ڈاکٹر فلک فیروز
انسانوں کی دنیا باقی مخلوقات سے اس لیے انفرادی حیثیت کی مالک ہیں کیونکہ انسان حیوان ناطق ہونے کے ساتھ ساتھ اپنا ماضی رکھتا ہے ،اس کی تلخ و شیریں یادوں کا البم رکھتا ہے ،اس میں گزرنے والی خوشحالی کا احساس کرتا ہے ،اس میں گزرے ہوئے واقعات ،حادثات ،زخموں کا بار بار حساب رکھتا ہے عین مطابق آنے والے کل یا مستقبل کے لئے خواب بُنتا ہے اور اس سب کے دوران اپنے موجودہ دور یعنی حال سے گزرتا ہے، ان سب کے دوران اگر توازن نہ رہا تو حال بے حال ہو جاتا ہے جو کہ کم و بیش انسانی معاشرے میں اکثر آبادی کے ساتھ ہوتا ہے ۔
کیا پوچھتے ہو ان آنکھوں کی اداسی کا سبب
خواب جو دیکھے تھے وہ خوابوں کی حقیقت مانگے
زندگی اکثر ہمیں ایسے خوابوں کے حوالے کر دیتی ہے جو ابتدا میں روشن امکانات سے بھرپور ہوتے ۔لیکن وقت حالات کے چلتے کچھ خواب پورے ہو جاتے ہیں اور کچھ خواب ادھورے رہ جاتے ہیں۔ہماری سوچیں ہمارے خیالات ان ادھورے خوابوں کو گلے سے لگاتی ہیں اور اس طرح سے ہمارے ذہن پر ایک ایسا بھاری بوجھ لٹک جاتا ہے جس سے ہم آزاد ہونا چاہتے ہیں لیکن ہو نہیں پاتے ہیں، جسے ہم بھلانا چاہتے ہیں لیکن بھول نہیں پاتے ہیں۔ یہ شکستہ خوابوں کی زنجیریں ہمیں جکڑ لیتی ہے اور آگے بڑھنے کے تمام راستے مقفل کر دیتی ہے ۔ہم آگے بڑھنا چاہتے ہیں لیکن ہمارے شکستہ خوابوں کی ایسی زنجیریں آڑے آتی ہے کہ ہم آگے نہیں بڑھ پاتے ہیں ہماری جسمانی قوتیں کام کرنا چاہتی ہے لیکن ذہن کی بندشیں کام کرنے کی اجازت نہیں دیتی ہے، اس طرح سے شکست خوابوں کی یہ زنجیریں ایسی یادوں کا سلسلہ بن جاتا ہے جو توڑنے کا نام نہیں لیتا ہے۔ یہ یادیں ہمیں ماضی کی ان دھندلکوں سے ہمیشہ جوڑتی رہتی ہے جو گزر چکی ہے لیکن ہماری حرمان نصیبی یہ ٹھہرتی ہے کہ ہم جسمانی سطح پر جیتے تو حال میں ہیں، لیکن ذہنی سطح پر رہتے ہیں ماضی کے ان کھوئے ہوئے شکستہ خوابوں میں، جو کبھی پورے نہ ہو سکے ۔
یاد رکھنا ہر ایک انسان کی بنیادی فطرت اور ضرورت ہے۔ضرورت اس لیے کیونکہ اسباق کو یاد رکھنا اس کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہے۔ انسان کو اپنے تعلیمی تدریسی تحقیقی تمدنی معاشرتی سماجی مذہبی افکار کے تئیں جواب دہ بنایا گیا ہے۔ اس جوابدہی کے عمل میں مقرر کردہ اصول و ضوابط کو یاد رکھنا ازحد ضروری ہے کیونکہ دنیا ایک ایسی جگہ،مقام ہے جہاں پر ہر ایک کو ہر قدم پر نئی ازمائشوں نئے امتحانات سے گزرنا پڑتا ہے ۔حالانکہ مختلف کتابوں میں کہا بھی جاتا ہے کہ دنیا آزمائش کی جگہ ہے یہاں انسان کو آزمائشوں اور امتحانات سے گزرنا پڑے گا مختلف مذہبی نظریات کو ماننے والے مفکرین بھی اس نظریے کی تائید کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ انسان کو دنیا میں آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے ۔ پڑا ہے ،پڑنا پڑے گا ۔کچھ نظریات ایسے بھی ہیں کہ انسان کو اصل میں دنیا کی زندگی میں کیے گئے اعمال حرکات سکنات کا جواب اخرت کی زندگی میں دینا ہوگا ،اسی لیے اس سے اپنے متعلقہ مذہبی کتابوں اور تعلیمات پر عمل کرنا سکھایا جاتا ہے جس کے لیے مختلف پیغمبر ان کی ہدایات ،رہنمائی کی خاطر اُتارے گئے ہیں۔
تحقیقی،اصلاحی ،معاشرتی ،اخلاقی علوم یہ بتاتے ہیں کہ دنیا میں رہنے کے لیے یہاں اپنی زندگی بسر کرنے کے لیے کچھ اسباق ایسے ہیں ،جنہیں یاد رکھنا ضروری قرار دیا گیا ہے بلکہ لازمی بھی ۔کیونکہ ان کے بغیر زندگی کے مشکل ،کٹھن ،پُرخار سفر کو آسانی سے طے نہیں کر سکتے ہیں ۔لیکن ساتھ ہی مختلف تحقیقی شواہد علمی نظریات ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ اگر ایک انسان کو اپنی زندگی بہتر طریقے سے آسائش اور آرام کے ساتھ یا ذہنی سطح پر پرسکون گزارنی ہے، تو لازمی ہے اس کے لیے کہ ہر سبق کو یاد نہیں رکھا جانا چاہیے یعنی ضروری ہے کہ ان اسباق معلومات حادثات تجربات مشاہدات علوم معرکہ ارائیوں کو بھول جانا چاہیے، جن سے انسان کی ذہنی زندگی اس کی روحانی صحت یہاں تک کہ اس کی جسمانی زندگی اثر انداز ہو سکے۔ ان باتوں سے یہی پتہ چلتا ہے کہ زندگی میں بہت سارے ایسے مقام آتے ہیں جہاں سے انسان کو فوری طور پر رفو چکر ہونا چاہیے اور اسی رفو چکر میں اس کی بہتری اور بھلائی پوشیدہ ہے۔ اگر ایسا نہیں کیا گیا تو یقینی طور پر وہ آپ کی زندگی کے لیے مضر رساں ثابت ہو سکتے ہیں ۔اس بات کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ان واقعات حوادث تجربات مشاہدات یا اسباق سے فوری طور پر رشتہ ترک کرنا چاہیے یا کہ انہیں اپنے ذہن سے جتنا جلدی ہو سکے نکال دینا چاہیے، جو آپ کا پیچھا کر کے آپ کی ذہنی صحت نیز روحانی زندگی کو برباد کرنے کا سامان میسر رکھتے ہیں۔ اسی طرح سے آپ کو ان خیالات سے بھی دور رہنا چاہیے جو آپ کی بالیدگی یا نمو کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔
زندگی ایک بہت بڑا تجربہ ہے جس کے اندر ہزاروں چھوٹے بڑے تجربہات پنپتے ہیں، اس طرح سے یہ ایک بڑی تجربہ گاہ میں تبدیل ہو جاتی ہے اور اس طرح سے زندگی کی کتاب تجربات کا ایک انسائیکلوپیڈیا بن جاتا ہے۔ اس انسائیکلوپیڈیا میں تجربہ ہر قسم کے موجود ہوتے ہیں، وہ تجربات جنہوں نے انسان کو کامیابی کی بلندیوں پر پہنچایا ہوتا ہے اور وہ تجربات بھی جنہوں نے انسان کو وقت وقت پر ہار بھی سکھائی ہوتی ہے یا اونچائی سے پستی کی طرف دھکیل دیا ہوتا ہے یا اسی طرح سے مختلف واقعات ایسے بھی رونما ہوتے رہتے ہیں جن سے زندگی کبھی کسی وقت کے لیے رُک جاتی ہے، تھک جاتی ہے، گر جاتی ہے، رہ جاتی ہے اور اسی طرح سے کچھ تجربات یا واقعات ایسے بھی رونما ہوتے ہیں جن سے زندگی میں لچک پیدا ہو جاتی ہے اور زندگی کا سفر غیر متوقع طور پر کامیابی کی جانب اُڑان بھرتا ہوا نظر اتا ہے۔ اس اڑان بھرنے کے عمل میں یہ یقینی طور پر آپ کے ساتھ وہ لوگ وہ افراد رہے ہوں گے جنہوں نے آپ کو کامیابی کی طرف بڑھنے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھایا ہوتا ہے اور اپنی اواز مشوروں علمی تجربات سے آپ کو مالا مال کیا ہوتا ہے اور اسی طرح سے کچھ خدا کے بندے ایسے بھی ملے ہوں گے،جنہوں نے آپ کو کامیابیوں کی بلندیوں سے نیچے کی جانب کھینچنے کے لیے اپنی پوری قوتیں سر کی ہوتی ہیں اور یہ امر یقینی ہے کہ لوگ کامیابیوں کے لمحات کو زیادہ سے زیادہ یاد رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ،لیکن یہ بھی اپنی جگہ مقدم ہے کہ وہ لمحہ وہ حادثہ وہ مصائب وہ لوگ انسانی یاداشت خیالات اور ذہن میں اکثر کبھی ہیکل کی مانند موجود رہتے ہیں جنہوں نے پریشانی قائم کی ہوتی ہے اور ان کا کردار آپ کی ذہنی صحت پر ہمیشہ باری بوجھ بن کر رہتا ہے۔ یہاں تک کہ پاگل کتے کی مانند یہ خیالات آپ کا پیچھا کرتے رہتے ہیں اور اس طرح سے آپ کی سوچ منفی ہو جاتی ہے۔ اس طرح سے آپ کے خیالات منفی رہتے ہیں جو آپ کو زندگی کی رمک سے دور کرتے ہیں ، جو آپ کو یہ تاثر دیتے ہیں کہ زندگی میں کچھ نہیں رہا ہے، زندگی اب صرف مصیبت اور مصائب کا گڈھا ہے یا اسی کی مانند ایک اندھا کنواں ہے، جس میں تاریکی خوف ،مایوسی ، تنہائی، ڈر، ابلاس کے سوا کچھ موجود نہیں ہے۔ ان تمام چیزوں کو منفی رویے کا نام دیا جا سکتا ہے جو کسی بھی صورت میں انسانی زندگی کے لیے سود مند تصور نہیں کیے جاتے ہیں ،مختلف علمی تعلیمی تحقیقی نفسیاتی علوم میں بہت کام کیا جا چکا ہے یا بہت کام ہو رہا ہے۔نک ٹرنٹن نے اس حوالے سے بہترین کتاب تصنیف کی ہے جس کا نام دیا آرٹ آف لیٹنگ کو ہے ۔مصنف لکھتے ہیں۔
،”The dichotomy of control is a central concept in Stoic philosophy that emphasizes the importance of distinguishing between things that are within one’s control and things that are beyond one’s control.”. Nick Trenton, The Art of Letting Go:
(کالم جاری ہے) رابطہ ۔8825001337
[email protected]>