سرنکوٹ//بار ایسوسی ایشن سرنکوٹ نے جموں میں روہنگیامسلمانوں کے خلاف شروع کی گئی مہم کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ واضح کیا ہے کہ جموں وکشمیر ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن کی طرف سے دی گئی ہڑتال کال کی وہ کسی بھی صورت میں حمایت نہیں کرتے او رنہ ہی جموں بار خطہ پیر پنچال کی نمائندگی کرتی ہے بلکہ وہ جموں تک محدود ہے۔بار صدر ایڈووکیٹ یاسر جنجوعہ نے ایک ایسو سی ایشن کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جموں ہائی کورٹ بار ایسو سی ایشن جن معاملات کو لیکر ایجی ٹیشن کر رہی ہے جن کی کوئی جوازیت نہیں بلکہ ایک مخصوص طبقہ کو نشانہ بنایاجارہاہے۔ انہوں نے کہا’’ہمیں جموں وکشمیر پولیس پر پورا اعتماد ہے، انہوں نے جو تحقیقات کی ہے وہ بالکل صحیح ہے۔ جموں بارصرف جموں کی نمائندگی کرتی ہے، پیر پنچال خطہ کی یہ نمائندگی نہیں کرتی‘‘۔انہوںنے کہاکہ جموں بار ایسوسی ایشن کی جانب سے روہنگیامسلمانوں کے خلاف مہم شروع کررکھی ہے جو ناقابل برداشت ہے ۔ان کاکہناتھاکہ روہنگیا مسلمان غیر قانونی طریقے سے نہیں رہ رہے بلکہ وہ مرکزی سرکار اور اقوام متحدہ کی اجازت سے رہ رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ فرقہ پرست عناصر ہندو مسلم کو آپس میں لڑاناچاہتے ہیں اور ایسی مہمات ملک کیلئے کسی بھی طور پر سود مند ثابت نہیںہوسکتی ۔ انہوںنے کہاکہ روہنگیا کے خلاف بات کرنے والے دیگر غیر ملکیوں پر کیوں خاموش ہیں اور کیوں انہیں معصوم آصفہ کے قتل پر کچھ کہنے میں عار محسوس ہوتی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ اگر آصفہ کے بجائے کسی ہندو لڑکی کے ساتھ ایسا ظلم ہواہوتا تو پورے ملک میں فساد برپاہوجاتے ۔بار صدر کاکہناتھاکہ آصفہ کو انصاف فراہم کرنے کے بجائے بدقسمتی سے اس کے قاتلوں کی حمایت کی جارہی ہے اورتحقیقات پر اثر انداز ہونے کیلئے طرح طرح کے ہتھکنڈے اپنائے جارہے ہیں ۔انہوں نے متنبہ کیاکہ اگر جموں بار ایسو سی ایشن نے اپنا یہی موقف رکھا اور ہڑتال جاری رکھی تو سرنکوٹ بار ایسو سی ایشن بھی سڑکوں پر اترے گی اور مغربی پاکستانی رفیوجیوں کوجموں وکشمیر سے باہر نکالنے کے لئے آوازبلند کی جائے گی۔اس موقعہ پربار جنرل سیکریٹری ماجد خان، اخلاق حسین شاہ ،ممتاز حسین شاہ ،اعجاز خان، نقی علی رضوی،ماہر علی شاہ ،ظفر شاہ ،صداقت قریشی ،محمد توصیف ،افتخار حسین شاہ وغیرہ بھی موجو دتھے ۔