، طاقت اور خوبصورتی کا تفصیلی ذکر کیا گیا ہے۔افسانوں میں برف کو علامتی طور پر بھی استعمال کیا گیا ہے اور اسے’ طہارت‘ کے طور پیش گیا گیاہے۔ دور حاضر کے لوگ بھی اس کے سحر سے نہیں بچ پائے ہیں اور وہ بھی انسٹاگرام، فیس بک یا ٹویٹر کے ذریعے اس کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔
قدیم ایران کی ثقافت میں برف ، ہوا ، بارش اور دھند کے بادلوں کو زمین کی تخلیق سے پہلے مادی تخلیقات کے طور پر سمجھا جاتا تھا۔ وینس کے گھوڑوں میں سے ایک ’برف خدا‘ تھا۔ قدیم فلسفوں میں بھی برف باری کا تذکرہ ہے یہاں تک کہ یشتوں میں ایک خوفناک برفباری کی پیش گوئی کی گئی ہے جو تین سال تک سرد ہواؤں کا سبب بنے گی اور جس سے زمین اور اس پر رہنے والی مخلوق تباہ ہوجائے گی۔
ماحول میں پانی کے بخارات کے ٹھنڈا ہونے کے عمل سے پیدا ہونے والی یہ طلسماتی شے زمین کے اور اس پر موجود دوسری چیزوں ،جیسے درختوں کے ساتھ کتنا پیار کرتی ہے،یہ انہیں کبھی بوسہ دیتی ہے اور کبھی ان کے ساتھ چمٹ جاتی ہے۔ لفظ ’برف‘ پہلوی زبان سے ماخوذ ہے۔ اس کو جرمن میں ’شنائی‘ اور کشمیری میں’ شین‘ کہتے ہیں۔اس کی زمین پر تشریف آوری کا ہی کرشمہ ہے کہ ہم سال بھر پانی پیتے ہیں اور ہاں،زراعت کے شعبے کیلئے برف سب سے بڑا سہارا ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ ماحول کے اندر موجود آبی قطرے جم جاتے ہیں اور چھوٹے چھوٹے فلیکس(گولے) بن کر برسنے لگتے ہیں تو ہم کہتے ہیں کہ برفباری ہورہی ہے۔قدرت کا یہی عمل ہماری زمین کے اُوپر سفید چادر بچھاتی ہے ،اتنی سفید کہ اس کے ساتھ کئی محاورے منسوب ہیں۔پھر ماحول کے سرد رہنے کا سلسلہ کافی دیر تک جاری رہتا ہے اور اس مخصوص ٹھنڈ کو اُردو و ادب کے اندر کافی جگہ ملی ہے۔
جذبوں پر جب برف جمے تو جینا مشکل ہوتا ہے
دل کے آتش دان میں تھوڑی آگ جلانی پڑتی ہے
برفباری سے اکثریتی لوگ رومانوی حد تک مسرت محسوس کرتے ہیں لیکن اگر قدرت کا یہ عمل ایک مخصوص حد کو پار کرے تو تباہی ناگزیر ہوتی ہے۔دنیا میں ہر سال سینکڑوں افراد برف کی نذر ہوکر اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ایسا تو ہر اُس عمل کا خاصا ہے جو حدود کو پار کرے لیکن ہمارے یہاں کا باوا آدم ہی نرالا ہے!تھوڑی سی برفباری ہمیں باقی ماندہ دنیا سے کاٹتی ہے اور سڑکوں پر چلنا پھرنا محال ہوتا ہے۔انتظامیہ کی نیند ٹوٹ جانے کے بعد اگر اکا دُکا مشینیں سڑکوں کی صفائی کیلئے نکلتی بھی ہیں تو وہ محکمہ ’جل شکتی‘ کی مہربانیوں کے طفیل چند انچ زمین کے اندر موجود پانی کی پائپوں کو بھی اکھاڑتی ہوئی گذر جاتی ہیں اور یوں شہریوں کو پینے کے پانی کے بھی لالے پڑجاتے ہیں۔بجلی تو ہمارے یہاں برفباری شروع ہونے کے ساتھ ہی روٹھ کر چلی جاتی ہے، ایک آدھ علاقوں میں جہاں اس کی ترسیل جاری رہتی ہے، بوسیدہ کھمبوں اور تاروں کی وجہ سے یہ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے۔برف کی شرارتوں میں مکانوں کی چھتیں ڈھ جانا اور خدا نخواستہ برفانی تودوں اور پسیوں کا گر آنا بھی شامل ہے ،جو بہر حال موسم کے دلکش رنگ کو خونین بنانے کا باعث بن جاتا ہے۔
عوامی حلقوں کا سنیں تو موسم سرما کی آمد ہی اُن کیلئے وبال جان بن جاتی ہے لیکن ہر ایسی شام ایک عددسرکاری بیان جاری کرکے انتظامیہ کے’ متحرک‘ ہونے کا دعویٰ کیا جاتا ہے ۔سرکاری بیانات میں بلند بانگ دعوئوں کے باوجود لوگ گھروں کے اندر ہی محصور ہوکر رہ جاتے ہیں اور جو رواں گراں بازاری سے زیادہ متاثر نہیں، وہ ہریسہ اُڑانے میں مصروف رہتے ہیں۔ حالانکہ اُنہیں خود کو گرم رکھنے کیلئے گھروں کے اندر ہی حمام بھی میسر ہیں لیکن اکثریتی عوام انتظامیہ کے دعوئوں کے سچ ہونے کی ہی جستجو میں رہتے ہیں تاکہ وہ روزی روٹی کمانے کے قابل بن سکیں۔
جب ماحول میں موجود پانی کی بوندیں منجمد ہوجاتی ہیں تو یہ برف بن کر برستی ہیں۔ اکثر اوقات برف کا ایک فلیک اتنا بڑا ہوتا ہے کہ وہ ناچتے ہوئے برستے وقت ظاہری آنکھ کو خیرہ کرتی ہے۔ گینز بک آف ورلڈ ریکارڈ کے مطابق امریکہ میں واقع مونٹانا فورٹ میں جنوری 1887 میں اب تک کی سب سے بڑی برف کی فلیک ریکارڈ کی گئی ہے جس کا قطر 38 سینٹی میٹر تھا۔ پانی کی برفانی شکل کا تعین درجہ حرارت اور نمی سے ہوتا ہے۔ اس کو مصنوعی طریقوں کا استعمال کرکے بڑی بڑی آئس کریم میں بھی تبدیل کیا جاتا ہے ، جو اکثر بچوں اور نوجوانوں کی من پسند ہیں۔اس کے حصول کیلئے تو موسم گرما میں مخصوص دکانوں کے سامنے خریداروں کی قطاریں بھی دیکھی جاسکتی ہیں۔یہ وہی برف ہوتی ہے جس نے اہل کشمیر کو زمانہ حال میں بے حال کر رکھا ہے اور جو آس پاس اس حد تک جمع ہوئی ہے کہ کوئی اس کو گاڑی نکالنے کیلئے گھر کے صحن سے ہٹارہا ہے اور کوئی تنگ گلی سے عبور و مرور کو ممکن بنانے کیلئے ایس ایم سی کا منتظر ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ عالمی موسمی تغیرات کے اثرات کشمیر میں بھی ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ موسموں میں شدت بڑھ رہی ہے۔ گرمیوں میں زیادہ گرمی اور سردیوں میں شدت کی سردی سے جہاں لوگوں کی صحت متاثر ہورہی ہے وہیں پانی و خوراک میں کمی اور سیلاب کا خطرہ بھی بڑھتا جارہاہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ عالمی حدت میں اضافہ سے پودوں اور جانوروں کی نسلیں ختم ہورہی ہیں۔ موسمیاتی سیاروں کے ذریعے موسمی تبدیلیوں سے متعلق ملی اعداد و شمار سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے اندر موسمی حالات بہت حد تک تبدیل ہوئے ہیں اور یہ تغیر مسلسل جاری ہے ۔انہی تغیرات کا اثر ہے کہ موسموں کا غیر معمولی رہنا ، شدید گرمی ، خشک سالی ، غیر معمولی بارشیں اور بھاری برفباریاں عام لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کررہے ہیں۔ موسم شدید تر ہورہے ہیں ،گرمیوں میں گرم ترین اور سردیوں میں موسم سرد ترین ہورہاہے۔
ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات انسانوں اور جانوروں کے مزاج پر بھی مرتب ہورہے ہیں۔ ان میں قوت برداشت میں کمی اور غصیلے پن میں اضافہ ہورہاہے۔ انسانوں میں چڑچڑا پن بڑھ رہاہے جس سے انسانوں کے سماجی تعلقات متاثر ہورہے ہیں۔ جانوروں کی نسلیں بھی ختم ہو رہی ہیں۔ پودوں کی وہ اقسام بھی ناپید ہو رہی ہیں جو زیادہ گرمی برداشت نہیں کر سکتیں۔ دنیا بھر کے سائنسدانوں نے خدشات ظاہر کئے ہیں کہ عالمی حدت میں مسلسل اضافے سے آنیو الی دہائیوں میںکروڑوں افراد کی زندگیاں متاثر ہوسکتی ہیں۔اقوام متحدہ کے موسمی تبدیلیوں کے بین الحکومتی ادارے کی 2001 میں جاری رپورٹ بھی اسی کی تائید کرتی ہے۔ اس کے مطابق ’’موسمی تبدیلیوں کے اثرات مختلف علاقوں میں مختلف افراد اور خصوصا مرد و خواتین پر مختلف ہوتے ہیں۔ یہ اثرات تمام ممالک میں غریب اور نچلے طبقوں پر مختلف انداز میں اثرانداز ہوتے ہیں، اندیشہ ہے کہ اس کا اثر صحت، خوراک، صاف پانی اور دیگر وسائل کی فراہمی میں عدم تناسب کی صورت میں پیدا ہوگا۔ ‘‘
ہر سال بائیس اپریل کو دنیا بھر میں یوم الارض کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یوم الارض منانے کا آغاز 1970میں ہوا تھا ۔حال ہی میں دنیا کے طول و عرض کو مہلک وائرس سے خوف زدہ کرنے والے سال 2020 میں اس کی پچاسویں سالگرہ ’منائی‘ گئی اور ماحولیات اورموسمی پڑھائی کے موضوعات کو لیکر کئی ورچول پروگرام منعقد ہوئے۔ان پروگراموں میںماہرین نے زور دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں موسمی تغیر اس حد تک پہنچا ہے کہ اب گرمیاں گرم تر اورسردیاں سرد ترین ہوتی جارہی ہیں۔ ماہرین کے ہاں سے انتہائی تشویش ناک بات یہ بھی سامنے آرہی ہے کہ اگلے چند برس میں بعض ایشیائی خطوں سے موسم بہار کا خاتمہ ہی ہوجائے گا۔بتایا جارہا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے (گلوبل وارمنگ) کی وجہ سے ان خطوں کا درجہ حرارت تشویشناک حد تک بڑھ رہا ہے جس کے نتیجے میں موسم سرما کے فوراً بعد موسم گرما ہوگا اور اس بیچ بہار کا بس نام ہی رہے گا۔بالفاظ دیگر موسموں نے اعتدال کی راہ چھوڑ کر انتہاپسندی اختیار کی ہے،یا شدت کی سردی یا ناقابل برداشت گرمی! ہم جس خطے میں رہتے ہیں اُسے ابھی تک جنت بے نظیر کہا جارہا ہے لیکن ماہرین کو معلوم ہے کہ اس ’جنت ‘میں کس تیزی کے ساتھ ماحولیاتی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں اور وہ کس سرعت کے ساتھ ہمارے موسموں پر اثر انداز ہونے والی ہیں۔ماہرین تو گذشتہ موسم گرما کی جھلسادینے والی گرمی اور رواں سرما کی جمادینے والی ٹھنڈ کو اسی اثر کا نقطہ آغاز قرار دے رہے ہیں۔ ہمارے یہاں کے آبی ذخائر سکڑنے کی بات اب پرانی ہے، لیکن کیا بھاری برفباری ان ذخائر میں کچھ استحکام لاسکتی ہے؟ماہرین کا جواب نہ صرف نفی میں ہے بلکہ وہ خبردار بھی کررہے ہیں۔ان کا ماننا ہے کہ بالائی علاقوں میں بھاری برف کی موجودگی اُسی وقت باعث اطمینان تھی جب گرمی حد سے زیادہ نہ ہوتی ، اب چونکہ گرمیاں سردیوں کی طرح ہی شدید ہوتی ہیں اس لئے بالائی علاقوں میں برف کی بھاری موجودگی کا نتیجہ تباہ کن سیلابوں کی صورت میں بھی سامنے آسکتا ہے!۔