مسعود محبوب خان
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں ظاہری اعمال کے ساتھ ساتھ باطنی کیفیات کی اصلاح پر بھی غیر معمولی زور دیا گیا ہے۔ انہی باطنی اوصاف میں ایک نہایت اہم اور بنیادی وصف ’’حیاء‘‘ہے، جسے محض ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ ایمان کا جزو قرار دیا گیا ہے۔ حیاء وہ لطیف احساس ہے جو انسان کو برائی سے روکتا، بھلائی کی طرف مائل کرتا، کردار کو سنوارتا، نگاہوں کو جھکاتا اور دلوں کو پاکیزگی عطاء کرتا ہے۔اسی حقیقت کو نبی کریمؐ نے نہایت بلیغ انداز میں واضح فرمایا کہ ،’’ حیاء ایمان کا ایک اہم حصّہ ہے‘‘ گویا جس قدر انسان کے اندر حیاء پائی جائے گی، اُسی قدر اس کے ایمان کی تکمیل اور مضبوطی کا اظہار ہوگا۔اسلامی تعلیمات میں خصوصاً عورت کے مقام و مرتبہ کو بلند کرنے کے لیے حیاء کو ایک مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ یہ وہ وصف ہے جو عورت کے وجود کو محض ظاہری دلکشی سے بلند کر کے ایک باوقار، محترم اور باعزّت مقام عطا کرتا ہے۔ قرآن و سنّت کی روشنی میں واضح ہوتا ہے کہ حقیقی حسن وہی ہے جو عصمت، پاکدامنی اور وقار کے حصار میں محفوظ ہواور یہی وہ معیار ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک قابلِ قدر ہے۔حیاء محض عورت تک محدود نہیں بلکہ ایک اجتماعی قدر ہے، جس کی بنیاد پر پورا معاشرہ پاکیزگی اور احترام کی فضا سے آراستہ ہوتا ہے۔ مردوں کے لیے نگاہ کی حفاظت، زبان اور رویّے میں شائستگی اور خواتین کے احترام کی ذمّہ داری اسی سلسلے کی اہم کڑیاں ہیں۔ جب مرد و زن دونوں قرآنی ہدایت کو اپنی عملی زندگی کا حصّہ بنا لیتے ہیں تو ایک ایسا معاشرہ وجود میں آتا ہے جہاں وقار، عفت اور باہمی احترام اپنی بلند ترین صورت میں جلوہ گر ہوتے ہیں۔حیاء انسانی کردار کا وہ درخشاں جوہر ہے جو نہ صرف فرد کی باطنی کیفیت کو سنوارتا ہے بلکہ اس کی ظاہری شخصیت کو بھی وقار، توازن اور دلکشی عطاء کرتا ہے۔ یہ محض ایک اخلاقی وصف نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر طرزِ زندگی ہے جو انسان کے افکار، جذبات اور اعمال کو ایک لطیف نظم میں پرو دیتا ہے۔ خصوصاً عورت کے لیے حیاء وہ تاجِ فضیلت ہے جو اس کی عظمت کو بلند کرتا ہے اور اس کے وجود کو ایک خاص تقدّس عطاء کرتا ہے۔
اسلامی تاریخ اور سیرتِ صحابیاتؓ میں حیاء کے بے شمار روشن نمونے ملتے ہیں، جو اس صفت کی عملی تصویر پیش کرتے ہیں۔ چنانچہ حضرت فاطمہؓ کا واقعہ نہایت سبق آموز ہے کہ آپؓ کو اس بات کی فکر لاحق رہی کہ وفات کے بعد بھی آپ کے جسدِ اطہر کے خد و خال نمایاں نہ ہوں۔ اسی احساسِ حیاء کے پیشِ نظر آپؓ نے ایسا طریقہ اختیار کرنے کی وصیت فرمائی، جس سے پردے کا مکمل اہتمام ہو سکے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حقیقی حیاء انسان کے ساتھ زندگی ہی نہیں بلکہ اس کے بعد کے مراحل تک وابستہ رہتی ہے۔
اسی طرح حضرت عائشہؓ کا طرزِ عمل بھی غیر معمولی درجۂ حیاء کا مظہر ہے۔ آپؓ فرماتی ہیں کہ جب حجرۂ مبارک میں رسولِ اکرمؐ اور حضرت ابوبکرؓ مدفون تھے تو میں بے تکلفی سے آتی جاتی تھی، لیکن جب حضرت عمرؓ کو بھی وہیں دفن کیا گیا تو میں نے مکمل پردے کا اہتمام شروع کر دیا، اس احساس کے ساتھ کہ وہ ایک غیر محرم ہیں۔ یہ واقعہ اس بات کو نمایاں کرتا ہے کہ حیاء کا تعلق صرف ظاہری حالات سے نہیں بلکہ دل کے احساس اور شعور سے ہوتا ہے۔حضرت اسماءؓ کی سادگی اور حیاء بھی ایک روشن مثال ہے۔ آپؓ نہایت سادہ زندگی گزارتی تھیں، مگر اس کے باوجود وقار، پردے اور عفت کا مکمل اہتمام رکھتی تھیں۔ ان کی زندگی اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ حیاء کا تعلق دولت یا ظاہری وسائل سے نہیں بلکہ کردار کی پاکیزگی اور نیت کی صفائی سے ہے۔ یوں یہ تمام واقعات اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ حیاء محض ایک نظریاتی تعلیم نہیں بلکہ ایک زندہ اور عملی قدر ہے، جسے صحابیاتؓ نے اپنی زندگی کے ہر پہلو میں اختیار کر کے آنے والی نسلوں کے لیے بہترین نمونہ بنا دیا۔
عورت کی خوبصورتی محض اس کے ظاہری خدوخال، رنگ و روپ یا فیشن کی چمک دمک میں نہیں پنہاں، بلکہ اس کی اصل خوبصورتی اس کے کردار، اس کی متانت اور اس کی حیاء میں مضمر ہے۔ بلاشبہ، وہ حسن جو نگاہوں کو خیرہ کر دے، وقتی طور پر متاثر کر سکتا ہے، مگر وہ حسن جو حیاء اور وقار کے پردے میں محفوظ ہو، دلوں میں دیرپا اثر چھوڑتا ہے۔ یہی وہ حسن ہے جو نہ صرف دنیا میں عزّت کا باعث بنتا ہے بلکہ آخرت میں بھی سرخروئی کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔حیاء دراصل ایک ایسا زیور ہے جو نہ صرف عورت کے حسن کو چار چاند لگاتا ہے بلکہ اسے ایک معنوی وقار بھی عطاء کرتا ہے۔ یہ وہ صفت ہے جو عورت کو محض ایک جسمانی وجود سے بلند کر کے ایک باوقار اور محترم ہستی بنا دیتی ہے۔ اس کے برعکس، اگر حیاء کا دامن چھوٹ جائے تو ظاہری خوبصورتی اپنی اصل معنویت کھو بیٹھتی ہے اور محض ایک کھوکھلے مظہر میں تبدیل ہو جاتی ہے، جس کی کوئی حقیقی قدر باقی نہیں رہتی۔حیاء کے اثرات صرف فرد کی ذات تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشرے کو اپنی مثبت تاثیر سے ہمکنار کرتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر یہ خاندانی نظام کے استحکام کا ذریعہ بنتی ہے، کیونکہ جب افراد کے کردار میں پاکیزگی اور ذمّہ داری پیدا ہوتی ہے تو رشتے مضبوط اور اعتماد پائیدار ہو جاتا ہے۔ آج کے دور میں، جہاں ظاہری نمائش اور بے پردگی کو ترقی اور آزادی کا نام دیا جا رہا ہے، وہاں حیاء کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس عظیم صفت کو محض ایک روایتی تصور نہ سمجھیں بلکہ اسے اپنی زندگی کا عملی حصّہ بنائیں۔ کیونکہ حقیقی آزادی وہی ہے جو انسان کو اخلاقی حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنے مقام و مرتبہ کو برقرار رکھنے کی توفیق دے۔
رابطہ۔ 09422724040
[email protected]
���������������