امتیاز خان
حقوق اور فرائض ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ ایک کے بغیر دوسرے کا تصور نہ صرف ادھورا بلکہ بے معنی ہو جاتا ہے۔ مگر عملی زندگی میں ہم اکثر اس توازن کو برقرار رکھنے میں ناکام نظر آتے ہیں۔ آج کا شہری اپنے حقوق کے حوالے سے پہلے سے کہیں زیادہ باشعور ہے۔ وہ بجلی کی بندش پر سوال اٹھاتا ہے، پانی کی قلت پر آواز بلند کرتا ہے، سڑکوں کی خستہ حالی پر احتجاج کرتا ہے اور انصاف کی فراہمی میں تاخیر پر تنقید بھی کرتا ہے۔ بلاشبہ یہ ایک زندہ اور متحرک معاشرے کی علامت ہے۔مگر تصویر کا دوسرا رخ اتنا روشن نہیں۔ یہی شہری جب اپنی ذمہ داریوں کی طرف آتا ہے تو اکثر خاموش ہو جاتا ہے۔ ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو اپنے اردگرد صفائی کا خیال رکھتے ہیں؟ کتنے لوگ ٹریفک قوانین کی پابندی کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں؟ کتنے افراد سرکاری املاک کو اپنی ملکیت جان کر اس کی حفاظت کرتے ہیں؟ہماری روزمرہ زندگی کے مناظر اس سوال کا جواب خود دے دیتے ہیں۔ سڑکوں اور ندی نالوں پر قبضہ، جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر اور کھلے عام گندگی پھیلانا ایک عام سی بات بن چکی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ جب کچرا ٹھکانے لگانے کیلئے مناسب جگہ میسر نہ ہو تو ہم بغیر سوچے سمجھے کسی خوبصورت ندی، نالے یا کھلے میدان کو ہی اس مقصد کیلئے استعمال کرنے لگتے ہیں۔ یوں ہم نہ صرف اپنے ماحول کو آلودہ کرتے ہیں بلکہ قدرتی حسن کو بھی اپنے ہاتھوں سے تباہ کر دیتے ہیں۔
یہ مسئلہ صرف انتظامیہ کی ناکامی نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی رویے کی عکاسی بھی ہے۔ اگر سہولیات کا فقدان ہے تو یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ مناسب نظام فراہم کرے، مگر اس خلا کو اپنی لاپرواہی سے بھرنا کسی صورت درست نہیں۔ ایک فرد کا معمولی سا عمل جب اجتماعی سطح پر دہرایا جاتا ہے تو وہی عمل ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔خاص طور پر ندی نالوں میں کچرا پھینکنا محض صفائی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک سنگین ماحولیاتی خطرہ ہے۔ اس سے پانی کا بہائو متاثر ہوتا ہے، نکاسی کا نظام بند ہو جاتا ہے اور بارشوں کے دوران سیلابی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ مزید برآں، یہ عمل انسانی صحت اور آبی حیات دونوں کیلئے نقصان دہ ہے۔
اگر ہم اپنی مجموعی صورتحال کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیں تو سب سے نمایاں مسئلہ شہری شعور کی کمی کا سامنے آتا ہے۔ یہ کمی کسی ایک طبقے یا ایک علاقے تک محدود نہیں بلکہ ایک اجتماعی رویہ بن چکی ہے۔ ہم نے خوبصورتی کو چند مخصوص مقامات تک محدود کر دیا ہے وہ جگہیں جو سیاحوں کو دکھانے کے قابل ہوں، جو تصویروں میں اچھی لگیںجبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک مثالی معاشرہ وہ ہوتا ہے جہاں ہر گلی، ہر محلہ اور ہر بازار اسی معیار کی نمائندگی کرے۔یہاں ایک اور کڑوا مگر ناگزیر سوال جنم لیتا ہے، آخر ہم کس حد تک اس سرزمین کو جنت کہنے کے حقدار ہیں؟ کیا صرف چند دلکش مناظر اور قدرتی حسن ہی کسی خطے کو جنت بنا دیتے ہیں یا اس کیلئے انسانی رویوں کی پاکیزگی، صفائی کا شعور اور اجتماعی ذمہ داری بھی ضروری ہے؟
جب سڑکیں کچرے سے بھری ہوں، ندی نالے آلودہ ہوں اور عوامی مقامات بے ترتیبی کا شکار ہوں تو یہ خوبصورتی محض ایک دھوکہ بن جاتی ہے۔ ایسے میں دل یہ سوال کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کہیں ہم اپنی ہی لاپرواہی سے اس جنت نظیر وادی کو جہنم زار میں تبدیل تونہیں کررہے ہیں؟کیا ہم واقعی ترقی کر رہے ہیں، یا خاموشی سے اپنے ہی پیروں پر کلہاڑی مار رہے ہیں؟ جب ہم اپنے ماحول کو نقصان پہنچاتے ہیں، قدرتی وسائل کو ضائع کرتے ہیں اور ذمہ داری سے پہلو تہی کرتے ہیں تو دراصل ہم اپنے ہی مستقبل کو دائو پر لگا دیتے ہیں۔
عام طور پر ہم اس تمام صورتحال کا ذمہ دار حکومت اور اداروں کو ٹھہرا دیتے ہیں۔ بلاشبہ ان کی ذمہ داریاں اپنی جگہ موجود ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ریاست اور شہری ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ ایک دوسرے کا عکس ہیں۔ جس معاشرے کے شہری اپنے فرائض سے غافل ہوں، وہاں بہترین نظام بھی مطلوبہ نتائج نہیں دے سکتا۔تبدیلی ہمیشہ فرد سے شروع ہوتی ہے۔ جب تک ہر شخص یہ طے نہیں کرتا کہ وہ خود قوانین کی پابندی کرے گا، صفائی کا خیال رکھے گا اور اپنے عمل کے اثرات کو سمجھے گا، تب تک اجتماعی تبدیلی ممکن نہیں۔ چھوٹے چھوٹے اعمال جیسے کچرا ڈبے میں ڈالنا، قطار کا احترام کرنا اور ٹریفک اصولوں کی پابندی درحقیقت ایک مہذب معاشرے کی بنیاد ہوتے ہیں۔
یہ ذمہ داری صرف تعلیمی اداروں تک محدود نہیں ہونی چاہئے۔ میڈیا، مذہبی رہنما، سماجی تنظیمیں اور خاندان سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ جب تک ہم آنے والی نسلوں کو ذمہ دار شہری بننے کا شعور نہیں دیں گے، مسائل جوں کے توں رہیں گے۔ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہم کس طرح کا معاشرہ چاہتے ہیں۔ کیا ہم ایک ایسا ماحول چاہتے ہیں جہاں خوبصورتی صرف تصویروں تک محدود ہو، یا ہم ایک حقیقی جنت کے خواہاں ہیں جہاں صفائی، نظم و ضبط اور ذمہ داری ہر جگہ نمایاں ہو؟ وقت آ گیا ہے کہ ہم صرف سوال پوچھنا بند کریں بلکہ خود جواب بن جائیںکیونکہ معاشرے وہی بنتے ہیں جو ہم اپنے روزمرہ کے اعمال سے تشکیل دیتے ہیں۔