فکرو فہم
خورشید ریشی
آج دنیا ایک سنگین ماحولیاتی بحران سے دوچار ہے۔ گلوبل وارمنگ، موسمیاتی تغیر اور ماحولیاتی آلودگی جیسے مسائل نے انسانی زندگی کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ موسموں کا نظام بری طرح متاثر ہو چکا ہے—کہیں بے وقت بارشیں اور کہیں طویل خشک سالی معمول بن چکی ہے۔ یہ تمام صورتحال اس بات کی عکاس ہے کہ انسان نے فطرت کے ساتھ توازن برقرار رکھنے میں ناکامی کا مظاہرہ کیا ہے۔ماہرین کے مطابق درختوں کی بے دریغ کٹائی اور جنگلات میں کمی ماحولیاتی بگاڑ کی ایک بڑی وجہ ہے۔ درخت فضا کو صاف رکھنے، آکسیجن کی فراہمی اور زمین کے درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ ترقی کے نام پر جنگلات کو تیزی سے ختم کیا جا رہا ہے، جس کے باعث فضائی آلودگی میں اضافہ اور مختلف بیماریوں کا پھیلاؤ تیز ہو گیا ہے۔
ایسے نازک حالات میں شجرکاری مہم ایک امید کی کرن بن کر سامنے آئی ہے، خصوصاً تعلیمی اداروں میں اس کا فروغ قابلِ تحسین اقدام ہے۔ اسکولوں اور کالجوں کے ذریعے طلبہ میں نہ صرف ماحولیاتی شعور اجاگر کیا جا رہا ہے بلکہ انہیں عملی طور پر اس مہم کا حصہ بھی بنایا جا رہا ہے۔ یہ طلبہ ہی مستقبل کے معمار ہیں، اور اگر ان میں آج سے ہی ماحول کے تحفظ کا جذبہ پیدا کیا جائے تو کل ایک محفوظ اور صحت مند معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے۔
شجرکاری صرف ایک وقتی مہم نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے ،جس کے لیے اجتماعی شعور اور سنجیدہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ حکومت، تعلیمی اداروں اور عوام کو مل کر اس کارِ خیر کو فروغ دینا ہوگا۔ ساتھ ہی ہمیں پلاسٹک کے استعمال میں کمی، پانی کے ضیاع کی روک تھام اور فضائی آلودگی پر قابو پانے جیسے اقدامات بھی اپنانا ہوں گے۔
مزید برآں، شہری علاقوں میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اور کنکریٹ کے جنگلات نے درختوں کی جگہ لے لی ہے، جس کے باعث درجہ حرارت میں اضافہ اور ماحولیاتی عدم توازن مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ اگر شہروں میں منصوبہ بندی کے تحت شجرکاری کی جائے، سڑکوں کے کنارے، پارکوں اور خالی جگہوں پر درخت لگائے جائیں تو نہ صرف ماحول خوشگوار ہو سکتا ہے بلکہ شہری زندگی بھی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ لگائے گئے پودوں کی مناسب دیکھ بھال کی جائے، کیونکہ صرف پودا لگانا کافی نہیں بلکہ اسے تناور درخت بنانا اصل ذمہ داری ہے۔
میڈیا اور سماجی تنظیموں کا کردار بھی اس حوالے سے نہایت اہم ہے۔ آگاہی مہمات کے ذریعے عوام میں شعور پیدا کیا جا سکتا ہے کہ درخت لگانا صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر فرد کا قومی فریضہ ہے۔ اگر ہر شخص سال میں کم از کم ایک پودا لگانے کا عزم کرے تو اس کے مثبت اثرات بہت جلد نمایاں ہو سکتے ہیں۔
یہاں ایک اہم سوال جنم لیتا ہے:کیا ہم واقعی اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدہ ہیں، یا ہم وقتی سہولتوں کی خاطر آنے والی نسلوں کا حق چھین رہے ہیں؟ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ اگر آج ہم نے ایک درخت نہیں لگایا تو کل ہمیں سانس لینے کے لیے بھی قیمت ادا کرنی پڑ سکتی ہے۔ ترقی کی دوڑ میں ہم یہ نہ بھول جائیں کہ صاف ہوا، ٹھنڈی چھاؤں اور متوازن ماحول ہی اصل خوشحالی کی علامت ہیں، نہ کہ صرف بلند و بالا عمارتیں۔اسی احساس کو اشعار میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے:
’’درختوں سے ہے زندگی، یہ راز پہچان لو
زمین کی اس امانت کو دل سے سنبھال لو‘‘
’’جو کاٹا ہے تم نے، وہی کل رلائے گا
یہ خالی جہاں تمہیں کہاں لے جائے گا؟‘‘
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ اگر ہم نے آج شجرکاری کو اپنی ترجیح نہ بنایا تو آنے والی نسلوں کو ایک غیر محفوظ اور آلودہ ماحول ورثے میں ملے گا۔ لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ ہم سب مل کر شجرکاری کو فروغ دیں اور اپنے ماحول کو سرسبز و شاداب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ کیونکہ درحقیقت، درخت لگانا صرف زمین کو سنوارنا نہیں بلکہ اپنے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے۔