جموں// ضلع کٹھوعہ میں آٹھ سالہ کمسن بچی آصفہ بانو دخترمحمدیوسف ساکن رسانہ کے قتل کے خلاف نمازجمعہ کے بعدمسلمانان جموں نے جامع مسجدپل توی ، جامع مسجدریلوے سٹیشن کے باہر احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے سانحہ میں ملوثین کوعبرتباک سزادینے کاپرزورمطالبہ کیا۔علاوہ ازیں پریس کلب جموںتااندراج چوک کینڈل مارچ اورسانبہ میں مرکزی جامع مسجد شریف نندنی ڈی سی آفس سانبہ اورڈگری کالج کٹھوعہ کے نزدیک نیشنل ہائی وے پرمختلف سماجی تنظیموں بشمول گوجربکروال کانفرنس ، اے بی پی ودیگران نے آصفہ قتل معاملے کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کرکے ایک گھنٹے تک ٹریفک جام رکھا۔قابل ذکرہے کہ ضلع کٹھوعہ کے تحصیل ہیرا نگر میں گذشتہ ہفتے ایک آٹھ سالہ کمسن بچی آصیفہ بانوجووالدین کی اکلوتی اولادتھی کو مبینہ طور پر اغوا کیا گیاجس کی لاش بدھ کے روز دھمال کوٹاموڑگائوںکے نزدیک جھاڑیوں سے برآمد کی گئی تھی۔نعش کی برآمدگی کے بعداس دلدوز واقعہ کے خلاف مقتولہ بچی کے کنبے اور رشتہ داروں نے شدید احتجاج درج کیاتھا۔نمازجمعہ کے بعدمسلمانان جموںنے مظاہرہ کرتے ہوئے آٹھ سالہ معصوم بچی آصفہ بانوکے ساتھ پیش آئے دل سوز اور وحشیانہ واقعہ کوانسانیت کے منہ پرطمانچے سے تعبیرکیا۔اس دوران مظاہرے میں شامل مختلف سماجی ومذہبی تنظیموں کے لیڈران نے الزام لگایاکہ پولیس اورسول انتظامیہ نے بچی کوتلاش کرنے اوربعدمیں معاملہ کی ایف آئی آردرج کرنے میں غفلت کامظاہرہ کیا ۔انہوں نے کہاکہ جہاں پاکستان کے قصورشہرمیں سات سالہ زینب کواغواکراوراس کاریپ کرکے قتل کرکے گندگی کے ڈھیرمیں پھینک دیاتھا،اسی طرز پرکٹھوعہ میں بھی بربریت کامظاہرہ کرتے ہوئے آٹھ سالہ بچی آصفہ بانوکااغواکرکے اس کوقتل کیاگیا۔انہوں نے کہاکہ اس واقعہ کے ذمہ دارانسانیت کے دشمنوں کوسرعام پھانسی دی جانی چاہیئے۔ انہوں نے پرزورمانگ کی کہ وقت مقررہ کے اندراس واقعے کے ذمہ داردرندہ صف افرادکومنظرعام پرلایاجائے اورانہیں عبرت ناک سزادی جائے ۔انہوں نے کہاکہ حکومت نے اگردرندہ صف افرادکیخلاف کارروائی نہ کی توانسانیت دشمن عناصرکے حوصلے بلندہوں گے۔مظاہرین نے مزیدکہاکہ ایک طرف حکومت بیٹی بچائو۔بیٹی پڑھائوکانعرہ لگاتی ہے اوردوسری طرف ایک لاپتہ بچی کوتلاش کرنے میں پولیس غفلت کامظاہرہ کرتی ہے۔ انہوں نے متعلقہ پولیس تھانے کے ایس ایچ اوکوفی الفورمعطل کرنے کی مانگ کی۔اس دوران مظاہرین میں دیگران کے علاوہ طالب حسین،نزاکت کھٹانہ، وقارحسین بھٹی،رفاقت اعجاز،ظفرچوہدری،واجدکھٹانہ،ابرارچودھری،مشتاق بڈگامی،اسلم گورسی،لیاقت گورسی ودیگران شامل تھے۔علاوہ ازیںنمازجمعہ کے بعدجامع مسجدریلوے سٹیشن کے باہرلوگوں نے حکومت تحصیل ہیرانگرکے کوٹا رسانہ دھمال میں آٹھ سالہ بچی آصیفہ بانودخترمحمدیوسف بکروال کے اغوا،عصمت دری اوراس کے بعدقتل کیخلاف مظاہرہ کیا ۔اس دوران مظاہرین نے واقعہ کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت سوزواقعہ قراردیاہے۔اس موقعہ پر اخترچوہدری ودیگرمقررین نے کہاکہ ریاستی حکومت کوچاہیئے کہ فوری طورپر ملزمان کی نشاندہی کرکے انہیں سلاخوں کے پیچھے کیاجائے ۔انہوں نے کہاکہ آصیفہ بانو ایک غریب پسماندہ بکروال کنبہ سے اکلوتی اولادتھی ،اسکے ماں باپ نے کچھ عرصہ پہلے بس حادثے میں اپنے تین بچوں کوکھودیاتھااوراس کے بعداصیفہ بانوکواپنی بہن سے گودلیاتھا ۔اخترچودھری نے کہاکہ متاثر ہ کنبہ نے دس جنوری کوبچی کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروائی تھی لیکن پولیس نے بچی کوتلاش کرنے میں غفلت شعاری کامظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ اگرقاتلوں کوگرفتارنہیں کیاگیاتوبڑے پیمانے پرمظاہرے کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ آصیفہ کے ساتھ کچھ لوگوں نے پہلے بھی گالی گلوچ کی تھی اورنازیبہ الفاظ استعمال کرکے انہیں ہراساں کیاتھا ۔گوجربکروال اصلاحی کمیٹی کے عہدیداران امیرالدین کسانہ ، فرمان علی وغیرہ نے واقعہ پرافسوس کرتے ہوئے حکومت کیلئے شرمناک قراردیا۔ انہوں نے کہاکہ گوجربکروال طبقہ کے لوگ گذشتہ کئی دہائیوں سے ظلم وجبراوراستحصال کاشکارہیں۔انہوں نے متاثرہ خاندان کوپانچ لاکھ روپے ریلیف دی جائے ۔