یاور حبیب ڈار
اسلام میں ماہِ رمضان کو بے حد عظمت اور تقدس حاصل ہے۔ یہ وہ مبارک مہینہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کی روحانی تربیت، تزکیۂ نفس اور تقویٰ کے حصول کا بہترین ذریعہ بنایا۔ قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:’’اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم متقی بن جاؤ۔‘‘ (سورۃ البقرہ 2:183)اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ روزے کا اصل مقصد صرف بھوکا پیاسا رہنا نہیں بلکہ تقویٰ یعنی اللہ کا خوف اور اس کی اطاعت کا جذبہ پیدا کرنا ہے۔رمضان المبارک کی ایک اور بڑی فضیلت یہ ہے کہ اسی مہینے میں قرآنِ کریم نازل ہوا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور ہدایت اور حق و باطل میں فرق کرنے والی واضح دلیلیں ہیں۔‘‘ (البقرہ 2:185)
گویا رمضان قرآن سے تعلق مضبوط کرنے کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں تلاوت، تدبر اور عملِ قرآن کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے تاکہ زندگی کے ہر شعبے میں اللہ کی ہدایت حاصل ہو سکے۔احادیثِ مبارکہ میں بھی رمضان کی عظمت بیان کی گئی ہے۔ نبی کریم ؐ نے فرمایا:’’جس نے ایمان اور ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔‘‘ (بخاری و مسلم)ایک اور حدیث میں فرمایا:’’روزہ ڈھال ہے۔‘‘یعنی روزہ انسان کو گناہوں اور برائیوں سے بچانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ جب انسان اپنی خواہشات پر قابو پانے کی مشق کرتا ہے تو اس کی شخصیت میں مضبوطی پیدا ہوتی ہے۔رمضان المبارک صرف عبادت کا مہینہ ہی نہیں بلکہ ہمدردی اور اخوت کا درس بھی دیتا ہے۔ جب ایک صاحبِ استطاعت شخص بھوک اور پیاس کی کیفیت محسوس کرتا ہے تو اسے غریبوں اور محتاجوں کی تکلیف کا اندازہ ہوتا ہے۔ اسی لیے اسلام نے اس مہینے میں صدقہ و خیرات، زکوٰۃ اور فطرانہ ادا کرنے کی ترغیب دی ہے۔ اس عمل سے معاشرے میں محبت، مساوات اور بھائی چارہ فروغ پاتا ہے۔اس مہینے کی سب سے بڑی روحانی نعمت شبِ قدر ہے جس کے بارے میں قرآن میں فرمایا گیا:’’شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔‘‘ (سورۃ القدر 97:3)یہ وہ رات ہے جس میں عبادت کا اجر ہزار مہینوں کی عبادت سے بڑھ کر ہے۔ اس رات میں دعا، توبہ اور استغفار کے ذریعے انسان اپنی زندگی بدل سکتا ہے۔
رمضان کا ایک اہم پہلو صبر کی تربیت بھی ہے۔ روزہ انسان کو برداشت، تحمل اور خود پر قابو رکھنے کی عادت سکھاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبی کریمؐ نے رمضان کو’’صبر کا مہینہ‘‘ بھی فرمایا ہے۔ جب انسان اپنی زبان، آنکھ اور دل کو گناہوں سے بچاتا ہے تو اس کا کردار نکھر جاتا ہے اور وہ ایک بہتر انسان بن جاتا ہے۔شعر و شاعری میں بھی رمضان اور روزے کی روحانیت کو خوب بیان کیا گیا ہے۔ علامہ اقبالؒ کا ایک شعر انسان کی خودی اور ضبطِ نفس کی تربیت کی طرف اشارہ کرتا ہے:
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
یہ شعر اس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ جب انسان اپنی خواہشات پر قابو پاتا ہے اور روحانی ترقی کرتا ہے تو وہ اللہ کے قرب کے قابل ہو جاتا ہے، اور رمضان اسی تربیت کا بہترین ذریعہ ہے۔ایک اور شعر میں روحانیت اور دل کی پاکیزگی کا پیغام ملتا ہے ؎
دل بدل جائے تو انسان بدل جاتا ہے
رمضان آئے تو ایمان بدل جاتا ہے
یہ اشعار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ رمضان انسان کی اندرونی کیفیت کو بدلنے کی طاقت رکھتا ہے، بشرطیکہ وہ اخلاص کے ساتھ عبادت کرے۔
رمضان المبارک کی افادیت صرف انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی بھی ہے۔ اس مہینے میں مساجد آباد ہوتی ہیں، لوگ ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں، افطار کی محفلیں محبت کا ذریعہ بنتی ہیں، اور معاشرے میں خیر و بھلائی کا رجحان بڑھ جاتا ہے۔ اس طرح رمضان ایک روحانی انقلاب برپا کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔آخر میں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ رمضان کا اصل مقصد صرف ایک مہینے کی عبادت نہیں بلکہ پوری زندگی کو بدلنا ہے۔ اگر رمضان کے بعد بھی انسان نماز، تقویٰ، سچائی اور نیکی پر قائم رہے تو یہی رمضان کی حقیقی کامیابی ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کی قدر کرنے، اس کی برکتوں سے فائدہ اٹھانے اور اپنی زندگیوں کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین