سوپور// سوپور قصبہ میں سب ضلع اسپتال کے قریب میونسپل کونسل آفس کے احاطے میں موجود منتخب بلدیاتی نمائندوں اور ان کی حفاظت پر مامور سیکورتٰ عملے پر مشتبہ جنگجوئوں نے دن دھاڑے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں بھاجپاسے وابستہ ایک کونسلر اورایک کونسلر کا ذاتی محافظ جاں بحق جبکہ مہلوک کونسلرکاوالد نسبتی (کونسلر)زخمی ہوگیاجس کونازک حالت میں سرینگرمنتقل کیاگیا۔گذشتہ 5روز میں جنگجوئوں کی جانب سے دن دھاڑے 2حملے کئے جاچکے ہیں جن کے دوران فورسز یا پولیس کے 4اہلکاروں کی ہلاکت ہوئی ہے۔
حملہ کیسے ہوا؟
کئی کونسلروں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ انہوں نے پیر کوکپوارہ روڑ پر واقع میونسپل آفس بالمقابل سب ڈسٹرکٹ اسپتال سوپور میں ایک اہم میٹنگ کے انعقاد کا پروگرام رکھا تھا اور انہوں نے ایک روز قبل ہی مقامی پولیس کو یہ معلومات فرام کی تھیں کہ میٹنگ کی جگہ پر حفاظتی بندو بست کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ جب وہ میونسل کونسل آفس پہنچ گئے تو وہاں کوئی حفاظتی بندو بست نہیں کیا گیا تھا البتہ متعلقہ کونسلروں کو جو ذاتی محافظین فراہم کئے گئے ہیں وہ آفس کے احاطے میں موجود تھے۔بعد دوپہر قریب ایک بجکر 10منٹ پر جب فائرنگ کا واقع پیش آیا تو اس وقت کونسلر آفس کے اندر موجود تھے تاہم دو کونسلر جو باپ بیٹے بھی ہیں، میٹنگ میں شامل ہونے کیلئے جونہی آفس کے احاطے میںپہنچ گئے تو اسی دوران نامعلوم جنگجوئوں نے گیٹ کے قریب اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں مذکورہ دونوں کونسلر اور ایک کونسلو کا ذاتی محافظ شدید طور پر زخمی ہوئے جن میں سے بعد میں بی جے پی کونسلرننگلی سوپور کے ریاض احمدپیرولد غلام نبی پیر اور ایک کونسلر کا ذاتی محافظ ایس پی او شفاعت نذیر خان ولد نذیراحمدخان ساکن منڈجی سوپور زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھا جبکہ مہلوک کونسلرریاض احمدکا والدنسبتی شمس الدین و لد غلام محمدپیر ،جوکہ خودبھی کونسلرہے، کو نازک حالت میں سرینگر منتقل کردیا گیا۔بتایا جاتا ہے کہ ایک کونسلر کے ذاتی محافظ نے پستول سے جنگجوئوں پر فائر کھول دیا اور انکے پیچھے گیٹ تک آگیا جس کے باعث جنگجو فرار ہوئے۔معلوم ہوا ہے کہ مہلوک پولیس اہلکار کونسلر مسرت رسول کار کا ذاتی محافظ تھا۔اس موقعہ پر سوپورمیونسپل کونسل دفترکے اندراورباہر افراتفری مچ گئی۔ حملے کے فوراً بعد پولیس اور فورسز کے اعلیٰ حکام کے علاوہ نیشنل کانفرنس لیڈر ارشادرسول کار یہاںپہنچ گئے اورانہوں نے تینوںزخمیوں کواسپتال پہنچایا۔ زخمیوں کے خون سے این سی لیڈرکے کپڑے بھی خون آلود ہوگئے۔بلاک میڈیکل افسرسوپور نے کہاکہ تین زخمیوںکوسب ڈسٹرکٹ اسپتال سوپور لایاگیا تاہم ریاض احمدنامی کونسلر اورایس پی ائو شفاعت نذیر دم توڑ بیٹھے جبکہ شمس الدین نامی زخمی شہری کومزیدعلاج کیلئے سری نگرروانہ کیاگیا۔سوپورمیونسپل کونسل آفس پر ہوئے جنگجویانہ حملے کی اطلاع ملتے ہی پولیس وفورسزنے اس پورے علاقے کومحاصرے میں لیکرتلاشی کارروائی عمل میں لائی ۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ محاصرہ اورتلاشی کارروائی کافی وقت تک جاری رہی تاہم کسی کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ۔ادھرپولیس ذرائع نے بتایاکہ سوپورمیونسپل کونسل آفس پرہوئے حملے کی مناسبت سے کیس درج کرکے تحقیقات کیلئے ایک ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ایس ایس پی سوپورسدھانشوورمانے کہاکہ اس حملے میں 2جنگجوشامل تھے ،جن کی تلاش بڑے پیمانے پرشروع کردی گئی ہے۔مہلوک پولیس اہلکار شفاعت نذیرکے اعزازمیں منعقدہ تعزیتی تقریب کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ، بتایا کہ اس حملے کے پیچھے 2عسکریت پسند تھے ، انہوں نے بتایا کہ حملہ آوروں کی گرفتاری کے لئے تلاش جاری ہے
پولیس بیان
پولیس کے مطابق پیر تقریباً ایک بجکر 10منٹ پر سوپور پولیس کو سب ضلع اسپتال کے قریب دہشت گردی کے ایک واقعے کی اطلاع ملی جہاں دہشت گردوں نے میونسپل کونسلرز پر حملہ کیا۔ پولیس اور سی آر پی ایف کے سینئر افسران اپنی ٹیموں کے ہمراہ فوری طور پر جرائم کی جگہ پر پہنچ گئے۔ابتدائی تفتیش میںکہا گیاہے کہ دہشت گردوں نے ایس ڈی ایچ سوپور کے سامنے لون بلڈنگ کے قریب میونسپل کونسلرز پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں میونسپل کونسل کے دو ممبران باپ بیٹا ریاض احمد پیر اور شمس الدین پیر اور پولیس اہلکار شفقت نذیر زخمی ہوگئے۔ تاہم ، زخمی کونسلر ریاض احمد ساکن ننگلی اور پولیس اہلکاروں شفقت احمد ساکن منڈجی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے ۔ایک اور زخمی کونسلر شمس الدین پیر کو زخمی حالت میں علاج کے لئے اسپتال منتقل کردیا گیا ، جہاں اسکی حالت نازک قرار دی جارہی ہے۔
حملے میں مقامی
اور غیر ملکی جنگجو ملوث: آئی جی
۔4ذاتی محافظین معطل
سوپور /غلام محمد/ کونسلروں پر جنگجوئوں کی جانب سے حملے کے بعد آئی جی پی کشمیر وجے کمار نے سوپور کا دورہ کیا اور جائے وقوع کا جائزہ لیا۔ اس کے بعد ، انہوں نے کمانڈر 5 سیکٹر آر آر ، ڈی آئی جی سی آر پی ایف اور ایس ایس پی سوپور سے سیکورٹی جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔ ملاقات کا مرکزی مرکز سوپور ٹاؤن میںجنگجوئوںکا حملہ تھا اور اس طرح کے دہشت گرد حملوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ضروری حفاظتی اقدامات کرنا تھا۔ آئی جی پی کشمیر نے افسران سے بات چیت کرتے ہوئے شریک افسران سے اپیل کی کہ کمزور افراد کی سلامتی بڑھانا اور دہشت گردوں کے مذموم ڈیزائن کو ناکام بنانے کے لئے تمام ضروری اقدامات کرنا ضروری ہے۔ابتدائی تفتیش سے ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ حملے میں غیر ملکی جنگجوکے ساتھ ایل ای ٹی کا ایک مقامی جنگجومدثر پنڈت بھی شامل ہے۔ تاہم ، مزید تفتیش جاری ہے۔ آئی جی پی کشمیر نے موقع پر موجود محفوظ افراد کے پی ایس او کی ناقص اور نامناسب انتقامی کارروائی کا بھی سختی سے نوٹس لیا اور ایس ایس پی سوپور کو4 پی ایس او کو معطل کرنے کی ہدایت کی۔بعدازاں ڈی پی ایل سوپور میں ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں میتوں پر پھولوں کی چادر یںچڑھائیں گئیں۔د ونوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔پولیس نے قانون کے متعلقہ حصوں کے تحت اس سلسلے میں مقدمہ درج کیا ہے اور افسران اس دہشت گردی کے جرم کے مکمل حالات کو قائم کرنے کے لئے کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ حملہ آوروں کی گرفتاری کے لئے مختلف مقامات پر سرچ آپریشن جاری ہے۔
لاوے پورہ حملہ کا زخمی اہلکار
صورہ اسپتال میں چل بسا، تعداد 3
بلال فرقانی
سرینگر//لاوے پورہ( ایچ ایم ٹی) میں جنگجوئیانہ حملے کے دوران زخمی ہونے والا ایک اور فورسزاہلکاردم توڑبیٹھا ،اس طرح حملے میں فورسز اہلکاروں کی ہلاکتیں 3تک پہنچ گئی ہیں۔25مارچ کوسرینگربارہمولہ شاہراہ پرواقع علاقہ لاوے پورہ میں ایک نجی ہوٹل اور نجی اسپتال کے نزدیک جنگجوئوں نے سی آرپی ایف کی73ویں بٹالین سے وابستہ ایک روڑاوپنگ پارٹی پراندھادھند فائرنگ کی تھی، جس کے نتیجے میں ایک سب انسپکٹر منگا رام دیو،کانسٹیبل اشوک کمار اور کانسٹیبل جگن ناتھ شدید زخمی ہوئے۔ جنگجو حملے کے دوران سب انسپکٹر منگا رام دیو کی رائفل بھی ارانے مٰن کامیاب ہوئے تھے۔بعد میں ایس آئی منگا رام دیو اور اشوک کمار اسپتال لیجاتے ہوئے دم توڑ بیٹھے جبکہ کانسٹیبل جگن ناتھ 4روز بعد صورہ اسپتال مین زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا۔اس طرح لاوے پورہ حملے میںہلاک شدہ اہلکاروں کی تعدادتین ہوگئی ہے۔پولیس نے اس حملے میں جنگجوئوںکے2سرگرم معاونین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔
کرناہ میں اسلحہ اور گولہ بارود بر آمد
اشرف چراغ
کپوارہ//شمالی ضلع کپوارہ کے کرناہ علاقہ میں سیکورٹی فورسز نے بھاری مقدار میں اسلحہ بر آمد کرلیا ہے۔ پولیس نے کہا ہے کہ چند شک آور افراد کو احتیاطی طور پر حراست میں لیا گیا ہے جن سے پوچھ تاچھ جاری ہے۔پو لیس کا کہنا ہے کہ ایک مصدقہ اطلاع ملنے پر پولیس اور فوج نے مشترکہ طور پر حد متارکہ کے نزدیک دھنی ٹاڈ علاقہ میں ایک کارروائی کے دوران بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود بر آمد کیا جس میں5 اے کے رائفلیں ، انکے6 میگزین اور7پستول اور انکے 9میگزین شامل ہیں ۔پولیس کا کہنا ہے کہ معاملہ کی نسبت کرناہ پولیس تھا نے میں کیس زیر نمبر19/2021درج کیا گیا ہے۔