بشیر اؔطہر
کنڈی وارہ، ساگام وہ خطہ ہے جہاں فطرت کی خاموش زبان انسان کے باطن سے ہمکلام ہوتی ہے، جہاں برف پوش پہاڑ، بہتے چشمے اور سبز وادیاں محض مناظر نہیں بلکہ شعور کی تشکیل میں شریک عناصر بن جاتے ہیں۔ اسی فکری اور روحانی فضا میں بعض ایسی آوازیں جنم لیتی ہیں جو عمر کے اعتبار سے نوخیز مگر فہم و احساس کے لحاظ سے غیرمعمولی طور پر بالغ دکھائی دیتی ہیں۔ شیبا اشرف کی کتاب’’اے مشتِ خاک‘‘ اسی نوع کی ایک سنجیدہ اور بامعنی کاوش ہے۔
یہ کتاب اس تاثر کو ابتدا ہی میں زائل کر دیتی ہے کہ فکری پختگی عمر کی محتاج ہوتی ہے۔ بلاشبہ مصنفہ ابھی زندگی کے تمام نشیب و فراز، زمانی تلخیوں اور عملی تجربات کے مراحل سے نہیں گزریں، تاہم ان کی تحریر میں جو فکری ٹھہراؤ، اخلاقی شعور اور معنوی گہرائی جلوہ گر ہے، وہ قاری کو چونکا دیتی ہے۔ مطالعے کے دوران یہ احساس غالب رہتا ہے کہ یہ محض ایک نوآموز قلم کی مشق نہیں بلکہ ایک سنجیدہ ذہن کی منظم فکری کاوش ہے، جس کے پس منظر میں وسیع مطالعہ اور گہرا مشاہدہ کارفرما ہے۔
’’اے مشتِ خاک‘‘ کو محض مضامین کا مجموعہ قرار دینا اس کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ دراصل یہ کتاب انسان کے ساتھ ایک مسلسل، خاموش اور بامقصد مکالمہ ہے۔ایسا مکالمہ جو خطابت یا شور کا سہارا نہیں لیتا بلکہ آہستگی سے قاری کے شعور میں اترتا ہے۔ یہاں سوالات براہِ راست نہیں پوچھے جاتے، بلکہ حالات، مثالوں اور استدلال کے ذریعے قاری کو خود سوال کرنے پر آمادہ کیا جاتا ہے۔ یہی اس کتاب کی فکری قوت ہے کہ یہ قاری کو متاثر کرنے کے بجائے متحرک کرتی ہے۔
مصنفہ کی تحریر کا ایک نمایاں پہلو اس کی اخلاقی بنیاد ہے۔ کتاب میں قرآنی آیات، احادیثِ مبارکہ اور مختلف مفکرین و فلاسفروں کے اقوال کو ترجمے اور سیاق و سباق کے ساتھ شامل کیا گیا ہے، جس سے تحریر محض جذباتی نہیں رہتی بلکہ فکری و اخلاقی استحکام حاصل کرتی ہے۔ صبر، شکر، قناعت، نفس کی اصلاح، باطنی تطہیر اور انسان کی اخلاقی ذمہ داری جیسے موضوعات نہایت متوازن انداز میں سامنے آتے ہیں۔ کہیں وعظ کی شدت نہیں، کہیں حکم کا جبر نہیں۔بلکہ ایک فکری رہنمائی ہے جو قاری کو سوچنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
قابلِ توجہ امر یہ بھی ہے کہ مصنفہ نے اپنے فکری دائرے کو کسی ایک مذہبی یا نظریاتی حد تک محدود نہیں رکھا۔ متعدد مقامات پر اسلام کے ساتھ ساتھ ہندومت، بدھ مت، سکھ مت، یہودیت اور عیسائیت جیسے مذاہب کی اخلاقی تعلیمات کی مثالیں پیش کی گئی ہیں۔ یہ تقابلی اور بین المذاہب حوالہ جات اس بات کا ثبوت ہیں کہ مصنفہ انسان کو محض کسی ایک شناخت میں نہیں بلکہ ایک آفاقی اخلاقی وجود کے طور پر دیکھتی ہیں۔ یہی وسعتِ نظر اس کتاب کو تعصب سے پاک اور مکالمے کے قابل بناتی ہے۔
شیبا اشرف کی نثر سادگی اور وقار کا حسین امتزاج ہے۔ زبان نہ تو مشکل پسندی کا شکار ہے اور نہ ہی سطحی پن کا۔ جملے مختصر اور بامعنی ہیں، جو دیر تک ذہن میں ارتعاش پیدا کرتے رہتے ہیں۔ نصیحت کا انداز واعظانہ نہیں بلکہ ایک شفیق ہمسفر کی طرح ہے،جو انگلی اٹھانے کے بجائے ہاتھ تھام لیتا ہے۔ یہی اسلوب قاری کو متن سے جوڑے رکھتا ہے اور تحریر کو بوجھل ہونے سے بچاتا ہے۔
کتاب میں فرد اور سماج دونوں کو یکساں اہمیت دی گئی ہے۔ انسان کی خودغرضی، مادہ پرستی، روحانی خلا، اخلاقی زوال اور معاشرتی بے حسی جیسے موضوعات کو نہایت مہذب اور متوازن پیرائے میں پیش کیا گیا ہے۔ مصنفہ نہ تو مایوسی کو فروغ دیتی ہیں اور نہ ہی غیرحقیقی خوش فہمی کو، بلکہ اصلاح کی ایک خاموش مگر پائیدار راہ دکھاتی ہیں۔ یہی اعتدال اس کتاب کو عام اصلاحی تحریروں سے ممتاز کرتا ہے۔مزید برآں، مختلف شعرا کے منتخب اشعار کا برمحل استعمال تحریر میں ادبی حسن اور فکری گہرائی دونوں پیدا کرتا ہے۔ یہ اشعار محض زیبِ داستاں نہیں بلکہ مضمون کے مفہوم کو وسعت دیتے ہیں اور قاری کو آئینہ دکھانے کے عمل کو مؤثر بناتے ہیں۔
’’اے مشتِ خاک‘‘ کا مطالعہ ایک عجیب قسم کے قلبی سکون کا احساس دلاتا ہے۔ ایسا سکون جو خطیبانہ شور سے نہیں بلکہ فکری خاموشی سے پیدا ہوتا ہے۔ یہ کتاب قاری کو بدلنے کا دعویٰ نہیں کرتی، بلکہ اسے سوچنے، رکنے اور اپنے اندر جھانکنے پر آمادہ کرتی ہے، اور یہی سنجیدہ ادب کی اصل کامیابی ہے۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ شیبا اشرف کی یہ کاوش محض ایک ابتدائی کتاب نہیں بلکہ ایک فکری وعدے۔اس بات کا وعدہ کہ اگر یہ قلم اسی خلوص، مطالعے کی وسعت اور اخلاقی دیانت کے ساتھ رواں رہا تو اردو ادب کو مستقبل میں ایک سنجیدہ، باوقار اور معتبر نام میسر آ سکتا ہے۔’’اے مشتِ خاک‘‘ واقعی ہر پل کی ترجمان ہے۔ انسان کی، اس کے ضمیر کی اور اس کی کھوئی ہوئی انسانیت کی۔شیبا اشرف اور ان کے والدین مبارکباد کےمستحق ہیں۔
(رابطہ۔7006259067 )