ڈاکٹر فلک فیروز
ممکن ہے کہ ہزار نقشوں میں سبھی نقش فریادی نہ ہوں گے لیکن یہ بھی اپنی جگہ مقرر ہے کہ سبھی نقشے کہیں نہ کہیں فریاد رکھتے ہیں مگر اپنی فریاد کو بظاہر تو سامنے نہیں لاتے ہیں جبکہ وہ دامن کے چاک اور گریباں کے چاک میں پوشیدہ ہے ۔اس پوشیدگی نے فطرت کے عمل کو بہت ہی خوبصورت بنا دیا ہے۔اس عمل میں دنیا کے بڑے بڑے عالم چوق جاتے ہیں کچھ تو کہتے ہیں کہ خلد سے نکالے گئے ہیں،کچھ تو کہتے ہیں خطائیں اپنی سزائیں بن گئی،کچھ تو کہتے ہیں بہکا دیا،کچھ تو کہتے ہیں کہ قصہ آدم کو کون رنگین کر گیا،کس کی کارستانی در پردہ ہے۔علامہ اقبال نے پوری صورت حال کا نقشہ یوں کھینچا ہے۔
سمجھا میرے شکوے کو تو رضوان سمجھا
مجھ کو جنت سے نکالا ہوا ایک انسان سمجھا
اجتماعی طور پر اگر تمام نظریات کا گہرائی سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات اپنی جگہ مقرر آتی ہے، نقش فریادی بھی یہی آدمی ہے،دل کے بہلانے کا سبب بھی یہی ہے،آدم کورنگین کرنے والا بھی یہی ہے،کھلونے دیکر بھی اسی کو بہلایا گیا،سفر کی تھکاوٹیں بھی اسی کے لیے ہے،دنیا کی راحتیں بھی اسی کے لیے ہیں،ناز نخرے بھی اسی کے ہیں،قیامت بھی اسی کے لیے ہے،جنت کی نہریں بھی اسی کی ملکیت میں آئیں گی،جہنم کا ایندھن بھی اسی سے تیار ہوگا ،یز اسی کے لیے ہوگا،مرضی اس کی نہ تھی نہ ہوگی ۔اختیار اور بے اختیاری کے درمیان جواب دہ بھی یہی انسان ہے ۔ رسوائی تب بھی ہوئی جب اس نے دانہ گندم کی جانب باوجود
احکامات کے قدم بڑھائے ۔یہ آدم اور ابن آدم مختلف اوقات میں مختلف صورتوں میں رسوا ہوا ہے، کبھی قدرت کے ہاتھوں کبھی ماحول کے مطابق کبھی اپنی مرضی کے مطابق کبھی اپنی عقل کے ہاتھوں وہاں بھی رُسوا ہے یہاں بھی رُسوا ہے، آگے بھی رُسوا ہوا پیچھے بھی رُسوا ہوگا، گویا رُسوائی اسی کے ساتھ سفر کر رہی ہے۔اس سفر میں اس کا کچھ نہیں ہے بلکہ یہ محض سفر کا مسافر ہے ،نہ اس کی منزل ہے نہ اس کا طے کردہ راستہ ہے نہ اس کے اہداف ہےنہ اس کے اطراف و اکناف ہیں ۔
رُسوائی آدمی کا مقدر ہے۔ آدمی رُسوا ہوا تھا،رُسوا ہو رہا ہےاور رُسوا ہو جائے گا، جب تک یہ زندہ ہے،کبھی دوسروں کی جانب سے کسے جانے والے فقر اءسے رُسوا کر دیتے ہیں، کبھی انجانی حرکات و سکنات سے اسے رسوائی مل جاتی ہے۔کبھی اپنے کئے گئے خراب کاموں کی وجہ سے اس سے رُسوائی ہوتی ہے۔کبھی آدمی اپنے کہے ہوئے الفاظ کی وجہ سے رُسوا ہو جاتا ہے۔ گویا رُسوائی انسانی سماج کا ایک وطیرہ ہے جس کا انسان کے ساتھ ازل سے ابد تک کا تعلق ہے۔رُسوائی صرف آدمی کے حق میں آئی ہے۔ جانور چرند و پرند اور باقی مخلوقات رُسوائی سے مبرا ہیں ۔ رُسوائی کو کبھی کبھی لوگوں کے ماتھوں پر تھوپا بھی جاتا ہے۔کبھی سازشوں کے تحت رُسوائی کا کاروبار بھی کیا جاتا ہے اور کبھی خود شخص اپنے اعمال ،لفظوں کی ادائیگی کے تئیں رسوائی محسوس کرتا ہے۔
کس کس طرح سے مجھ کو نہ رسوا کیا گیا
غیروں کا نام میرے لہو سے لکھا گیا
رُسوا ہونے کی صورتیں فرد،اس کی ذات،اس کی تعلق داری،اس کی دوست داری،اس کی رواداری،اس کے عادات و اطوار سے منسوب رہتی ہے۔بعض افراد کھانے پینے کی کمی یا زیادتی کی وجہ سے رُسوا ہوتے ہیں،کچھ اشخاص زیب تن کئےگئے پوشاک یا ملبوسات کی وجہ سے رُسوائی حاصل کر جاتے ہیں،متعدد ایسے کردار بھی نظر آئیں گے جو اپنی تربیت،تمیز،تہذیب میں ڈھیلا پن دکھلاتے ہیں اور یہ ڈھیلا پن ان کی رُسوائی کا ایک مضبوط سبب بن سکتا ہے، ایسے افراد زمانے کے ہاتھوں برباد ہو جاتے ہیں جنہیں رُسوائی کا کوئی بھی علم نہیں ہوتا ہے۔ایسے بھی لوگ دنیا میں ملیں گے جو دوسروں کے بنے گئے جال کی وجہ سے رُسوائی کے دلدل میں آپھنستے ہیں، جنہیں وہاں سے کوئی نہیں نکال سکتا ہے۔دنیا کے باقی لوگوں کی طرح شعراء حضرات اور قلم کا بھی کبھی کبھی رُسوا ہو جاتے ہیں،ادبی معرکوں میں رُسوا کئے جاتے ہیں۔غالب اردو زبان کی ایک لافانی آواز ہے جن کا شعری وہ نثری سرمایہ ان کے چاہنے والوں کے لئے اب حیات کا کام کرتا ہے۔انہوں نے بھی اس رُسوائی کا ذکر اپنی شاعری میں کیا ہے کہتے ہیں۔
کھلتا کسی پر کیوں میرے دل کا معاملہ
شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے
غالب کو شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا اور ہمیں رُسوا کیا لفظوں کے انتخاب نے۔لفظ ایک اہمیت کا حامل ہے بلکہ لفظ ایک مکمل اکائی ہے جس کا مفہوم مقرر ہے،جس کے معنی پابند ہے لیکن کب،کہاں،کیسے مفہوم و معنی ادا کرنے ہیں اس کا حق متکلم کو حاصل ہے اور متکلم کا واسطہ مخاطب سے ہے۔مخاطب،متکلم کی گفتگو،الفاظ،جملوں کو سوالوں کا مناسب جواب دینے کی کوشش کرتا ہے، اس ترسیل کا عمل صاف سادہ اور با مقصد ہوتا ہے لیکن کبھی کبھی متکلم کی زبان سے ادا ہونے والے الفاظ یا جملے مخاطب کی جانب سے ایسے معنی پاتے ہیں جو کہ متکلم کو رُسوا کرنے کی خاطر کافی ہوتے ہیں۔بعض اوقات غیر دانستہ طور پر متکلم ایسے لفظوں کا استعمال کرتا ہے کہ مخاطب الیہ ان الفاظ کو ہاتھوں ہاتھ لینے کی تاک میں بیٹھا رہتا ہے، اس طرح سے ان الفاظ کو ایسے جملوں میں پیرایا جاتا ہے کہ متکلم کا حوالہ دے کر اس سے رُسوا کرنے کی کوششیں تیز سے تیز تر کر دی جاتی ہیں۔ متکلم اپنی گواہی اپنے حق میں صفائی پیش کرنے سے رہ جاتا ہے۔ لفظ یا الفاظ کا استعمال ایک موقع و محل کا محتاج ہوتا ہے، لفظوں کے استعمال سے ہی عمارت بنائی یا گرائی جاتی ہے،صورتحال کی تصویر کا رُخ الفاظ کے استعمال پر ہی مبنی ہے۔ اگر صورتحال خراب بیان کرنی ہے تو الفاظ کے بہترین انتخاب سے ہی یہ ممکن ہے، عین مطابق لفظوں کا انتخاب ہی صورتحال کو بہترین،مناسب یا نارمل بیان کر سکتا ہے۔یقین مانیے کبھی کبھی فرد کو لفظوں کا انتخاب ہی رُسوا کرنے کے لئے کافی ہوتا ہے ۔اگر لفظوں کے انتخاب میں ترتیب بگڑ گئی تو بات بگڑ جائے گی معنی بکھر جائیں گے اور متکلم کی رسوائی لازم ہے ۔
رُسوائی کی ہئتیں مختلف مزاج کی مالک ہوتی ہیں۔کبھی رُسوائی لفظوں کی ادائیگی کی محتاج رہتی ہے،کبھی رُسوائی کا سبب بولنا بن جاتا ہے،کبھی رُسوائی کا سبب نہ بولنا ہوتا ہے،کبھی رُسوائی کا واسطہ گلیوں کی چیزوں سے منسوب رہتی ہے۔بعض اوقات رُسوائی آپ کی سوچ کے سبب ہوتی ہے،بعضے آپ کے حلیہ کی حالت آپ کو رُسوا کرتی ہے۔
یوں تو رُسوائی کا سامنا ہر شخص کو کرنا پڑتا ہے لیکن اگر آپ عاشق ہے تو آپ کا واسطہ رُسوائی سے گہرا ہے ۔آپ کو رُسوا ہونا ہے کبھی محبوب کی گلیوں میں،کبھی رقیبوں کی محفلوں میں،محبوب کے دشمنوں میں،خود اپنے دوستوں احباب وحریفوں کی محفلوں میں، یہاں تک کہ اُلفت کی بھری دنیا میں جس کا آغاز بھی رُسوائی سے ہوتا ہے اور انجام بھی رُسوائی پر ہی ہوتا ہے۔بقول شاعر؎
دیکھے ہیں بہت ہم نے ہنگامے محبت کے
آغاز بھی رسوائی،انجام بھی رسوائی ( مصطفیٰ تبسم)
گفتگو کرنا ایک فن مانا جاتا ہے۔ایک ایسا فن جس میں ہمیشہ ترمیم اضافے تشکیل ترتیب کی گنجائش موجود رہتی ہے جس میں جتنی شدت کے ساتھ شائستگی و تہذیب اور ترتیب بھرتی جائے کم ہی ہے۔انسان کو اپنے اخلاق،بات کرنے کے ڈنگ سے پہچانا جاتا ہے۔یہی وصف اس کا بنیادی امتیاز بن جاتا ہے اور اس امتیاز کے نشیب و فراز مختلف مراحل،وادیوں،راستوں،علاقوں،جگہوں ،شہر وں سے سفر کرتا ہے۔یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ انسان واحد ایک ایسی مخلوق ہے دنیا میں جس کو جتنا سنوارا جاتا ہے ،جس کی جتنی ترتیب کی جائے اتنے ہی سنورنے کے نئے امکانات نکل آتے ہیں،جس کی جتنی ترتیب و تہذیب اور تشکیل کی جائے، ضرور اس میں اضافے کی گنجائش موجود رہتی ہے۔
دنیا کے چھوٹے بڑے تعلیمی ادارے،ٹریننگ سینٹر،انسانی تربیت کے تربیتی مراکز،نفسیاتی علوم و انسانی رویوں پر کام کرنے والے لائف کوچ ان جیسے مسائل کو لے کر انسانی تہذیب یا انسانی ابادی میں کام کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔دنیا کے مختلف ممالک میں اس طرح کے منظم ادارے کام کر رہے ہیں۔نیر عبدالرب ریاض سعودی عرب کے ایسے ہی لائف کوچ ہیں جنہوں نے کتاب اندر کی دستک میں ذاتی زندگی سے لے کر پیشہ ورانہ معاملات تک متعدد واقعات یکجا کر دیے ہیں جو زندگی کے حقیقی مسائل ،واقعات پر مبنی ہے کتاب میں ایک جگہ پر لکھتے ہیں۔’’میں اپنے قارئین کو سمجھانا چاہتا ہوں کہ لفظوں کا انتخاب کس قدر اہمیت رکھتا ہے۔لوگ شاید یہ بھول جائیں گے کہ آپ نے کیا کہا تھا لیکن وہ کبھی نہیں بھولتے کہ آپ کے الفاظ سے انہیں کیسا محسوس ہوا تھا۔تعلق قائم رکھنے میں درست الفاظ کا انتخاب بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔‘‘
زندگی کے ہر موڑ پر آپ کو رُسوائی ملے گی،رُسوا ہونے کا سامان ملے گا،رُسوا ہونے کے امکانات ملیں گے،رُسوا ہونے کا ماحول دستیاب ہوگا۔آدمی واحد ایک ایسی مخلوق ہے جو چمچہ گیری کا ہنر جانتا ہے،جو چمچہ بن جاتا ہے،جس کو چمچہ بنایا جاتا ہے، اس چمچہ گیری کے فن میں آدمی سرے عام بھی رُسوا ہو جاتا ہے،صاحب کے ہاتھوں بھی رُسوا ہو جاتا ہے،ماتحت کے ہاتھوں بھی رُسوا ہو جاتا ہے،سیاسی چمچوں کی جانب سے عام چمچہ اکثر رُسوا ہو جاتا ہے ۔چمچہ گیری کا فن ایک ایسا فن ہے جہاں آدمی کو آگے پیچھے دائیں بائیں اپنوں اور دوستوں کی محفل میں یہاں تک کہ دشمن اور عوام کی محفلوں میں رُسوا ہونا پڑے گا کیونکہ رُسوائی شرط ہے چمچے گیری میں۔عین مطابق آدمی کو یہ بھی وصف حاصل ہے کہ وہ خود ستائی کا دلدادہ ہے، خود ستائی کے دوران بھی یہ آدمی رُسوا ہو جاتا ہے کبھی اپنی تعریف کرتے ہوئے،کبھی دوسروں کے تیر و طنز کے دہانے پر رہ کر یہ رُسوا ہو جاتا ہے،خوش آمد کی بیماری بھی آدمی کو ہی وراثت میں ملی ہے ،یہ خوش آمدی چاہتا ہے اور خوش آمدی کرنے والا آدمی جانتا ہے کہ یہ صاحب رُسوا شخص ہے اور اس کا حق ہے رُسوا ہونا۔
(رابطہ ۔8825001337.)
[email protected]
����������������