امتیاز خان
کیا آپ نے کبھی تنہائی میں بیٹھ کر سوچا ہے کہ ایک انسان کے اندر چھپی ہوئی وحشت آخر اس حد تک بڑھ سکتی ہے کہ وہ ایک معصوم بچی کی زندگی چھین لے؟ ایک ایسی بچی جو علم حاصل کرنے کی غرض سے گھر سے نکلی ہو، جس کے ہاتھوں میں قرآن جیسی مقدس کتاب ہو، مگر واپس اپنے قدموں پر نہ لوٹے بلکہ ایک بے جان جسم کی صورت گھر پہنچے۔ ایسا جسم جس پر درندگی، سفاکیت اور ظلم کے انمٹ نشانات ثبت ہوں۔ یہ صرف ایک خاندان کا سانحہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے ضمیر پر ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جس کا جواب ہم سب کو دینا ہے۔
چند روز قبل وسطی ضلع بڈگام کے گلوان پورہ نامی گائوں میں پیش آنے والے دل دہلا دینے والے واقعہ نے ہر حساس انسان کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ یہ کوئی پہلا سانحہ نہیں۔ 2023میں اسی علاقے میں محض چند کلو میٹر دور سویہ بگ نامی گائوں میںایک اور ماں اپنی بیٹی کو پکارتی رہ گئی، ایک اور باپ کے خواب مٹی تلے سو گئے۔درندگی کا حال یہ تھا کہ اُس بیٹی کو نہ صرف جنسی زیادتی کا شکار بنایا گیا تھابلکہ اس کے جسم کے اعضاء کوکاٹ کر الگ الگ جگہوں پر پھینک دیا گیا تھا ۔ان دردناک واقعات کے بعد ہر بار لوگ سڑکوں پر آتے ہیں، احتجاج ہوتے ہیں، مذمتی بیانات جاری ہوتے ہیں اور انصاف کے وعدے کئے جاتے ہیں، مگر کچھ عرصے بعد سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ پھر ایک نیا سانحہ جنم لیتا ہے اور ہم دوبارہ اسی کربناک دائرے میں داخل ہو جاتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ کیا ہم صرف چند روز کے غم اور چند گھنٹوں کے احتجاج کو اپنا فرض سمجھ بیٹھے ہیں؟ کیا ہماری ذمہ داری صرف سوشل میڈیا پر اظہارِ افسوس تک محدود رہ گئی ہے؟ اگر ایسا ہے تو ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ مسئلہ صرف مجرموں کا نہیں بلکہ ایک ایسی اجتماعی بے حسی کا بھی ہے جو آہستہ آہستہ ہماری رگوں میں سرایت کر چکی ہے۔اس المیے کا ایک اور شرمناک پہلو وہ کاروباری رویہ ہے جو آج کل سوشل میڈیا پر کچھ لوگ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ جب ایک خاندان اپنی زندگی کی سب سے بڑی قیامت سے گزر رہا ہوتا ہے، جب والدین اپنے بچے کے غم میں جیتے جی مر رہے ہوتے ہیں، تب کچھ بے حس لوگ اپنے موبائل کیمرے اور مائیک اٹھائے جھپٹتے ہیں اور ان کے دکھ کا تماشہ بنا دیتے ہیں۔کسی تڑپتی ہوئی ماں کے آنسو، کسی باپ کی ٹوٹی ہوئی چیخیں اور کسی معصوم کا جنازہ تمہارے لئے ’بریکنگ نیوز‘یا ویوز بڑھانے کا ذریعہ نہیں ہونا چاہئے۔یہ صحافت یا ڈیجیٹل کانٹینٹ نہیں بلکہ انسانی لاشوں پر کی جانے والی بدترین تجارت ہے۔ صحافت کا مقصد دکھ درد کو سمجھنا اور معاشرے کو آگاہ کرنا ہے ، زخموں کو کرید کر انہیں نمائش کا سامان بنانا نہیں؟
حقیقت یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ ایک گہرے اخلاقی بحران کا شکار ہے۔ ہم ترقی، آسائشوں اور مادی کامیابیوں کی دوڑ میں اس قدر آگے نکل گئے ہیں کہ انسانیت، ہمدردی اور احساس کو پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کو بہترین تعلیم، مہنگے موبائل فون اور ہر طرح کی سہولت فراہم کرنے کی کوشش کرتے ہیں، مگر کیا ہم انہیں کردار، احترام، ذمہ داری اور انسان دوستی بھی سکھا رہے ہیں؟آج ضرورت اس سوال پر غور کرنے کی ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو آخر کیا دے رہے ہیں؟ کیا ہم انہیں صرف کامیاب انسان بنانا چاہتے ہیں یا اچھا انسان بھی؟ کیا ہم نے اپنے بیٹوں کو یہ سکھایا ہے کہ عورت عزت اور احترام کی مستحق ہے؟ کیا ہم نے انہیں یہ بتایا ہے کہ طاقت، دولت یا اثر و رسوخ قانون اور اخلاقیات سے بڑا نہیں ہوتا؟
آج ہمارے معاشرے میں ایک خطرناک سوچ پروان چڑھ رہی ہے جس میں بعض نوجوان خود کو قانون سے بالاتر سمجھنے لگے ہیں۔ انہیں یقین ہوتا ہے کہ تعلقات، پیسہ یا عہدہ ہر مشکل سے بچا سکتا ہے۔ جب ایک نوجوان بزرگوں کی نصیحت کو حقارت سے رد کرتا ہے تو مسئلہ صرف اس نوجوان کا نہیں ہوتا بلکہ اس تربیت کا ہوتا ہے جس نے اسے احترام اور عاجزی کی اہمیت سے ناواقف رکھا۔یہاں ایک اور تلخ سوال بھی جنم لیتا ہے۔ کیا والدین کی کوئی ذمہ داری نہیں بنتی؟ کوئی بھی شخص اچانک مجرم نہیں بنتا۔ اس کی سوچ، عادات، صحبت اور رویوں میں تبدیلی آتی ہے۔ اگر ایک نوجوان مسلسل غلط راستے پر چل رہا ہو تو کیا اس کے آثار گھر والوں کو نظر نہیں آتے؟ کیا ہم نے کبھی سنجیدگی سے جاننے کی کوشش کی کہ ہمارے بچے اپنا وقت کہاں گزارتے ہیں، کن لوگوں کے ساتھ رہتے ہیں اور کن خیالات سے متاثر ہو رہے ہیں؟برسوں سے ہم اپنی بیٹیوں کو احتیاط، پردے اور تحفظ کی نصیحت کرتے آئے ہیں، مگر کیا ہم نے اپنے بیٹوں کو نظریں جھکانے، عزت دینے اور حدود پہچاننے کا سبق بھی اتنی ہی سنجیدگی سے دیا ہے؟ اگر نہیں، تو ہمیں اس کمی کا اعتراف کرنا ہوگا کیونکہ محفوظ معاشرے صرف بیٹیوں کو محتاط بنانے سے نہیں بلکہ بیٹوں کو ذمہ دار بنانے سے وجود میں آتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے تعلیمی اور سماجی نظام کا بھی جائزہ لینا ہوگا۔ اگر تعلیم صرف ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ بن جائے اور کردار سازی اس کا حصہ نہ رہے تو معاشرہ علم یافتہ تو ہو سکتا ہے، مہذب نہیں۔ اگر نوجوانوں کی ذہنی اور اخلاقی تربیت نظرانداز کر دی جائے تو پھر ترقی کے تمام دعوے کھوکھلے ثابت ہوتے ہیں۔انصاف یقینا ضروری ہے۔ ایسے
جرائم میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سخت ترین سزا ملنی چاہئے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف کا احساس ہو اور دوسروں کیلئے عبرت قائم ہو لیکن انصاف صرف سزا کا نام نہیں۔ حقیقی انصاف اس وقت ہوگا جب ہم ایسے حالات پیدا کریں جہاں کسی معصوم بچی کو اپنی جان اور عزت کے خوف کے بغیر گھر سے نکلنے کا حق حاصل ہو۔
گلوان پورہ جیسے سانحات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ آخر ہم بحیثیت قوم کس سمت جا رہے ہیں؟ کیا ہم واقعی ایک زندہ معاشرہ ہیں یا صرف ایسے تماشائی بن چکے ہیں جو ہر حادثے پر چند لمحے افسوس کرتے ہیں اور پھر معمول کی زندگی میں واپس لوٹ جاتے ہیں؟ کیا ہماری خاموشی کہیں ان مجرموں کی طاقت تو نہیں بن رہی؟ کیا ہم نے اپنے ضمیر کو وقتی جذبات کے حوالے کر دیا ہے؟یہ سوال صرف حکومت، عدالت، پولیس، میڈیا یا والدین سے نہیں بلکہ ہم سب سے ہے۔ ہر اس شخص سے جو اس معاشرے کا حصہ ہے۔ اگر ہم واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو اس کا آغاز ہمارے گھروں، ہمارے رویوں اور ہماری ترجیحات سے ہوگا۔ ہمیں اپنے بچوں کو انسانیت سکھانی ہوگی، اپنے معاشرے میں احساس جگانا ہوگا اور ہر اس رویے کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی جو ظلم، بے حسی یا درندگی کو جنم دیتا ہے۔آج ایک معصوم بچی کی موت ہم سے سوال کر رہی ہے۔ سوال یہ نہیں کہ مجرم کون ہے، سوال یہ بھی ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کیا ہم اس وقت تک خاموش رہیں گے جب تک یہ آگ ہمارے اپنے دروازوں تک نہیں پہنچ جاتی؟ یا ہم ابھی سے اپنے معاشرے کو بہتر بنانے کی کوشش کریں گے؟ اگر ہم نے آج خود احتسابی نہ کی، اگر ہم نے اپنے رویے نہ بدلے، اگر ہم نے اپنی نئی نسل کی اخلاقی تربیت کو سنجیدگی سے نہ لیا، تو کل آنے والی ہر ایسی خبر صرف ایک نئے سانحہ کی خبر نہیں ہوگی بلکہ ہماری اجتماعی ناکامی کا اعلان ہوگی۔ سوال آج بھی وہی ہے اور شاید سب سے اہم بھی: ہم آخر کب جاگیں گے؟
��