آصف حسین الکشمیری
یہ ایک تلخ مگر ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ ہم جس ماحول میں سانس لیتے ہیں، جس پانی سے اپنی پیاس بجھاتے ہیں اور جس زمین پر اپنی روزی کماتے ہیں، اسی کو ہم اپنے ہی ہاتھوں آلودہ اور زہریلا بنا رہے ہیں۔ ہمارے شہر ہوں یا قصبے، دیہات ہوں یا محلے، گلیاں ہوں یا ندی نالے، ہر طرف گندگی کے انبار اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ ہم صفائی کو اپنی اجتماعی ذمہ داری سمجھنے سے قاصر ہو چکے ہیں۔ پلاسٹک کی تھیلیاں، سڑا ہوا کھانا، گھروں کا فضلہ، بازاروں کا کوڑا اور نالوں میں بہتا گندا پانی اس طرح بکھرا ہوا ہے جیسے صفائی کسی اور کا کام ہو اور ہم صرف تماشائی ہوں۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ہم اس آلودگی کو کسی بیرونی دشمن کی سازش سمجھ لیتے ہیں، حالانکہ اس کے اصل مجرم ہم خود ہیں۔ یوں کہنا بے جا نہ ہوگا کہ آج ہم خود اپنی صحت کے قاتل بن چکے ہیں۔
ہم ایک ایسے معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں صفائی کو نصف ایمان کہا گیا ہے، مگر عملی زندگی میں ہمارا حال اس کے بالکل برعکس نظر آتا ہے۔ مسجد کے دروازے سے باہر قدم رکھتے ہی گندگی کے ڈھیر ہمارا استقبال کرتے ہیں، بازاروں میں بدبو مارتے نالے اور گھروں کے سامنے پھینکا گیا کوڑا ہمیں روز یہ یاد دلاتا ہے کہ ہم صرف زبان کے مسلمان اور کاغذی مہذب شہری ہیں، عمل میں نہیں۔ ہم نماز پڑھتے ہیں مگر راستے گندے رکھتے ہیں، ہم دعائیں مانگتے ہیں مگر اپنے ماحول کو خود آلودہ کرتے ہیں۔ یہ تضاد ہمارے اجتماعی رویے کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔
کبھی ندی نالے زندگی کی علامت ہوا کرتے تھے۔ انہی سے کھیت سیراب ہوتے تھے، انہی سے پینے کا صاف پانی حاصل ہوتا تھا اور انہی سے ماحول میں تازگی رہتی تھی، مگر آج یہی ندی نالے گندگی کے گودام بن چکے ہیں۔ گھروں کا فضلہ، اسپتالوں کا آلودہ مواد، ہوٹلوں اور بازاروں کا کچرا بے دریغ انہی میں بہایا جا رہا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ پانی زہریلا ہو چکا ہے، مچھلیاں مر رہی ہیں اور انسان مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہا ہے۔ ہیضہ، ٹائیفائیڈ، ڈائریا، جلدی امراض، ملیریا اور سانس کی بیماریاں اسی آلودگی کا نتیجہ ہیں۔ یہ بیماریاں کسی قدرتی آفت کا نہیں بلکہ ہماری اپنی غفلت کا انجام ہیں۔
پلاسٹک ہماری روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے، مگر یہی سہولت ہمارے لیے خاموش قاتل ثابت ہو رہی ہے۔ چند منٹ کے استعمال کے بعد پھینکی جانے والی پلاسٹک کی تھیلیاں صدیوں تک زمین میں باقی رہتی ہیں۔ یہ نالیوں کو بند کر دیتی ہیں، بارش کے دنوں میں سیلابی کیفیت پیدا کرتی ہیں اور بدبو دار ماحول کو جنم دیتی ہیں۔ پلاسٹک جلانے سے نکلنے والا زہریلا دھواں دمہ اور سانس کے امراض میں اضافہ کر رہا ہے۔ ہم وقتی سہولت کے لیے دائمی تباہی کو دعوت دے رہے ہیں۔
اکثر لوگ یہ کہہ کر خود کو بری الذمہ سمجھتے ہیں کہ صفائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ یقیناً حکومت اور بلدیاتی اداروں پر بھی فرض ہے کہ وہ مناسب انتظام کریں، مگر کیا ہم اپنی ذمہ داری سے آزاد ہو سکتے ہیں؟ اگر ہر شہری اپنے گھر کے سامنے کوڑا نہ پھینکے، ندی نالوں میں فضلہ نہ ڈالے اور صفائی کو اپنا ذاتی فرض سمجھے تو آدھی سے زیادہ مشکل خود بخود حل ہو جائے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں یہ سوچ عام ہو چکی ہے کہ ایک آدمی کے کوڑا پھینکنے سے کیا فرق پڑے گا، مگر یہی ایک آدمی جب لاکھوں میں بدل جاتا ہے تو پورا شہر کچرے کا ڈھیر بن جاتا ہے۔
سب سے زیادہ متاثر ہماری آنے والی نسل ہو رہی ہے۔ گندگی میں کھیلتے بچے طرح طرح کے جراثیم اپنے جسم میں داخل کر لیتے ہیں۔ اسکول جاتے ہوئے وہ تعفن زدہ فضا میں سانس لیتے ہیں جس کا اثر ان کے پھیپھڑوں، دماغ اور قوتِ مدافعت پر پڑتا ہے۔ اگر ہم نے آج اپنے ماحول کو صاف نہ کیا تو آنے والی نسل ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ ہم انہیں ایک بیمار اور آلودہ دنیا دے رہے ہوں گے۔
یہ بات نہیں بھولنی چاہیے کہ زمین اللہ کی امانت ہے۔ اس امانت میں خیانت کرنا صرف سماجی جرم نہیں بلکہ اخلاقی اور دینی جرم بھی ہے۔ گندگی پھیلانا دراصل دوسروں کو اذیت دینا ہے۔ ایک شخص کی پھینکی ہوئی گندگی سینکڑوں لوگوں کے لیے بیماری کا سبب بن سکتی ہے۔ صفائی صرف بلدیہ کا کام نہیں بلکہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔
حل واضح اور ممکن ہے۔ ہر فرد یہ عہد کرے کہ وہ سڑک، ندی یا کسی کھلی جگہ پر کوڑا نہیں پھینکے گا۔ صفائی کا آغاز اپنے گھر اور محلے سے کیا جائے گا اور بچوں کو بھی صفائی کی عادت ڈالی جائے گی۔ پلاسٹک کے استعمال کو کم کر کے کپڑے یا کاغذ کے تھیلوں کو فروغ دیا جائے گا۔ حکومت اور بلدیاتی اداروں کو چاہیے کہ وہ کچرا اٹھانے کا مؤثر نظام بنائیں، ندی نالوں کی مستقل صفائی کریں اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانہ عائد کریں۔ اسکولوں، مساجد اور میڈیا کے ذریعے صفائی کے بارے میں شعور بیدار کیا جائے تاکہ یہ مسئلہ قومی تحریک بن سکے۔
میڈیا اور اہلِ قلم کی بھی بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ اس مسئلے کو مسلسل اجاگر کریں۔ صرف سیاست اور تفریح پر لکھنے کے بجائے صحت اور ماحول جیسے بنیادی موضوعات کو مرکزی حیثیت دی جائے۔ قلم کاروں کو چاہیے کہ وہ قوم کو آئینہ دکھائیں اور بتائیں کہ اصل دشمن باہر نہیں بلکہ ہمارے اندر کی لاپرواہی ہے۔
اگر آج ہم نے اپنے رویے نہ بدلے تو کل ہمیں اسپتالوں میں لمبی قطاروں، صاف پانی کی قلت اور زہریلی فضا کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ سب کسی دشمن کی سازش نہیں بلکہ ہمارے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوگا۔ ہم خود اپنی صحت کے قاتل ہیں اگر ہم نے گندگی کو اپنا معمول بنا لیا ہے۔ آئیے آج عہد کریں کہ ہم اپنی گلیوں، ندی نالوں اور شہروں کو صاف رکھیں گے۔ یہ صرف حکومت کی نہیں بلکہ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر ہم نے آج یہ قدم اٹھایا تو آنے والی نسلیں ہمیں دعائیں دیں گی، ورنہ تاریخ ہمیں ایک غافل قوم کے طور پر یاد رکھے گی جس نے اپنی ہی زندگی کو آلودہ کر لیا۔صاف ماحول — صحت مند قوم۔ یہ صرف نعرہ نہیں بلکہ بقا کی شرط ہے۔
رابطہ۔: 9797888975
[email protected]
����������������
�����������������