آصف حسین الکشمیری
ماہِ شعبان اسلامی سال کا وہ بابرکت مہینہ ہے جو رمضان المبارک سے پہلے آ کر اہلِ ایمان کو ایک نئی روحانی زندگی کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ یہ مہینہ محض دنوں اور راتوں کا مجموعہ نہیں بلکہ دلوں کو بیدار کرنے، نیتوں کو سنوارنے اور اعمال کو درست رخ دینے کا سنہرا موقع ہے۔ اگر رمضان کو بہار سمجھا جائے تو شعبان اس بہار کی خوشبو ہے جو انسان کو پہلے ہی تازگی کا احساس دلانے لگتی ہے۔رسولِ اکرمؐ کو اس مہینے سے خاص محبت تھی۔ احادیثِ مبارکہ میں آتا ہے کہ آپؐ شعبان میں عام دنوں کے مقابلے میں زیادہ روزے رکھتے تھے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریمؐ کو رمضان کے علاوہ کسی مہینے میں اتنے روزے رکھتے ہوئے نہیں دیکھا جتنے شعبان میں رکھتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شعبان محض ایک تمہیدی مہینہ نہیں بلکہ خود عبادت اور قربِ الٰہی کا مہینہ ہے۔
شعبان کی اصل اہمیت یہ ہے کہ یہ ہمیں رمضان کی تیاری کا شعور دیتا ہے۔ جس طرح کسان فصل سے پہلے زمین ہموار کرتا ہے، بیج ڈالتا ہے اور پانی دیتا ہے، اسی طرح مومن شعبان میں اپنے دل کی زمین تیار کرتا ہے تاکہ رمضان میں عبادت کا بیج خوب پھلے پھولے۔ یہ مہینہ ہمیں توبہ اور رجوع الی اللہ کی دعوت دیتا ہے۔ زندگی کی دوڑ میں ہم بہت سی کوتاہیاں کر بیٹھتے ہیں، دل سخت ہو جاتے ہیں اور روح پر گرد جم جاتی ہے۔ شعبان وہ مہینہ ہے جب انسان اپنے رب کے سامنے جھک کر یہ کہہ سکتا ہے: اے اللہ! میں لوٹ آیا ہوں۔ یہی لوٹنا اصل کامیابی ہے۔شعبان کے اندر ایک عظیم رات بھی آتی ہے جسے عرفِ عام میں شبِ برات کہا جاتا ہے۔ احادیث میں اس رات کی فضیلت کا ذکر ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس رات اپنی رحمت کے دروازے کھول دیتا ہے اور بے شمار بندوں کی مغفرت فرماتا ہے۔ اس رات کے بارے میں وارد ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر جلوہ فرما ہو کر فرماتا ہے،’’ ہے کوئی مغفرت مانگنے والا کہ میں اسے بخش دوں؟ ہے کوئی رزق مانگنے والا کہ میں اسے عطا کر دوں؟‘‘
یہ رات ہمیں عبادت کا اہتمام کرنے کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ نماز، تلاوتِ قرآن، ذکرِ الٰہی اور دعا کے ذریعے انسان اپنے دل کو اللہ کے قریب کر سکتا ہے۔ یہ کوئی شور و ہنگامے کی رات نہیں بلکہ خاموشی، خشوع اور ندامت کی رات ہے۔ اس رات کا اصل پیغام یہ ہے کہ انسان اپنے ماضی پر نظر ڈالے، اپنی غلطیوں کو پہچانے اور آئندہ زندگی کو بہتر بنانے کا عزم کرے۔ماہِ شعبان ہمیں صرف فردی عبادت کا درس نہیں دیتا بلکہ معاشرتی اصلاح کی طرف بھی بلاتا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دلوں میں کینہ، حسد اور نفرت رکھ کر عبادت کا لطف حاصل نہیں ہو سکتا۔ ہمیں اپنے رشتوں کو درست کرنا ہوگا، معاف کرنا ہوگا اور صلح کا راستہ اپنانا ہوگا۔ جو شخص اللہ سے مغفرت چاہتا ہے، اسے بندوں کے حقوق بھی ادا کرنے ہوں گے۔آج ہمارا معاشرہ بے چینی اور انتشار کا شکار ہے۔ لوگ عبادت تو کرتے ہیں مگر اخلاق میں کمی ہے۔ شعبان ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ عبادت کا اصل اثر کردار میں نظر آنا چاہیے۔ اگر نماز ہمیں جھوٹ سے نہ روکے، روزہ ہمیں بدزبانی سے نہ بچائے اور دعا ہمیں عاجزی نہ سکھائے تو پھر ہمیں اپنے عمل پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔
یہ مہینہ ہمیں وقت کی قدر بھی سکھاتا ہے۔ ہم اکثر کہتے ہیں کہ فرصت نہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم نے اپنے وقت کو بے ترتیب بنا لیا ہے۔ شعبان ہمیں یہ موقع دیتا ہے کہ ہم اپنے معمولات درست کریں، قرآن کے لیے وقت نکالیں، نماز کی پابندی کریں اور فضول مشغولیات کو کم کریں۔ یہی چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں رمضان کو بامقصد بنا دیتی ہیں۔
شعبان کا پیغام یہ بھی ہے کہ دین کو بوجھ نہ سمجھا جائے بلکہ نعمت سمجھا جائے۔ عبادت دل پر بوجھ نہیں بلکہ روح کا سکون ہے۔ جب انسان سجدے میں جاتا ہے تو زمین پر نہیں بلکہ اپنے رب کے قریب ہوتا ہے۔ یہی قرب انسان کو اصل خوشی عطا کرتا ہے۔ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ شبِ برات یا شعبان کی عبادت کو رسم نہ بنا دیا جائے۔ اصل مقصد اللہ کی رضا ہے، نہ کہ صرف روایات کی پیروی۔ عبادت میں اخلاص ہو، دعا میں عاجزی ہو اور دل میں یہ احساس ہو کہ ہم واقعی بدلنا چاہتے ہیں۔
ماہِ شعبان ہمیں امید کا پیغام دیتا ہے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ چاہے گناہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں، اللہ کی رحمت ان سب سے وسیع ہے۔ جو پلٹ آئے، اس کے لیے دروازہ بند نہیں ہوتا۔ یہی امید انسان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتی ہے۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ شعبان محض ایک مہینہ نہیں بلکہ ایک پیغام ہے۔ عبادت کا پیغام، اصلاح کا پیغام اور قربِ الٰہی کا پیغام۔ اگر ہم اس مہینے کو سنجیدگی سے لیں، اپنے دلوں کو نرم کریں، اپنے اعمال کو بہتر بنائیں اور اپنے رب سے سچا تعلق قائم کریں تو رمضان ہمارے لیے واقعی رحمت، مغفرت اور نجات کا مہینہ بن سکتا ہے۔
رابطہ۔ 9797888975