خواتین کی تیمار داری :
تیماء داری ایک عظیم خدمت ہے جس کو ہم نے پوری طرح سے بھلا دیا ۔ یہ دعوت کا ایک اہم حصہ بھی ہے اور ذریعہ بھی ۔ تیماء داری سے ایک فرد پر دیریپا اثرات پڑتے ہیں او ر اس سے نہ صرف ایک لاچار ، بیمار اور بے سہارا انسان کی طبعیت خوش ہو جاتی ہے بلکہ ایک مالدار اور خوشحال انسان بھی اس سے بے حد متاثر ہوجاتا ہے ۔ حضرت رفیدہ ؒوہ خوش بخت خاتون تھیں جنہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کے روبرو اسلام قبول کرنے کی سعادت حاصل کر لی تھی ۔طب اور علاج و معالجہ سے ان کو خصوصی دلچسپی تھیں جس کی بنا پر انھوں اپنے لئے تیمار داری اور علاج و معالجہ کے کام کو انتخاب کیا ۔ انھوں نے اپنے آپ کو زخمی مجاہدین کی خدمت اور ان کی تیمار داری کے لئے واقف کردیا ۔ان کا اپنا ایک خیمہ تھا جس میں وہ زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں ۔ مورخ محمود طعمہ حلبی ان کے متعلق لکھتے ہیں کہ ’’ ایک ایسا شخص جو زخموں سے چور ہونے کی بنا پر اپنے آپ کو سنبھالنے سے عاجز آچکا ہے ، یا کوئی ایسا زخمی شخص جس نے اللہ کے کلمے کو بلند کرنے کے لئے اس کی راہ میں اپنا خون بہایا ہو ،اس کی تیمار داری اور معاونت سے بڑ کر بھی کوئی خدمت ہوسکتی ہے ۔ ؟ بلاشبہ یہ ایک بہت بڑی خدمت ہے لیکن اس کی توفیق نصیب والے کو ہی ملتی ہے ۔سیدہ رفیدہ ؓنے ہر زخمی مجاہد کی دیکھ بال اور تیمار داری میں رحم دلی اور خدمت گذاری کے حوالے سے ایک مثالی کردار ادا کیا ۔ام عطیہ ایک بہادر صحابیہ تھیں ۔ انھوں نے اللہ کے رسول ﷺ کے ساتھ سات غزوات میں حصہ لیا ۔مسلم کتاب الجہاد باب النساء الغازیات میں ان کے بار ے میں آیا ہے کہ وہ غزوات میں مریضوں کی تیمار داری ، زخمیوں کے لئے کھانا پکاتی ، ان کے سامان کی حفاظت کرتی اور ان کی مرہم پٹی کرتی تھیں ۔ متن کے الفاظ یہ ہیں : اخلفھم فی رحالھم ،فاصنع لھم الطعام واداوی الجرحی ،واقوم علی المرضی ۔ان باتوں کا بھی تذکرہ ملتا ہے کہ خواتین مجاہدین کے لئے کھانا پکانے کا کام بھی کرتی تھیں اور سپاہیوں کو ستو بھی پلاتی تھیں ،نیزمیدان سے تیر اٹھا کر لاتی تھیں ۔ان میں سے بعض خواتی ایسی بھی تھیں جو میدان جنگ میں لڑنے والوں کے لئے ہتھیار کا انتظام کرتی تھیں۔ دعوت و عزیمت کا ایک اور کردار حضرت اسماء بنت ابی بکر ؓہیں ۔ حضرت اسماءؓ بچپن ہی سے متحرک تھیں ۔ جب نبی کریم ﷺ نے غار ثور پناہ لی تواپﷺ اور ابو بکر صدیق نے حضرت اسماء ؓ اپنا راز دار بنایا ۔ وہ دشمنوں کی سرگرمیوں کی خبر آپ ﷺ تک پہنچاتی تھیں ۔ ان کے ذمے دوسرا کام یہ تھا کہ وہ دشمنوں کی نظروں سے چھپ کر آپ ﷺ کو کھانا پہنچایا کرتی تھیں ۔ یہ ایسی سرگرمیاں ہیں جو آسانی سے کرسکتے ہیں ۔معاصر دنیا میں اس کے کچھ جدید تقاضے ہیں جن کو ملحوظ نظر رکھنا ہوگا ۔
خواتین کی خود اختیاری (Empowerment):
خواتین بہ اختیاری دور جدید کا حسین اور دلفریب نعرہ ہے ۔مغرب ہی نہیں مشرق بھی اس نعرے سے متاثر ہے ۔ لیکن اس دلفریب نعرے سے خواتین کو استحصال کیا جارہا ہے ۔ اسلام نے خواتین کے بہ اختیاری سے نہیں روکا بلکہ اس کو اخلاقی دائرے کے تحت مشروط کیا ہے ۔دور نبوتﷺ میںخواتین کے تجارت کا ذکر ملتا ہے اور ایسی کئی خواتین کا نام ملتا ہے جن کی مالی اور تجارتی پوزیشن بڑی مستحکم تھیں ۔حضرت خدیجہ ؓکو جہاںاسلام قبول کرنے کا پہلا اعزازحاصل ہے،وہیںوہ ایک کامیاب تاجر(Bussiness Women) بھی تھیں۔انھوں نے اسلام کی دعوت اور اس کی نشر و اشاعت میں زبردست مالی قربانیاں دی تھیں اور ہر وقت اللہ کے رسول ﷺ کی معاونت کرتی رہیں ۔اس کا تذکرہ قرآن مجید میں یوں موجود ہے :
اور تمہیں نادار پایا اور پھر مال دار کردیا ۔(بخاری ،کتاب الجہاد ) یعنی اس کی وضاحت میں علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ لکھتے ہیں کہ’’ اس طرح حضرت خدیجہ ؓکی تجارت میں آپ ﷺ مضارب ہوگئے ،اور اس میں نفع ملا پھر حضرت خدیجہؓ نے آپﷺ سے نکا ح کر لیا اور اپنا تمام مال حاضر کردیا ۔ اللہ کے رسول ﷺان کی خدمات جلیلہ کا تذکرہ اکثر فرمایا کرتے تھے اور فرمایا کہ میری امت کی خواتین میں حضرت خدیجہ ؓ مقام و فضیلت وہی ہے جو مریم ؑکا ہے ۔وہ ایمان اور عقیدے کے معاملے ایک مضبوط خاتون تھیں ۔وہ خواتین کے لئے ایک ایسی رول ماڈل ہیں جس کا کوئی بدل ثانی نہیں ہے ۔ حضرت سودہ ؓجود و سخاوت میں ایک خاص مقام رکھتی تھیں ۔وہ رفاہی امور اور سماجی مسائل میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں ۔فقیروں ،محتاجوں اورغریبوں کا خاص خیال رکھتی تھیں ۔ یہ ان کی شخصیت کا ایک نمایاں صفت تھا ۔تجارت میں بھی وہ آگے رہتی تھیں ۔چمڑے کا کاروبار کرتی تھیں اور خود اپنے ہاتھ سے کھال بنانے کا کام کرتی تھیں ۔ تجارت کے ذریعے سے جو کچھ وہ کماتی تھیں اس مال کو اپنے پاس رکھنے کے بجائے غریبوں اور ناداروں میں تقسیم کرتی تھیں ۔وہ فیاضی اور ہمدردی میں ایک مثالی خاتون تھیں ۔حضرت زینب بنت خزیمہؓ کا بھی شمار اسی صف میں ہوتا ہے ۔وہ ضرورت مندوں کی عظیم بہی خواہ تھیں ۔وہ سماج کے غریب ،لاچار اور فقراء و مساکین کے دکھ درد میں برابر شریک ہوتی تھیں اور ان کے ساتھ ہر معاملہ میں خیر خواہی کرتی تھیں ۔اتنا ہی نہیں بلکہ ان کے کھانے کا بھی انتظام کرتی تھیں۔ انھوں نے دور نبوتﷺ میں Social Enguagement کا بہترین نمونہ پیش کیا۔ان کے بارے میںحضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ’’ میں نے زینب سے زیادہ کسی عورت کو دیندار، زیادہ وسط بولنے والی ، صلہ رحمی کرنے والی اور زیادہ صدقہ وخیرات کرنے والی نہیں دیکھا ‘‘۔ اسی بنا پر وہ ام المساکین کے نام سے مشہور ہوگئی تھیں ،کیوں کہ وہ مسکینوں، یتیموں ، بیواؤں پر صدقات و خیرات کرتی تھیں۔ حضرت صفیہ ؓ نے اللہ کے رسولﷺ کی اجازت سے اپنے یہودی بھائی کی مالی معاونت کی ۔حضرت ام سلمہ ؓ نہایت عالی ذہن دانش ور خاتون تھیں ۔وہ خواتین کی مدد اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے میں بھی کافی مشہور تھیں ۔مشیر(Counselor)کی حیثیت بھی انھوں نے رول نبھایا۔ ام شریک ؓدعوتی کاموں میں سرگرم رہتی تھیں وہ قریش کے اعلیٰ خاندانوں میں اسلام کا پیغام پہنچاتی تھیں اور اس مشن کو انھوں نے اپنی زندگی کا نصب العین بنایا تھا ۔ اسی طرح کا رول دوسری صحابیاتؓ نے بھی ادا کیا ۔ دور نبوی ﷺ میں خواتین کو تجارت یا کام کاج کرنے میں کوئی روک ٹوک نہیں تھیں، بعض خواتین عطر بنانے کی کاروبار کرتی تھیں اور خود بنا کر فروخت کیا کرتی تھیں اور اس کی آمدنی وہ اپنی مرضی سے خرچ کرتی تھیں ۔خواتین سماج سے منسلک (Connected)رہتی تھیں۔سماج سے گہرا رشتہ رکھنے سے ہی سماج پر اثرات مرتب کئے جاسکتے ہیں ۔سماج سے الگ تھلگ رہ کر کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا جاسکتا ہے ۔حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کے بارے میں بخاری میں یہ روایت وارد ہے :لوگ تحفہ دینے میں حضرت عائشہ کا انتظار کرتے تھے‘‘ ۔ اتنا محبت تب ہی لوگ کرتے ہیں جب ایک فرد ان میں گھل مل کر رہتے ہیں اور ان کے احساسات و جذبات اور ان کے دکھ درد میں شریک ہوتا ہے ۔وہ سماج کے پسماندہ طبقات کی بہت ادہ خیال رکھتی تھیں۔ان کے ہاتھ میں جو کچھ بھی آتا تھا فوراََخرچ کر دیتی تھیں ۔ایک مرتبہ حضرت عبداللہ ابن زبیرؓ نے روکنا چاہا تو اس قدر ہوئیں کہ ان بات چیت نہ کرنے کی قسم کھائی ۔ ان کا یہ بھی معمول تھا کہ جو کچھ جمع ہوجاتی تھیں تو اس کو قاعدے سے ضرورت مندوں میں تقسیم کرتی تھیں ۔ (بخاری کتاب المناقب )حضرت عائشہ ؓ کا سماج سے اتنا Connectedرہنے سے سبق حاصل کیا جانا چاہیے ۔اقتصادیات کے علم سے بھی مسلم خواتین کو بے حد دلچسپی تھیں۔اس کا اندازہ اس مثال سے بخوبی کیا جاسکتا ہے کہ کتاب الاموال ‘ علم فینانس ٹیکنکل چیز کی ایک پرانی کتاب ابو عبید قاسم کی ہے ۔اس کی رویات کرنے والوں کی فہرست میں سب سے نمایاں نام ایک عورت کا ہے ۔وہ اپنے گھر میں اس کی درس دیا کرتیں اور اس درس کو سننے کے لئے مرد بھی آیا کرتے تھے ۔(تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو ،خطبات بہاؤلپور ،خطبہ ۹ از ڈاکٹر حمید اللہ ۔۔۔پیرس ) اس سے وا ضح ہوتا ہے کہ خواتین ہر میدان میں سرگرم اور متحرک رہتی تھیں اور اس تعلق سے ایک سازگار ماحول اور علمی فضا کو روج دیاتھا ۔سماجی ،سیاسی اور اقتصادی میدان میں خواتین کے رول کے بارے میںڈاکٹر زینب العلوانی لکھتی ہیں:
"In order to construct the first muslim sociaty during the time of the prophet ,muslim women were very active and particiapted greatly in every field whether it was social ,econocal or political"(Muslim Women and Global Challenges ,zainab Alwani,p:67)
آج بھی خواتین Cottage Indutries،چھو ٹے چھوٹے کاروبار ، تجارتی یونٹس اور ٹکنیکل اداروں کو قائم کر کے ضرورت مند اور بے سہارا خواتین کو ہنر مند اور با اختیار(ایمپاورئمنٹ) بنا سکتی ہیں اور اس کے ذریعے سے وہ ان خواتین متنوع دعوتی اور تربیتی پروگرام کر سکتی ہیں ۔ایک خاتون اگربچیوں کے لئے ایک چھوٹاسا اسکول قائم کریں گی تو کم از کم وہ دس خواتین کو روزگار فراہم کرسکتی ہیں ۔اس طرح کے بہت سے کام ہیں جو ایک خاتون کرسکتی ہے ۔سماجی طور سے خواتین کو انگیج کرنا ایک بڑا کام ہے ۔ جب تک خواتین کا Social Enguagementنہ ہو ،سماج کی تعمیر وترقی اور اصلاح میں کوئی خاص رول ادا نہیں کرسکتیں ۔
رابطہ :پی، ایچ ۔ڈی ۔اسکالر ،ڈیپاٹمنٹ آف اسلامک اسٹڈیزمولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی حیدر آباد
فون نمبر:8082301089