رئیس یاسین
آج کے دور میں شادی کا ادارہ ایک تیزی سے بدلتے ہوئے اور تشویش ناک دوراہے پر کھڑا ہے۔ کبھی یہ رشتہ خلوص، اعتماد، سادگی اور اسلامی اصولوں پر قائم ایک مقدس بندھن سمجھا جاتا تھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس میں وہ پیچیدگیاں پیدا ہو چکی ہیں جنہوں نے نوجوان نسل اور پورے معاشرتی ڈھانچے کو غیر یقینی کی طرف دھکیل دیا ہے۔
ایک طرف وہ نوجوان ہیں جو محبت میں اپنے جذبات، وقت اور اعتماد کو پوری سچائی سے لگاتے ہیں۔ وہ مستقبل کے حسین خواب بُنتے ہیں، مگر اکثر یہ محنت اور خلوص دل ٹوٹنے پر ختم ہو جاتا ہے۔ جھوٹے وعدے، وقتی دلچسپی، جذباتی استحصال اور خود غرضی پر مبنی تعلقات نے نوجوانوں کو ذہنی طور پر تھکا دیا ہے۔ بعض اوقات رشتے کا مقصد محبت نہیں بلکہ مفاد، سہولت یا مالی فائدہ بن جاتا ہے، جس سے محبت ایک لین دین کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
دوسری طرف وہ افراد ہیں جو حیا، کردار، اصول اور روایتی اسلامی اقدار پر قائم رہتے ہیں۔ لیکن جب شادی کا معاملہ سامنے آتا ہے تو انہیں بھاری جہیز، سونے کی زیادتی، خاندان کی سخت پسند و ناپسند اور ذات پات جیسے غیر ضروری معاشرتی مطالبات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یوں ان کی خوبیوں، کردار اور دیانتداری کی اہمیت کم ہو جاتی ہے، جبکہ رسم و رواج اور دکھاوا اصل معیار بنا دیے جاتے ہیں۔
محبت کی شادی کرنے والے جوڑے بھی اپنے امتحانات سے محفوظ نہیں۔ جذبات کے ابتدائی دور کے بعد عملی زندگی کی حقیقتیں سامنے آتی ہیں تو انہیں معلوم ہوتا ہے کہ شادی کا اصل امتحان محبت سے بہت آگے ہے۔ معاشی دباؤ، ملازمت کی مشکلات، خاندانی ذمہ داریاں اور مزاجی اختلافات وہ مستقل چیلنجز ہیں جو اکثر جوڑوں کو حیران کر دیتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ بے وفائی، وعدہ خلافی اور غیر سنجیدہ تعلقات کا بڑھتا ہوا رجحان معاشرتی خرابیوں کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ نوجوانوں کو انہی لوگوں کی طرف سے دھوکہ مل جاتا ہے جن پر وہ سب سے زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔ تعلقات بغیر کسی اخلاقی بنیاد کے ختم کر دیے جاتے ہیں اور اس رویے کو معمول سمجھ لیا گیا ہے، جو فیملی سسٹم کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔اس تمام صورتحال میں مہنگائی نے حالات کو اور بھی سنگین بنا دیا ہے۔ جہیز، مہر، شادی کے اخراجات اور سماجی مقابلے بازی نے شادی جیسے مقدس فریضے کو بوجھ بنا دیا ہے۔ نتیجتاً نہ صرف نوجوان پریشان ہیں بلکہ والدین بھی احساسِ ذمہ داری اور مالی دباؤ کے نیچے دبنے لگے ہیں۔یہ مجموعی صورتحال اس بات کی علامت ہے کہ ہمارے معاشرے میں اقدار کمزور ہو رہی ہیں۔ جو عمل کبھی غلط سمجھا جاتا تھا، آج اسے معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔ سچائی، حیا، ذمہ داری اور کردار کی مضبوطی کی وہ بنیادیں ٹوٹتی دکھائی دیتی ہیں جن پر کبھی خاندان پروان چڑھتے تھے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بحیثیت قوم اپنی ترجیحات پر نظرثانی کریں۔ اسلامی اصولوں کی سادگی، باہمی احترام، ذمہ داری اور اخلاقی تربیت کو دوبارہ زندہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جب ہم جہیز، دکھاوا اور غیر ضروری رسم و رواج کو چھوڑ کر کردار، دیانت اور محبت کو معیار بنائیں گے، تبھی شادی ایک بار پھر خوشی، سکون اور بابرکت زندگی کا آغاز بن سکے گی۔
رابطہ۔ 7006760695