آصف حسین الکشمیری
قوموں کی زندگی میں کچھ راتیں محض تاریخ کا حصہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ دلوں کو بدلنے، فکر کو جگانے اور روح کو تازہ کرنے کے لیے آتی ہیں۔ شبِ برات بھی انہی مبارک راتوں میں سے ایک ہے۔ یہ رات صرف چراغاں، مٹھائی یا رسمی عبادت کا نام نہیں بلکہ اپنے ربّ ِ کریم کے حضور جھکنے، اپنے اعمال کا جائزہ لینے اور آئندہ زندگی کو سنوارنے کا سنہرا موقع ہے۔ یہ وہ ساعت ہے جس میں آسمانِ رحمت کے دروازے کھلتے ہیں اور زمین کے باسیوں کو بخشش اور کرم کی نوید سنائی جاتی ہے۔
احادیث میں آتا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جب شعبان کی پندرہویں شب ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر جلوہ فرما ہوتا ہے اور ایک پکارنے والا پکار لگاتا ہے، کیا کوئی مغفرت طلب کرنے والا ہے کہ میں اسے بخش دوں؟ کیا کوئی سوال کرنے والا ہے کہ میں اسے عطا کر دوں؟‘‘
یہ حدیث ہمیں واضح پیغام دیتی ہے کہ شبِ برات توبہ و بخشش کی رات ہے۔ یہ لمحہ ہمیں آواز دیتا ہے کہ ہم اپنے ربّ کی طرف پلٹ آئیں، صغیرہ اور کبیرہ گناہوں سے سچے دل سے توبہ کریں اور اپنی زندگی کو نیا رخ دیں۔ یہ رات محض دعا مانگنے کی نہیں بلکہ اپنے اندر جھانکنے اور خود کو بدلنے کی رات ہے۔
اسلامی روایت کے مطابق شبِ برات مغفرت اور رحمت کی رات ہے۔ اس رات اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف خصوصی توجہ فرماتا ہے اور بندوں کو توبہ کی توفیق عطا کرتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے ماضی پر نظر ڈالے، اپنی لغزشوں کو یاد کرے اور عہد کرے کہ آئندہ وہ بہتر انسان بننے کی کوشش کرے گا۔ یہی شبِ برات کا اصل پیغام ہے: صرف عبادت نہیں بلکہ خود احتسابی۔
بدقسمتی سے آج ہم نے اس مبارک رات کو محض رسومات تک محدود کر دیا ہے۔ آتش بازی، شور و غل اور غیر ضروری تقریبات نے اس کی روح کو دھندلا دیا ہے۔ حالانکہ شبِ برات کی اصل پہچان خاموش آنسو، جھکی ہوئی پیشانی اور ٹوٹے ہوئے دل کی دعا ہے۔ یہ رات ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ انسان اپنی کمزوریوں کو مانے، غرور کو چھوڑے اور اپنے ربّ ِ کریم کے سامنے عاجزی اختیار کرے۔ جو قومیں خود احتسابی کو اپنا شعار بنا لیتی ہیں، وہی حقیقی ترقی کی راہ پر گامزن ہوتی ہیں۔
شبِ برات ہمیں رشتوں کی اصلاح کا بھی درس دیتی ہے۔ دلوں میں چھپی نفرتیں، کینے اور حسد اس رات کے پیغام کے خلاف ہیں۔ اگر ہم واقعی اس رات کی برکت چاہتے ہیں تو ہمیں دوسروں کو معاف کرنا ہوگا، دل صاف کرنے ہوں گے اور ٹوٹے ہوئے تعلقات کو جوڑنا ہوگا۔ اللہ کی مغفرت اسی وقت مکمل ہوتی ہے جب انسان بندوں کے حقوق کا بھی خیال رکھے۔ عبادت کا حسن اسی وقت ظاہر ہوتا ہے جب اخلاق سنورتے ہیں۔
یہ رات ہمیں انفرادی زندگی کے ساتھ ساتھ اجتماعی حالت پر بھی غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ ہمارا معاشرہ بے چینی، بے راہ روی اور اخلاقی کمزوری کا شکار ہے۔ شبِ برات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم صرف اپنی نجات نہیں بلکہ پوری قوم کی اصلاح کی فکر کریں۔ جب افراد بدلتے ہیں تو معاشرے بدلتے ہیں اور جب معاشرے بدلتے ہیں تو تاریخ کا رخ بھی بدل جاتا ہے۔
شبِ برات کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ امید کی رات ہے۔ یہ ہمیں مایوسی سے نکال کر یقین کی طرف لے جاتی ہے۔ جو انسان اپنی کوتاہیوں کے بوجھ تلے دب چکا ہو، اس کے لیے یہ رات نئی زندگی کی نوید ہے۔ یہ پیغام دیتی ہے کہ اللہ کی رحمت خطاؤں سے بڑی ہے اور اس کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ بندہ سچے دل سے رجوع کرے اور آئندہ کے لیے اپنی روش بدلنے کا عزم کرے۔
اس رات کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ہم آنے والے دنوں کے لیے عملی وعدہ کریں۔ صرف آنسو بہا دینا کافی نہیں بلکہ ہمیں اپنی عادات، اپنے رویّے اور اپنی ترجیحات کو بدلنا ہوگا۔ جھوٹ، ظلم، بددیانتی اور بے انصافی کو چھوڑ کر سچائی، انصاف اور خیر خواہی کو اپنانا ہوگا۔ یہی شبِ برات کا اصل ثمر ہے۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شعبان کی پندرہویں شب اللہ تعالیٰ آسمانِ دنیا پر نزول فرماتا ہے اور بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے زیادہ لوگوں کی مغفرت فرماتا ہے۔ یہ حدیث ہمیں دعوت دیتی ہے کہ جو رزق کی کشادگی کے خواہاں ہیں وہ اس رات اللہ کے حضور ہاتھ پھیلائیں، جو اولاد کی نعمت کے طلب گار ہیں وہ اس رات اپنے ربّ سے فریاد کریں، جو دل کی بے چینی اور زندگی کی الجھنوں سے نجات چاہتے ہیں وہ اس رات سجدوں میں سکون تلاش کریں۔مگر افسوس کہ کچھ بدقسمت لوگ اس بابرکت رات کے قریب آتے ہی مناظروں میں اُلجھ جاتے ہیں، شب بیداری کو بدعت کہہ کر لوگوں کے دلوں میں شکوک پیدا کرتے ہیں اور فتویٰ کی زبان بول کر رحمت کے دروازوں پر پہرے بٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر افسوس کے سوا کچھ نہیں کیا جا سکتا جو امت کو جوڑنے کے بجائے توڑنے کا ذریعہ بنتے ہیں، جو آنسوؤں کی اس رات کو جھگڑوں کی رات بنا دیتے ہیں اور جنہیں اللہ کی رحمت سے زیادہ اپنی بحث عزیز ہوتی ہے۔
شبِ برات ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ عبادت صرف مسجد تک محدود نہیں بلکہ پورا معاشرہ اس کا دائرہ ہے۔ اگر ہم اس رات کے بعد بھی وہی نفرتیں، وہی ناانصافیاں اور وہی خود غرضیاں اپنائے رکھیں تو ہم نے اس رات کا حق ادا نہیں کیا۔ اصل کامیابی یہ ہے کہ شبِ برات ہماری سوچ بدل دے اور ہمارے کردار میں نرمی، سچائی اور رحم پیدا کر دے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ شبِ برات ایک رسم نہیں بلکہ ایک انقلاب کی دعوت ہے۔ یہ رات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسان خطا کار ضرور ہے مگر ناامید نہیں۔ مغفرت اس کا حق نہیں مگر اللہ کی رحمت اس کا سہارا ہے۔ اگر ہم اس رات کو سچائی، اخلاص اور خود احتسابی کے ساتھ گزاریں تو یہ صرف ایک رات نہیں رہے گی بلکہ ہماری پوری زندگی کو بدلنے والی روشنی بن جائے گی۔شبِ برات ہمیں یہ پیغام دیتی ہے:لوٹ آؤ، سنبھل جاؤ اور اپنے ربّ سے جڑ جاؤ۔یہی مغفرت ہے، یہی رحمت ہے اور یہی خود احتسابی کی عظیم رات کا اصل مفہوم ہے۔
9797888975رابطہ ۔