محتشم احتشام
پونچھ//ضلع پونچھ کی پنچایت قصبہ اپر میں گزشتہ شب ہونے والی موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی، جس کے نتیجے میں کھڑی فصلیں، پھلدار درخت، رہائشی مکانات اور بجلی کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا۔ مقامی آبادی کے مطابق اس قدرتی آفت سے لاکھوں روپے مالیت کی زرعی پیداوار اور باغبانی کو نقصان پہنچا ہے، جبکہ متعدد خاندانوں کو مالی اور معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔علاقہ مکینوں کے مطابق رات بھر جاری رہنے والی شدید بارش نے زرعی زمینوں کو بری طرح متاثر کیا، جس سے کسانوں کی کئی ماہ کی محنت چند لمحوں میں ضائع ہو گئی۔ بارش کے باعث متعدد پھلدار درخت بھی جڑوں سے اکھڑ گئے یا شدید نقصان کا شکار ہوئے، جس سے مقامی باغبانوں کو بھاری خسارہ برداشت کرنا پڑا۔شدید بارش کے نتیجے میں کئی رہائشی مکانات کو بھی نقصان پہنچا۔ متاثرہ افراد میں مشوق خان ولد یعقوب خان، ذاکر حسین ولد محمد حسین، محمد افضل ولد فقیر دین اور محمد رفیق ولد محمد بشیر شامل ہیں۔
متاثرہ خاندانوں نے بتایا کہ ان کے گھروں کو خاصا نقصان پہنچا ہے اور ان کی جمع پونجی متاثر ہوئی ہے، جس کے باعث وہ فوری سرکاری امداد کے منتظر ہیں۔قدرتی آفت نے بجلی کے نظام کو بھی شدید متاثر کیا۔ متعدد مقامات پر بجلی کی ترسیلی لائنیں نقصان کا شکار ہونے سے علاقے کی بجلی منقطع ہو گئی، جس کے باعث شہریوں کو سخت دشواریوں کا سامنا ہے۔ مقامی لوگوں نے محکمہ بجلی سے مطالبہ کیا ہے کہ بجلی کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں تاکہ معمولاتِ زندگی جلد بحال ہو سکیں۔علاقہ مکینوں نے ضلع انتظامیہ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر متاثرہ علاقوں کا تفصیلی سروے کر کے نقصانات کا تخمینہ لگایا جائے، متاثرہ خاندانوں کو مناسب معاوضہ اور ریلیف فراہم کیا جائے اور مستقبل میں ایسے موسمی حالات سے نمٹنے کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔مقامی شہریوں نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ حالیہ برسوں میں شدید بارشوں اور دیگر موسمی آفات کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جس سے دیہی علاقوں میں جان و مال اور بنیادی ڈھانچے کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے پیشِ نظر حساس علاقوں میں مستقل حفاظتی منصوبے اور مؤثر آفاتِ سماوی انتظامی نظام وضع کیا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے نقصانات سے بچا جا سکے۔