خورشید ریشی
ہمارے معاشرے میں ایسی سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں مثالیں موجود ہیں جہاں نشے کی لت نے نوجوانوں کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ کہیں کسی نوجوان نے اپنے ہی باپ کو موت کی ابدی نیند سلا دیا، تو کہیں کسی نے اپنی ماں کا بے رحمی سے گلا گھونٹ دیا۔ یہ واقعات سننے میں جتنے ہولناک ہیں، حقیقت میں اس سے کہیں زیادہ دردناک ہیں، کیونکہ ان کے پیچھے ایک ٹوٹتا ہوا معاشرہ، بکھرتے ہوئے خاندان اور ختم ہوتی ہوئی امیدیں پوشیدہ ہوتی ہیں۔نشہ صرف ایک فرد کو متاثر نہیں کرتا بلکہ یہ پورے خاندان بلکہ پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ ایک نوجوان جب اس دلدل میں پھنستا ہے تو اس کے ساتھ اس کے والدین کے خواب، بہن بھائیوں کی خوشیاں اور خاندان کی عزت بھی خاک میں مل جاتی ہے۔ ماں کی آنکھوں کے خواب، باپ کی امیدیں، سب کچھ اس ایک لعنت کی نذر ہو جاتا ہے۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جدید دور میں جہاں ترقی کے بے شمار مواقع موجود ہیں، وہیں نوجوان نسل مختلف ذہنی، سماجی اور معاشی دباؤ کا شکار ہو رہی ہے۔ بے روزگاری، مقابلے کی دوڑ، سوشل میڈیا کا منفی اثر اور غلط صحبت نوجوانوں کو نشے کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس مسئلے کو صرف ایک عادت نہیں بلکہ ایک سماجی بیماری کے طور پر دیکھیں۔اسی پس منظر میں جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر شری منہوج سنہا کی قیادت میں شروع کی گئی’’سو دن نشہ مُکت مہم‘‘ ایک انقلابی قدم ثابت ہو سکتاہے۔ یہ مہم صرف وقتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر تحریک کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ گلی کوچوں سے لے کر تعلیمی اداروں تک، ہر جگہ بیداری کی ایک نئی لہر دوڑ رہی ہے۔ ریلیاں، سیمینارز، ورکشاپس اور عوامی اجتماعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ معاشرہ اب خاموش رہنے کے بجائے عملی قدم اٹھا رہا ہے۔
یہاں ایک اہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا صرف سو دنوں کی مہم اس مسئلے کا مستقل حل ہو سکتی ہے؟ جواب یہ ہے کہ یہ سو دن دراصل ایک آغاز ہیں، ایک بنیاد ہیں، جس پر ایک نشہ مُکت معاشرے کی عمارت تعمیر کی جا سکتی ہے۔ اگر ان سو دنوں کے دوران پیدا ہونے والی بیداری کو مستقل عمل میں تبدیل کر دیا جائے تو یہ مہم ایک تاریخی تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔اس ضمن میں ہمیں تعلیمی نظام کو بھی مزید فعال بنانا ہوگا۔ اسکولوں اور کالجوں میں نہ صرف تعلیمی بلکہ اخلاقی تربیت پر بھی زور دینا ہوگا۔ طلبہ کو یہ شعور دینا ہوگا کہ نشہ وقتی سکون نہیں بلکہ دائمی تباہی کا راستہ ہے۔ اساتذہ کو چاہیے کہ وہ صرف کتابی علم تک محدود نہ رہیں بلکہ طلبہ کی شخصیت سازی میں بھی اپنا کردار ادا کریں۔اسی طرح معاشرے کے بااثر افراد، ادیب، صحافی،سیاسی اور سماجی شخصیات کو بھی اپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔ مثبت پیغام، حقیقی کہانیاں اور متاثر کن مثالیں نوجوانوں کے ذہنوں کو بدل سکتی ہیں۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ جنگ صرف میدان میں نہیں بلکہ ذہنوں میں بھی لڑی جاتی ہے۔اس وقت اس بدعت کے خلاف یہ جنگ ایک فیصلہ کن موڈ اختیار کر چکی ہے۔منشیات میں ملوث افراد کے خلاف جموں کشمیر پولیس نے چاروں طرف سے شکنجہ کس لیا ہے اور ایسے افراد کی تلاش ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے اور آئے روز ایسے افراد کو گرفتار کیا جاتا ہے اور انکی جائیداد کو زمین بوس کرکے ایک مثال قائم کی جا رہی ہے۔مزید یہ کہ حکومت نے بھی نشہ آور اشیاء کی ترسیل اور فروخت کے خلاف سخت اقدامات اُٹھائے ہیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مزید مستعد بنایا گیا ہے تاکہ اس ناسور کی جڑ کو کاٹا جا سکے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ بحالی مراکز (Rehabilitation Centers) کو مضبوط اور فعال بنانا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ جو نوجوان اس لت کا شکار ہو چکے ہیں، انہیں دوبارہ ایک باوقار زندگی دی جا سکے۔
والدین کا کردار اس سارے عمل میں سب سے اہم ہے۔ ایک مضبوط اور محبت بھرا خاندانی نظام ہی نوجوانوں کو ان برائیوں سے بچا سکتا ہے۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزاریں، ان کے مسائل کو سمجھیں اور انہیں اعتماد دیں تاکہ وہ کسی بھی مشکل میں غلط راستہ اختیار نہ کریں۔آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ نشے کے خلاف یہ جنگ صرف ایک مہم نہیں بلکہ ایک عہد ہے،اپنے حال کو بچانے کا اور اپنی آنے والی نسلوں کو محفوظ بنانے کا۔ اگر ہم نے آج اس لعنت کے خلاف متحد ہو کر قدم نہ اٹھایا تو کل شاید بہت دیر ہو جائے۔
آئیے ہم سب مل کر یہ عہد کریں کہ نہ خود کو اس زہر کا عادی بنائیں گے،نہ اپنی نسلوں کو اس کا شکار ہونے دیں گے۔ہم روشنی کے مسافر ہیں،اندھیروں سے جنگ جیت کر رہیں گے۔اگر ہم نے سنجیدگی، خلوص اور مستقل مزاجی کے ساتھ اس مہم کو آگے بڑھایا تو وہ دن دور نہیں جب ہمارا معاشرہ واقعی نشہ مُکت ہوگا،جہاں نوجوان امید، توانائی اور مثبت سوچ کے ساتھ اپنے مستقبل کی تعمیر کریں گے اور ہر گھر خوشیوں، امن اور سکون کا گہوارہ بنے گااور نشہ مُکت ابھیان کے تحت منشیات مخالف رواں دواں سو دنوں پر اس مہم نے شدت اختیار کی ہے اور ہم سب کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس مہم کا حصہ بنیں اور اپنے مقدور کے مطابق اس لعنت کے خلاف جنگ چھیڑ کر آنے والی نسلوں کو برباد ہونے سے بچائیں۔