محمد کفیل
گزشتہ دو دہائیوں میں ہندوستان نے معاشی ترقی، ٹیکنالوجی اور انفراسٹرکچر کے میدانوں میں قابلِ ذکر پیش رفت کی ہے، مگر اس ترقی کے متوازی نسلِ نو کی ذہنی بے چینی ایک مستقل اور گہرے ہوتے ہوئے سایے کی طرح منڈلا رہی ہے۔ یہ بے چینی محض ایک وقتی یا انفرادی کیفیت نہیں بلکہ ایک ایسا سماجی و نفسیاتی بحران ہے جو معاشی غیر یقینی، روزگار کی قلت، شناخت کے بحران اور بڑھتے ہوئے سماجی دباؤ کے پیچیدہ امتزاج سے جنم لے رہا ہے۔ آج کا نوجوان ایسے دوراہے پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں مستقبل کا راستہ واضح ہونے کے بجائے مزید مبہم اور غیر یقینی محسوس ہوتا ہے۔اس بے چینی کا ایک نمایاں پہلوسما جی و نفسیاتی خلل (Psychosocial Disturbance) ہے۔ جب معاشرتی ڈھانچے تیز رفتاری سے تبدیل ہوں اور ذہنی و نفسیاتی سطح پر ان تبدیلیوں سے ہم آہنگ ہونے کے مواقع محدود ہو ں تو اضطراب ایک مستقل کیفیت اختیار کر لیتا ہے۔ ماہرین معاشیات اس صورتِ حال کو ساختی بے یقینی (Structural Uncertainty) کے تناظر میں دیکھتے ہیں جبکہ نفسیات کے ماہرین اسے اندیشاتی گھبراہٹ (Anticipatory Anxiety) سے تعبیر کرتے ہیں یعنی مستقبل کے حوالے سے مستقل خدشے اور عدم تحفظ کا احساس۔
نوجوانوں کے سامنے مواقع کا افق بظاہر وسیع ہے، مگر ان تک رسائی محدود ہے۔ خواب تو بے شمار ہیں، لیکن وسائل، رہنمائی اور عملی امکانات کی کمی نے ان خوابوں کے تعاقب کو دشوار بنا دیا ہے۔ بڑھتی ہوئی مسابقت، سماجی توقعات اور فوری کامیابی کے دباؤ نے خود اعتمادی کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔ نوجوان مسلسل دوسروں سے موازنہ، اپنی صلاحیتوں کو ثابت کرنے کی جدوجہد اور ناکامی کے خوف کے درمیان گھرا ہوا ہے۔روزگار کے مسئلے میں سب سے اہم جہت پائیدار روزگار (Sustainable Employment) کا فقدان ہے۔ عالمی معیشت کے اتار چڑھاؤ، آٹومیشن، گیگ اکانومی، کنٹریکٹ ورک اور سماجی تحفظ کی کمزور ساخت نے یہ تاثر مضبوط کر دیا ہے کہ مستقل روزگار اب ایک غیر یقینی تصور بنتا جا رہا ہے۔ آج سوال یہ نہیں رہا کہ ملازمت ملے گی یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ وہ کتنی دیر تک برقرار رہے گی۔ تعلیمی اسناد میں اضافہ ہو رہا ہے، مگر ملازمتوں کے مواقع اس تناسب سے پیدا نہیں ہو رہے اور یہی تضاد نوجوان ذہن میں خوف اور عدم تحفظ کے بیج بو رہا ہے۔ایک اہم مگر نسبتاً کم توجہ پانے والا پہلو یہ ہے کہ تعلیمی نظام اورملازمت کے شعبوں میں بڑھتا ہوا فاصلہ نوجوانوں کی ذہنی بے چینی کو مزید گہرا کر رہا ہے۔ روایتی تعلیمی ادارے بڑی حد تک آج بھی نظری علم تک محدود ہیں جبکہ عملی دنیا مسلسل بدلتی ہوئی مہارتوں، تکنیکی استعداد اور لچکدار صلاحیتوں کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس عدم مطابقت کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ نوجوان طویل تعلیمی سفر کے باوجود خود کو عملی میدان میں غیر موزوں محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہی احساس بتدریج ذہنی دباؤ، احساسِ ناکامی اور خود اعتمادی میں کمی کو جنم دیتا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف روزگار کی قلت کا نہیں بلکہ انسانی وسائل کی مؤثر تیاری کے فقدان کا بھی ہے۔
نفسیاتی سطح پر نوجوان ایک ایسے ذہنی دائرے میں سانس لے رہا ہے جہاں تقابلی اضطراب (Comparison Anxiety)، خوفِ ناکامی اور کمال پسندی (Perfectionism) غالب کیفیات بن چکی ہیں۔ سوشل میڈیا نے اس اضطراب کو کئی گنا بڑھا دیا ہے، جہاں دوسروں کی کامیابیاں فلٹر شدہ تصاویر کی طرح درخشاں نظر آتی ہیں، اور یہی منظر نوجوان کی اپنی جدوجہد کو بے رنگ اور ناکافی محسوس کرا نے کے لیے کافی ہوتا ہے۔نئی نسل کا بڑا کرب یہ بھی ہے آج کے نوجوان کو وہ معاشرتی پشت پناہی حاصل نہیں جو گزشتہ نسلوں کو میسر تھی۔ پہلے خاندان اور سماج مستقبل کی راہوں کو کسی حد تک ہموار کرتے تھے، مگر ماڈرن طرزِ زندگی نے انسان کو نہ صرف تنہا کر دیا بلکہ اس کے معاملات کو مکمل طور پر فرد کی ذمہ داری بنا دیا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ آج کا نوجوان بیک وقت خود کو ثابت کرنے، سماجی توقعات پوری کرنے، رشتوںکی پاسداری، مقابلے میں رہنے اور خود کو نظر انداز نہ ہونے دینے کی جدوجہد میں مبتلا ہے۔ یہ تمام دباؤ مل کر ایک ایسا ذہنی بوجھ بناتے ہیں جس کا وزن باہر سے بھلے ہی دکھائی نہیں دیتا،مگر اندر سے انسان کی شخصیت کو بکھیر دیتا ہے۔مزید براں معاشرہ اسے اس کی صلاحیتوں کے بجائے اس کی مارکیٹ ویلیو کے پیمانے سے پرکھتا ہے۔ جس سے یقین کی لکیریں مدہم پڑ رہی ہیں، فیصلہ سازی کی صلاحیت اور خود اعتمادی متاثر ہو رہی ہے۔
اس بحران کا ایک گہرا سماجی و ثقافتی پہلو بھی ہے، جہاں کامیابی کے محدود اور یک رُخی تصورنے نوجوانوں کے امکانات کو غیر محسوس طور پر محدود کر دیا ہے۔ در اصل معاشرتی بیانیہ چند مخصوص پیشوں اور فوری معاشی استحکام کو ہی کامیابی کا معیار بنا کر پیش کرتا ہے، جس کے نتیجے میں متبادل راستے اختیار کرنے والے نوجوان احساسِ محرومی اور ناکامی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ ثقافتی دباؤ ذہنی صحت پر دیرپا اثرات مرتب کرتا ہے، کیونکہ فرد اپنی فطری صلاحیتوں کے تنوع کو تسلیم کرنے کے بجائے خود کو ایک مسلط شدہ معیار پر جانچنے لگتا ہے۔اعداد و شمار اس بحران کی سنگینی کو مزید واضح کرتے ہیں۔ حکومتِ ہند کی PLFS رپورٹ اور 2025کے دستیاب سرکاری ڈیٹا کے مطابق مجموعی بے روزگاری کی شرح تقریباً پانچ فیصد ہے، جبکہ نوجوانوں میں یہ شرح تقریباً اس سے تین گنا زیادہ ہے۔ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بے روزگاری کی بلند شرح اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ مسئلہ محض روزگار کی کمی کا نہیں بلکہ نظامی عدم توازن کا ہے۔
معاشی ترقی کے باوجود روزگار کی رفتار آبادی کے دباؤ سے ہم آہنگ نہیں ہو سکی۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ وقتی بھرتیوں اور عارضی اسکیموں کے بجائے پائیدار اور قابلِ اعتماد حکمتِ عملی اختیار کی جائے، جس میں مقامی صنعتوں کا فروغ، ہنر مندی کی جدید تربیت، MSME سیکٹر کی مضبوطی اورزرعی معیشت میں تکنیکی شمولیت شامل ہوں۔
یہ بے چینی صرف معاشی مسئلہ نہیں بلکہ سماجی، نفسیاتی اور تہذیبی تبدیلی کی علامت بھی ہے۔ یہ ایک اجتماعی درد ہے جو مختلف شکلوں میں پورے معاشرے میں گردش کر رہا ہے۔
اس بحث کا ایک ناگزیر تقاضا یہ ہے کہ ذہنی صحت کو روزگار اور تعلیم کے مباحث سے الگ کرکے نہ دیکھا جائے۔ ہندوستانی سماج میں اب تک ذہنی دباؤ اور اضطراب کو یا تو کمزوری سمجھا جاتا رہا ہے یا اخلاقی ناکامی، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ کیفیت اکثر ساختی مسائل اور مسلسل غیر یقینی حالات کا فطری ردِعمل ہوتی ہے۔ جب نوجوان طویل منصوبہ بندی کے باوجود ایک غیر مستحکم مستقبل دیکھتا ہے تو اس کی ذہنی توانائی محض بقا کی فکر میں صرف ہونے لگتی ہے۔ اس تناظر میں کونسلنگ، کیریئر گائیڈنس، اور نفسیاتی معاونت کو تعلیمی اداروں اور کام کی جگہوں پر ایک اضافی سہولت کے بجائے بنیادی ضرورت کے طور پر تسلیم کیا جائے، تاکہ نوجوان خود کو اس دباؤ میں تنہا محسوس نہ کرے۔
اسی تسلسل میں یہ بات بھی اہم ہے کہ روزگار کے سوال کو صرف معیشت کی زبان میں حل کرنا کافی نہیں ہوگا، بلکہ اسے انسانی وقار، خودمختاری اور سماجی شمولیت کے زاویے سے دیکھنا ناگزیر ہے۔ ایسی پالیسیوں اور سماجی رویّوں کی ضرورت ہے جو نوجوان کو محض ایک پیداواری اکائی کے طور پر نہیں بلکہ ایک فکری اور تخلیقی انسان کے طور پر تسلیم کریں۔ جب تک روزگار کو باعزت زندگی، سماجی تحفظ اور ذاتی ارتقا سے جوڑ کر نہیں دیکھا جائے گا، تب تک ذہنی اضطراب کی یہ لہر کسی نہ کسی صورت برقرار رہے گی۔ نئی نسل کا اصل مطالبہ محض نوکری نہیں بلکہ ایک ایسا مستقبل ہے جس میں استحکام، معنویت اور خود اعتمادی ساتھ ساتھ چل سکیں۔
پالیسی سازوں، تعلیمی اداروں، سماجی رہنماؤںاور والدین کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس بحران کو محض انفرادی ناکامی کے طور پر نہ دیکھیں بلکہ ایک اجتماعی حقیقت کے طور پر تسلیم کریں۔ نوجوانوں کو امید، مواقع اورایسا ماحول درکار ہے جو انہیں اپنی صلاحیتوں کو منصفانہ طور پر آزمانے کا موقع دے۔
یہ کہا جا سکتا ہے کہ نسلِ نو کی یہ بے چینی ایک خاموش چیخ ہے، اور اگر معاشرہ اس کی بازگشت کو سننے میں ناکام رہا تو آنے والے برسوں میں اس کے اثرات ہر سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔ روزگار کا بحران درحقیقت ایک ہمہ جہت سماجی و نفسیاتی چیلنج ہے، جس کا پائیدار حل امید، پیشہ ورانہ سکلز کی منظّم تربیت اور منصفانہ مواقع کی فراہمی میں مضمر ہے تاکہ نئی نسل فکری، سماجی اور معاشی طور پر مضبوط ہو سکے۔
رابطہ۔8299892440 [email protected]