سلفی مشتاق
کسی بھی صحت مند معاشرے کی بنیاد اُس کے لوگوں کے رہن سہن، طور طریقوں اور تجارتی اصولوں پر ہوتی ہے۔ جب کوئی اجنبی کسی شہر یا قصبے میں آتا ہے تو وہ پہلے کسی یونیورسٹی، مدرسے یا درسگاہ کا رُخ نہیں کرتا بلکہ سب سے پہلے بازار جاتا ہے، جہاں اُس کی ملاقات تاجروں، ٹرانسپورٹروں اور ہوٹل مالکان سے ہوتی ہے۔ یہی طبقہ کسی بھی معاشرے کی شناخت اور وقار کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ اگر یہی طبقہ بددیانتی، بداخلاقی اور دھوکہ دہی میں مبتلا ہو جائے تو معاشرے کے زوال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں رہتا۔
ہم جس سماج میں رہتے ہیں وہ کہنے کو تو مسلم معاشرہ ہے، لیکن یہاں بعض ہوٹلیر لوٹ مار میں ملوث، بعض ٹرانسپورٹر بدتمیز اور بعض دکاندار خاموش قاتل بن چکے ہیں۔ اس ضمن میں اسلامی تاریخ کا ایک روشن واقعہ ہمارے سامنے ہے۔ ایک مرتبہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے بازار سے گزرے۔ آپؐ نے غلے کی ایک بوری میں ہاتھ ڈالا تو وہ نیچے سے گیلی نکلی۔ دریافت کرنے پر تاجر نے عرض کیا کہ بارش کی وجہ سے بھیگ گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے اوپر کیوں نہ رکھا تاکہ خریدار کو حقیقت معلوم ہو جاتی؟ پھر ارشاد فرمایا:مَن غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا۔’’جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں۔‘‘ذرا سوچئے! جس معاشرے میں معمولی بددیانتی پر اتنی سخت تنبیہ ہو، اس کا معیار کتنا بلند ہونا چاہیے، — خصوصاً ماہِ صیام جیسے بابرکت مہینے میں۔
لیکن افسوس! آج ہمارے بازاروں میں ملاوٹ اور زائد المیعاد اشیاء عام ہو چکی ہیں۔ گوشت، انڈے، سبزیاں، میوہ جات حتیٰ کہ بچوں کے دودھ تک میں ملاوٹ کی جا رہی ہے۔ اور پھر ہم صرف ’’حلال‘‘ کے نام پر مطمئن ہو جاتے ہیں، جبکہ اسلام نے’’حلال‘‘ کے ساتھ’’طیب‘‘ (پاکیزہ اور معیاری) ہونے کی بھی شرط رکھی ہے۔
آج کون نہیں جانتا کہ ملاوٹ شدہ یا زائد المیعاد غذا کتنی مہلک بیماریوں کا سبب بنتی ہے؟ حالیہ رپورٹس کے مطابق جموں و کشمیر، خصوصاً کشمیر میں کینسر کے مریضوں کی شرح میں تقریباً 25 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ناقص اور ملاوٹ شدہ غذا اس کے اسباب میں شامل ہو سکتی ہے۔ قطع نظر اس سے کہ متعلقہ محکمہ بے خبر ہے یا تجاہلِ عارفانہ سے کام لے رہا ہے، حقیقت یہ ہے کہ انسانی حرص اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ لوگ معمولی منافع کے لیے انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں۔نہ جانے کتنے لوگ ان سڑی ہوئی اور زائد المیعاد اشیاء کے استعمال سے اپنی جان گنوا چکے ہوں گے یا دائمی بیماریوں میں مبتلا ہو چکے ہوں گے۔
میں عرض کرتا چلوں کہ قتل کے مقدمے میں ملوث شخص کو بھی صاف اور معیاری خوراک کا حق حاصل ہے اور ایک آزاد شہری کو بدرجہ اولیٰ یہ حق حاصل ہونا چاہیے۔ مگر یہاں صورتِ حال اُلٹ ہے۔ قیدی کو تو قانون کے تحت معیاری خوراک میسر ہے، جبکہ عام شہری کو بازار میں زہر نُما غذا فروخت کی جا رہی ہے۔ یہ ایک خاموش اور سوچا سمجھا معاشی جرم ہے۔ میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ سڑی ہوئی اور زائد المیعاد اشیاء فروخت کرنے والے دراصل خاموش قتلِ عام کے مرتکب ہیں۔ افسوس کہ انہیں معمولی جرمانے کے عوض چھوڑ دیا جاتا ہے، جبکہ ایک فرد کے قاتل کو پھانسی دی جاتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی لالچ میں درجنوں افراد کی صحت برباد کرے تو کیا وہ اقدامِ قتل کا مجرم نہیں؟حال ہی میں کپواڑہ بازار میں تحصیلدار کپواڑہ نے معمول کی چیکنگ کے دوران چند دکانوں سے سینکڑوں لیٹر زائد المیعاد خوردنی تیل ،سویا بین کی بوریاں اور دیگر اشیاء ضبط کر کے تلف کیں۔ یہ اقدام قابلِ تحسین ضرور ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا صرف یہی چند افراد اس جرم میں ملوث ہیں یا اس کے پیچھے کوئی منظم نیٹ ورک کام کر رہا ہے؟ کیونکہ اتنی بڑی مقدار میں ذخیرہ کسی ایک فرد کی معمولی غلطی نہیں ہو سکتی۔
ایک اور سوال ہر ذی شعور انسان کے ذہن میں اُبھرتا ہے کہ آج تک اس لاپرواہی کے نتیجے میں کتنے لوگ موت کے منہ میں جا چکے ہوں گے؟ اس صورتحال کا ذمہ دار کون ہے؟ جہاں صارفین کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے، وہیں متعلقہ محکمہ بھی اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا۔ وہ عوام کے ٹیکس سے تنخواہیں لیتے ہیں، لہٰذا اگر وہ تساہل برتیں گے تو اس جرم میں ان کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ کل روزِ محشر انہیں بھی جواب دہ ہونا پڑے گا۔
احتیاطی تدابیر : جب تک موثر قانون سازی نہیں ہوتی اور متعلقہ حکام اپنی ذمہ داریاں پوری طرح ادا نہیں کرتے، تب تک عوام کو خود بھی محتاط رہنا ہوگا۔حتیٰ الامکان پیک شدہ اشیاء خریدیں۔تاریخِ معیاد (Expiry Date) ضرور چیک کریں۔اشیاء کے معیار اور سیل کی حالت کا جائزہ لیں۔مشکوک دکانوں سے خریداری سے اجتناب کریں۔تاہم یہ اقدامات مستقل حل نہیں بلکہ وقتی تدابیر ہیں۔ اصل ذمہ داری ریاستی نظام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر عائد ہوتی ہے۔
سب سے بڑا اور اہم سوال یہ ہے کہ کیا معمولی جرمانہ اس ناجائز کاروبار کو روک سکتا ہے؟ کیا یہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مترادف نہیں؟ اس کا سیدھا جواب ہے، ہرگز نہیں۔ اس کے لیےموثر اور سخت قانون سازی ناگزیر ہے۔ ایسے کاروبار میں ملوث افراد پر اقدامِ قتل کے تحت مقدمہ درج ہونا چاہیے اور انہیں کڑی سے کڑی سزا دی جانی چاہیے۔جب تک غذا کے نام پر زہر بیچنے والوں کو حقیقی معنوں میں کیفر ِ کردار تک نہیں پہنچایا جائے گا، تب تک یہ خاموش قتلِ عام جاری رہے گا — اور ہم سب اس کے ممکنہ شکار بن سکتے ہیں۔
(مضمون نگار ایک معلم موٹیویشنل سپیکر ، سماجی کارکن اور ایک ٹریڈ یونین لیڈر ہیں)
[email protected]
�����������������