بلا شبہ دنیا بھر میں گرین ہاوس گیسز کی کثرت سے کرۂ ارض پر گرمی کی شدت میںاضافہ ہورہا ہے،جس کے نتیجے میںماحولیات میں ایسی تبدیلیاں پیدا ہوچکی ہیں،جو نہ صرف انسانی زندگی کی بقا ءکے لئے تباہ کُن بن رہی ہیں بلکہ روئے زمین پر رہنے والی دوسری مخلوقات کی حیات کے لئے بھی نقصان دہ ثابت ہورہی ہیں۔اپنی اس وادیٔ کشمیر میں بھی اب درجہ حرارت اور گرمی کے دورانیے میں اضافے کے ساتھ ساتھ آلودگی ہمارے لئےنا مواقف ہی نہیںبلکہ انتہائی ضرررساں بن رہی ہےاوراس طرح ماحولیاتی تغیرات سے پیدا ہونے والےنقصان دہ نتائج بھی سامنے آ رہے ہیں۔
چنانچہ ہمارا کشمیرخطہ بھی جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک میں شامل ہے ،اس لئے ماہرین کی رائے کے مطابق مشرقی ایشیائی ممالک میں درجہ حرارت بڑھنے کا براہِ راست اثرارض ِکشمیرپر بھی پڑتا ہےاور ماحولیاتی تباہ کاری سےمتاثر ہوئے بنا ء نہیں رہتا ہے۔چنانچہ دن بہ دن بڑھ رہی تپش کا ایک رُخ برف کی جانب بھی ہے جوہر سُو اپنا وجود کھو رہی ہے یعنی گلیشیر ، برفانی پہاڑی چوٹیاں ، برفانی سطح سمندر اور قطبین ہر مقام پر برف تیزی سے پگھل رہی ہے ،جس سے بارش اور سیلاب بے ترتیب اور کثرت سے آنے کا خدشات لاحق ہوچکے ہیں۔
جبکہ موذی امراض، ملیریا ، نمونیا ، کینسر کا پھیلائو اور امراض ِ دل کے امکانات میں اضافہ ہوتا رہاہے،نیز وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ کئی دیگر ’’اَن سُنی‘‘ بیماریوں کا خطرہ بھی بڑھتا چلا جارہا ہے۔جس کے باعث جنوبی ایشیائی ملکوں کی انسانی آبادیوں کے لئے ناقابل حل مسائل پیش آنے کے اندیشے بڑھ چکے ہیں۔ چنانچہ معدنیاتی ایندھن ، تیل ، پٹرول ، گیس ، کوئلہ کا بے رحمانہ استعمال، بجلی کی پیداوار اور بجلی سے چلائے گئے آلات ، سیمنٹ کے کارخانے اور ٹرانسپورٹ کے بے ہنگم استعمال نے کرۂ ارض کو گرمی کے علاوہ بدترین آلودگی سے بھی ڈھانپ دیا ہےاور ان اسباب سے نہ صرف موجودہ انسانی نسل مختلف بیماریوں کی زد میں ہے بلکہ رحم مادر کے بچوں میں بھی پیدائشی بیماریاں ہونے کا احتمال ہے۔ جبکہ صنعتی انقلاب کے نتیجے میں کرۂ ارض پر موجود تمام جانوروں کی زندگی اور وجود کے لئے بھی خطرات میں اضافہ ہوچکاہے۔ ظاہر ہے کہ گرین ہائوس گیسز کے بے رحمانہ استعمال کے بعد اس وقت گرمی اور آلودگی پیدا کرنے کا سب سے بڑا سبب بجلی کے پیدا کرنے اور اس سے چلنے والی مشینیں ہیں ، اس وقت حرارت پیدا کرنے والی مختلف قسم کی چھوٹی بڑی مشینیں ہر گھر میں موجود ہیں۔
ہمارے کشمیر میں بھی ہیٹر ، جنریٹر ، استری ، گیزر،کوکر وغیرہ تو ہر گھرمیں استعمال ہورہا ہےاور موٹر کار،اسکوٹر اور دوسر ے الیکٹرانک سامان کا استعمال بھی تیزرفتاری کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے،جس کے نتیجے میںہماری زمین کاربن ڈائی آکسائیڈ کی کثرت اور آکسیجن کی کمی کا شکارہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ بڑھتی ہوئی حرارت اور آلودگی ہلاکت کے کئی اور سامان پیدا کررہی ہے۔اس لئے اس ماحولیاتی تبدیلیوں کے طوفانِ نوح سے بچنے کیلئے ہم پر بھی کچھ ذمہ داریاںعائد ہو رہی ہیں۔بقول ماہرین ِ ماحولیات ،اہم ذمہ داری یہ ہے کہ ہر سطح پر زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ درخت ہی موسم کی گرمی کو کم کرتے ہیں اور اگرندی نالوں کے کناروں پر لگائے جائیں تو درخت اُن کی گندگی کو اپنے اندر ہضم اور جذب کرلیتے ہیں۔
چنانچہ درختوں کے پتّے،احکامِ الٰہی کے تحت زہریلی گیس خود کھالیتے ہیں اور ہمارے لئے زندگی کی اہم ضرورت، آکسیجن گیس پیدا کرکے فضا میں بکھیر دیتے ہیں، جسے انسان سمیت تقریباً ہر جاندار استعمال کرتا ہے۔درخت کا دوسرا کام یہ بھی ہے کہ اُس کا ہر پتّہ حرارت کو ہضم کر تا ہے اورفضا میں ٹھنڈک بکھیر دیتاہے۔ اسی طرح زیر سایہ اُگنے والے پودے چھوٹے چھوٹے پودےبھی کثرت سے ہوا کو صاف کرنے والی چھانی کا کام سر انجام دیتے ہیں،جن کے بیچ یا پنیری بازاروں میں ملتےہیں، جوکافی حد تک ہمارے لئے فائدہ مند ثابت ہوسکتے ہیں۔ کچھ پودے ایسے بھی ہیں ،جنہیں ہم اپنے برآمدوں اور کمروں کے اندر رکھ سکتے ہیںجو انسان کو سونے کی حالت میں بھی جاگ جاگ کر پھول کی پتی کی مانند تازہ آکسیجن مہیا کرتے رہتے ہیں۔ اس لئے ہمارا فریضہ ہے کہ ہم جہاں شجر کاری پر توجہ دیں وہیںپودے کاشت کرنے کیلئے بھی کمر بستہ ہوجائیں،دوسرے لوگوں کو بھی اس کی ترغیب دیں اوراسے ایک مہم کا حصہ بنا کر اپنے گھر ، اپنے آنگن ، اپنے کارخانےاوراپنے دفتر میں اس پر عملدرآمد کرائیں تاکہ گرمی کی شدت میں کمی آئےاور ہم مختلف بیماریوں سے بچ پائیں۔