شفیع نقیب
بچپن سے ریڈیو میرا دیرینہ ساتھی رہا ہے۔ حصولِ تعلیم کے زمانے میں جب کتابوں کی ورق گردانی میری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ تھی، تب بھی ایک طرف کتاب کھلی ہوتی اور دوسری طرف ٹرانسسٹر کی مدھم آواز میں خبریں اور معلوماتی پروگرام کانوں میں رس گھول رہے ہوتے۔ وہ ایک الگ ہی زمانہ تھا۔سادگی، معصومیت اور خلوص کا زمانہ۔ ان دنوں ’’زونہ ڈب‘‘، ’’وادی کی آواز‘‘، ’’تہنز فرمائش‘‘، اردو و کشمیری خبریں، ’’مچامہ‘‘، ’’ویدال پچیسی‘‘، ’’گیت مالا‘‘اور ’’گامی بائین ہند‘‘آپ کی فرمائیش ،آپ کے خط ،جیسے پروگرام نہ صرف مقبول تھے بلکہ ہر دلعزیز بھی۔ سامعین اپنے پسندیدہ پروگراموں کے انتظار میں گھڑیوں پر نظریں جمائے رکھتے اور جب وہ نشریات شروع ہوتیں تو گویا پورا ماحول زندگی سے بھر جاتا۔
آج بھی ریڈیو میرے لئے محض ایک آلہ نہیں بلکہ ایک ایسا ہمدم ہے جو تنہائی کے لمحات میں میرے ساتھ سانس لیتا محسوس ہوتا ہے۔ میں کبھی ہاتھ میں کتاب لئے بیٹھا ہوتا ہوں اور کبھی لیپ ٹاپ پر صفحہ قرطاس پر ٹیڑھی میڑھی لکیریں کھینچتے ہوئے خیالات کو لفظوں میں ڈھالنے کی کوشش کرتا ہوں اور اس دوران ریڈیو کی ہلکی سی آواز دل کی بے قراری کو ایک عارضی سکون عطا کر دیتی ہے۔ بعض اوقات رات گئے تک مشقِ سخن جاری رہتی ہے، آنکھیں بوجھل ہو جاتی ہیں اور نیند آہستہ آہستہ اپنی آغوش میں لے لیتی ہے، مگر ٹرانسسٹر اپنی دھن میں مگن رات بھر بجتا رہتا ہے۔ اس مسلسل رفاقت میں ایک عجیب سی اپنائیت ہے، جیسے کوئی پرانا دوست خاموشی سے ساتھ نبھا رہا ہو۔دلچسپ بات یہ ہے کہ تقریباً ایک سال قبل اس ٹرانسسٹر میں جو بیٹری سیل ڈالے تھے، وہ آج بھی مسلسل بجنے کے باوجود تازہ دم ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کل ہی نئے سیل ڈالے گئے ہوں۔ یہ صرف ایک اتفاق نہیں بلکہ اس دور کی سادگی اور مضبوطی کی علامت بھی ہے، جب چیزیں صرف استعمال کے لئے نہیں بلکہ دیرپا ساتھ کے لئے بنائی جاتی تھیں۔
اگرچہ وقت کے ساتھ بہت کچھ بدل گیا ہے۔ آج کے جدید دور میں ریڈیو سننے کا رواج خاصا کم ہو چکا ہے۔ ٹیلی ویژن، اسمارٹ فون، انٹرنیٹ اور بے شمار ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے معلومات اور تفریح کے ذرائع کو یکسر بدل دیا ہے۔ اب خبریں لمحوں میں اسکرین پر نمودار ہو جاتی ہیں، گانے ایک کلک پر دستیاب ہیں اور ویڈیوز کی دنیا نے سماعت کے بجائے بصارت کو ترجیح دے دی ہے۔ مگر اس سب کے باوجود ریڈیو کی ایک الگ پہچان ہے، ایک منفرد جادو ہے جو آج بھی کہیں نہ کہیں زندہ ہے۔خاص طور پر دور دراز دیہات میں، جہاں زندگی آج بھی فطرت کے قریب سانس لیتی ہے، وہاں ریڈیو کی آواز اب بھی سنائی دیتی ہے۔ کئی گھروں میں، بزرگ دکانداروں کے پاس اور کھیت کھلیانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے ہاتھوں میں آج بھی ٹرانسسٹر موجود ہوتا ہے۔ وہ اپنے کام میں مصروف ہوتے ہیں، مگر ساتھ ساتھ ریڈیو کی دھیمی، سریلی اور دلچسپ آواز ان کے دن کو خوشگوار بنا دیتی ہے۔ یہ مناظر اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ریڈیو ابھی مکمل طور پر ماضی کا قصہ نہیں بنا، بلکہ آج بھی زندگی کے کئی گوشوں میں سانس لے رہا ہے۔شہری علاقوں میں بھی اگرچہ ریڈیو کی جگہ کم ہو گئی ہے، لیکن وہ مکمل طور پر غائب نہیں ہوا۔ خاص طور پر وہ لوگ جو دکانوں، کارخانوں یا کسی ایک جگہ پر طویل وقت تک کام کرتے ہیں، ان کے لئے ریڈیو اب بھی ایک بہترین ساتھی ہے۔ کام کے دوران اس کی گھنگھناہٹ ایک پس منظر کی موسیقی کی طرح ماحول کو ہلکا اور خوشگوار بنائے رکھتی ہے۔ نہ آنکھوں کو اسکرین کی تھکن، نہ مسلسل دیکھنے کی مجبوری۔بس کانوں میں گھلتی ہوئی آواز اور ذہن کو تازگی بخشتی ہوئی معلومات۔
ٹیکنالوجی کی ترقی نے اگرچہ روایتی ریڈیو کو چیلنج کیا ہے، مگر اسی ترقی نے اسے نئے روپ میں زندہ بھی رکھا ہے۔ آج کے جدید الیکٹرانک آلات میں ایسی حیرت انگیز جدت آ چکی ہے کہ ایک ہی آلے میں ٹرانسسٹر، ٹارچ، لائٹر، پین ڈرائیو، بلوٹوتھ، واٹس ایپ، یوٹیوب، ٹی وی، سوشل میڈیا اور فون جیسی بے شمار سہولیات موجود ہیں۔ یہ کثیرالجہتی آلات نہ صرف سہولت فراہم کرتے ہیں بلکہ پرانے زمانے کی یاد کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ اگرچہ ریڈیو ٹرانسسٹر کے سننے کا رواج کم ہوا ہے، مگر ہر ڈیجیٹل آلہ کسی نہ کسی صورت میں اس کی موجودگی کا احساس دلاتا رہتا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ریڈیو سننے کا تجربہ باقی تمام ذرائع سے مختلف ہے۔ اس میں تخیل کو زیادہ آزادی ملتی ہے۔ جب ہم کوئی کہانی سنتے ہیں، کوئی ڈرامہ یا پروگرام سنتے ہیں، تو ہمارے ذہن میں خود بخود مناظر بنتے ہیں، کردار زندہ ہو جاتے ہیں اور ایک پوری دنیا آباد ہو جاتی ہے۔ یہ وہ لطف ہے جو صرف سننے میں ہے، دیکھنے میں نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ریڈیو کے سامعین آج بھی اس سے ایک خاص لگاؤ رکھتے ہیں۔زمانہ خواہ کتنا ہی بدل جائے، ترقی کی رفتار کتنی ہی تیز کیوں نہ ہو، کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو اپنی جگہ قائم رہتی ہیں۔ ریڈیو اور ٹرانسسٹر بھی انہی میں سے ہیں۔ یہ محض ایک آلہ نہیں بلکہ ایک عہد کی یاد، ایک احساس کی ترجمانی اور ایک ثقافتی ورثہ ہے۔
یہ ہمیں ہماری جڑوں سے جوڑتا ہے، ماضی کی خوشبو سے آشنا کرتا ہے اور حال کے شور میں ایک نرم، مانوس آواز بن کر ہمارے ساتھ رہتا ہے۔آج کے ڈیجیٹل دور میں جب ہر چیز تیزی سے بدل رہی ہے، تعلقات مصنوعی ہوتے جا رہے ہیں اور وقت کی رفتار انسان کو اپنے پیچھے گھسیٹ رہی ہے، ایسے میں ریڈیو ایک سکون بھری پناہ گاہ کی مانند ہے۔ ایک ایسا ساتھی جو نہ مطالبہ کرتا ہے، نہ تھکاتا ہے، بس خاموشی سے ساتھ دیتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی صرف دوڑنے کا نام نہیں بلکہ کبھی رک کر سننے کا بھی نام ہے۔اگر یہ کہا جائے کہ یڈیو کا سفر ختم نہیں ہوا، بلکہ اس نے اپنی شکل بدل لی ہے۔ وہ اب بھی ہمارے ساتھ ہے۔کبھی ٹرانسسٹر کی صورت میں، کبھی موبائل ایپ میں، کبھی گاڑی کے ڈیش بورڈ میںاور کبھی کسی دوردراز گاؤں کے خاموش گھر میں۔ زمانہ جہاں بھی جائے، جتنی بھی ترقی کرے، ریڈیو اور ٹرانسسٹر اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہیں گے، کیونکہ یہ صرف ایک ایجاد نہیں بلکہ ایک جذباتی رشتہ ہے، جو وقت کے ساتھ اور بھی گہرا ہوتا جا رہا ہے۔
رابطہ۔9622555263
[email protected]