حمیرا فاروق
عبادت ایک ایسا عمل ہے جو خلق اور خالق کے درمیان کی دوری کو مٹا دیتا ہے ۔کیونکہ ہم واقف ہیں کہ اصل مقصود زیست رضائے الٰہی ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہیں کہ ’’میں نے جنوں اور انسانوں کو اس لیے پیدا کیا کہ وہ میری عبادت کریں۔‘‘
عبادت محض سجدہ ریز ہونے کا نام نہیں بلکہ احکام ِالٰہی کی تعمیل اور تکمیل ہے۔صرف نماز ،روزہ ،زکوۃ اور حج عبادت نہیں بلکہ اس کے مختلف شکلیں ہیں ۔ ہر وہ کام عبادت ہے، جس سے رب العزت کی رضا حاصل ہو۔ یہ انسان کو دنیا کی غلاظتوں سے پاک کرتا ہے ۔ عبادت کو روح کی غذا کہا گیا،کیونکہ یہ انسان کو پُرسکون بنا دیتا ہے ۔عبادت کے لیے کوئی ایک چیز مخصوص نہیں ہے بلکہ اس میں لامحدود چیزیں آتی ہیں، جیسے کہ صبر کرنا شکر کرنا حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کا خیال رکھنا ۔ صرف روزہ اور نماز عبادت نہیں کہ مخصوص وقت میں ادا کیا جائے یا حج میں استطاعت سے مال زیادہ ہو یا صاحب نصاب ہو، تب عبادت کو بجا لائے، عبادت ہر نیکی کا نام ہے۔
اگرچہ ہم سب اس بات سے واقف ہیں کہ ربّ العزت نے بطور آزمائش ہمیں دنیا میں لایا اور نیکی اور بدی کے انعامات سے بھی باخبر کر دیا، اگر نیکی پہ اجر اور بدی کا سزا نہ رکھا ہوتا تو یہاں ہر طاقتور ظالم اور ہر کمزور انسان مظلوم ہوتا ۔ اگر نماز کے بغیر باقی نیکیاں عبادت نہ ہوتیں تو شاید انصاف نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی ۔ دوسروں کو معاف کرنا ، خوشیاں بانٹنا ، مثبت کلام کرنا سب عبادت میں آتا ہے ۔ لہٰذا کسی کے پاس اگر پیسا نہ ہو تو وہ کسی کو نیک صلح دے کر نیکیاں کما سکتا ہے ۔ عبادت کا خزانہ اتنا وسیع ہے کہ ہر امیر و غریب اسکو کماسکتاہے ۔ اس میں رنگ و نسل ،امیری غریبی کا عمل دخل نہیں ۔ اسی طرح خدمت خلق اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے ۔ بغض نہ رکھنا ، مدد کرنا، بیمار کی عیادت کرنا ، علم نافع سے لوگوں کو مستفید کرنا، بہترین مشورہ دینا اور کسی کے دُکھ درد میں شریک ہونا ۔ان چیزوں سے اللہ تعالیٰ راضی ،دل پرسکون اور ہمارا معاشرہ بہترین بن جاتا ہے ۔
عبادت یہ بھی ہے کہ حق ادائیگی کی جائے، مظلوم کو ظلم سے آزادی دی جائے ،فضول کاموں سے بچا جائے ، غیبت، چغلی ،حسد ،بے رحمی سے بچا جائے۔رحم کرنا عزت کرنا ،دکھاوے سے پرہیز کرنا لوگوں کو تکلیف نہ دینا۔ چاہیے پھر وہ ہاتھ کا تکلیف ہو یا زبان کا سب عبادت میں آتا ہے۔عبادت دراصل بندے اور اللہ کے درمیان تعلق ہے ۔یہ زندگی کو معنویت اور مقصد دیتی ہے اور یہ انسان کو پاکیزگی اور سکون بخشتی ہے۔ عبادت میں فوائد کی بات کی جائے تو ربّ کی رضا حاصل ہوتے ہیں، نفس پر قابو ہو جاتا ہے اور انسان کی زندگی میں صبر اور شکر کا مادہ پیدا ہوتا ہے ۔اخلاص اور سنت کے مطابق کام کرنا بھی عبادت میں آتا ہے ۔صدقہ و خیرات سے انسان کے مال میں برکت ہوتی ہے ۔ صبر و شکر کرنا عبادت کا ایک اہم حصہ ہے ۔یہ انسان کو مشکلات میں ثابت قدم رکھتا ہے ۔
خدمت خلق کرنا ،دوسروں کے کام آنا، چاہے وہ کسی بھی نسل، کسی بھی رنگ و مذہب کا ہو۔ والدین کی فرماں برداری کرنا، کیونکہ انہوں نے پالا پڑھایا اور ہر وقت ہمارا ساتھ دیا ہوتا ہے۔الغرض عبادت زندگی کا حسن ہے ۔یہ صرف نماز، روزہ زکوۃ اور حج تک محدود نہیں ہے، اس کا ایک وسیع میدان ہے جو زندگی کے ہر پہلو کو گھیرے ہوئے ہیں عبادت جس کا اصل معنی رضائی الٰہی کے مطابق ہر کام کو کرنا ہے ۔ اگر مال ودولت انسان کے پاس نہ ہو تو اپنے اچھے اخلاق سے لوگوں کے لیے ایک سایہ دار شجر بن کے ربّ العزت کے قوانین کی تابعداری کر سکتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم زندگی کے ہر قدم کو عبادت بنائیں تاکہ ہم اپنے مقصود زیست کے اصلی مفہوم تک پہنچ جائے جو کہ ہمارا اولین حق ہے اور جس کے لیے ہم بالخصوص مبعوث بھی کئے گئے ۔