میر شوکت
یہ وہ دور ہے جب دنیا کے نقشوں پر سرحدیں نہیں، پیشانیوں پر بل پڑتے ہیں، جب سمندر لہروں سے نہیں، بیانات کی تلاطم سے شور مچاتے ہیں اور جب ایک شخص، جو خود کو عالمی سرپنچ گردانتا ہے، اپنی مونچھوں کے خم میں اقوام کی گرد جھاڑ کر اعلان فرماتا پھرتا ہے کہ نظامِ کائنات میرے قبضے میں ہے اور لاٹھی میری زبان کا مترادف۔ وہ کرسی پر نہیں بیٹھتا، کرسی اس کے پیچھے پیچھے چلتی ہے۔کبھی جلسے کے اسٹیج پر، کبھی ایوان کے دروازے پر، کبھی اسکرین کے فریم میں۔اور جہاں وہ رُکتا ہے، وہاں تاریخ ایک لمحے کو ٹھٹھک جاتی ہے، جیسے کسی نے وقت کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے روک لیا ہو۔اس کی داداگری میں ایک عجیب سا شاعرانہ لہجہ ہے، ایسی شاعری جس کے مصرعے دھمکی سے آغاز پاتے ہیں اور خودستائی پر اختتام۔ وہ امن کی بات ایسے کرتا ہے جیسے قصائی بکرے کو سبزہ دکھا کر پکارے، نیت میں چھری چھپی ہو اور ہونٹوں پر مسکراہٹ۔ اس کے الفاظ میں وزن تو ہے، مگر دلیل کی کمی، اس کا اپنا بازار ہے جہاں نفع و نقصان کا ترازو اس کی مرضی سے جھکتا ہے۔ وہ کہتا ہے دنیا کو نظم چاہیے، مگر اس کے نزدیک نظم وہی ہے جو اس کی لاٹھی
کی سیدھ میں آ جائے، جو ذرا ٹیڑھا ہو، وہ فساد کا بیج۔ اسی لیے اس کی صبحیں ٹویٹوں کی روشنی سے طلوع ہوتی ہیں اور شامیں بریفنگز کے سائے میں ڈھلتی ہیں۔
ایک دن خبر آتی ہے کہ دور دراز کے ایک ملک کا صدر غائب ہو گیا۔ نہ آسمان سے گرا، نہ زمین نے نگلا، بس خبروں کی دکانوں میں لٹک گیا۔ کوئی کہتا ہے گرفتاری، کوئی تحفظ، کوئی عدل کا تقاضا۔ مگر سچ وہی ہے جو طاقت ہنس کر بیان کرے۔ ضرورت تھی، ضرورت۔یہ لفظ اس زمانے کی سب سے مہلک بندوق ہے، اس سے قانون زخمی ہوتا ہے، اخلاق فرار اختیار کرتا ہے اور خودمختاری کو بخار چڑھ جاتا ہے۔ اس ایک لفظ نے دنیا کو یہ سبق سکھایا کہ اگر تم دور ہو تو تمہاری آواز کا فاصلہ لمبا ہے اور اگر کمزور ہو تو تمہاری چیخ کا وزن ہلکا۔
یہاں سے داداگری کا مزاج مزید پختہ ہوتا ہے۔ اب وہ صرف حکم نہیں دیتا، مثالیں قائم کرتا ہے اور مثالیں ہمیشہ لاشوں کے گرد کھینچی جاتی ہیں۔ وہ کہتا ہے سبق سکھایا گیا، جیسے استاد نے تختی پر چاک پھیر دی ہو، مگر یہ تختی انسانی جسموں کی ہے اور چاک بارود کی۔ تحقیق بتاتی ہے کہ جب طاقت مثالیں دینے لگے تو انسان محض اعداد بن جاتے ہیں۔ایک، دو، تین اور پھر فائل بند ہو جاتی ہے۔
پھر وہ مشرق کی جانب نگاہ کرتا ہے، جہاں قدیم شہر اپنی اینٹوں میں صدیوں کی سانسیں چھپائے کھڑے ہیں۔ یہاں دھمکیاں نفیس پیرائے میں دی جاتی ہیں، الفاظ ریشمی ہوتے ہیں، مگر گرہیں فولادی۔ پابندیاں ایسے لگتی ہیں جیسے دسترخوان سے نمک چھین لیا جائے۔کھانا تو ہے، مگر ذائقہ مر گیا۔ بیڑے سرکتے ہیں، مشقیں ہوتی ہیں، نقشوں پر تیر چلتے ہیں۔ کہا جاتا ہے جنگ نہیں چاہتے، بس تیار ہیں اور تیاری کے شور میں امن دبک کر چھپ جاتا ہے، جیسے بچے شور سے ڈر کر پلنگ کے نیچے گھس جائیں۔
اس کی زبان میں اخلاق بھی ہے، مگر کرائے کا، ضرورت پڑے تو پہن لیا، نہ پڑے تو اتار دیا۔ وہ حقوقِ انسانی کا حوالہ ایسے دیتا ہے جیسے دکاندار ترازو پر ہاتھ رکھ کر وزن جھکا دے۔ میڈیا اس کے لیے میدانِ جنگ ہے، خبر کو وہ نعرے سے ہراتا ہے، سوال کو ہنسی سے اور تحقیق کو شور سے۔ جو اس کی بات دہرائے وہ محبِ وطن، جو سوال اٹھائے وہ مشکوک۔ یوں سچ کا درجہ گرتا جاتا ہے اور تاثر کی قیمت بڑھتی جاتی ہے۔
پھر اس کی نظر جنوب کی طرف ٹھہرتی ہے، جہاں کروڑوں سانسیں ایک لے میں اٹھتی بیٹھتی ہیں، جہاں معیشت کی نبض تیز ہے اور سفارت کی زبان نرم۔ یہاں وہ لاٹھی نہیں گھماتا، انگلیاں دکھاتا ہے۔کبھی تجارت کے کاغذ میں لپیٹ کر، کبھی سلامتی کے بیان میں، کبھی اخلاقی وعظ کے ساتھ۔ سمندری راستے شطرنج کے خانے بن جاتے ہیں، بندرگاہیں بساط، اور جہاز مہرے۔ عام آدمی کو احساس ہوتا ہے کہ اس کے چولہے کی آنچ کسی دور بیٹھے شخص کی آواز کے اتار چڑھاؤ سے جڑی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب عالمی سیاست باورچی خانے میں داخل ہو جاتی ہے۔
اس خود ساختہ سرپنچ کی سب سے نمایاں صفت یہ ہے کہ وہ خود کو ناگزیر سمجھتا ہے۔ اسے یقین ہے کہ اگر وہ نہ ہو تو دنیا کا نظام بکھر جائے گا، بازار بند ہو جائیں گے اور امن مر جائے گا۔ یہی یقین اس کی داداگری کا ایندھن ہے۔ وہ ہر بحران کو اپنی ضرورت کے مطابق بیان کرتا ہے، ہر تنازع کو اپنی عظمت کا ثبوت بناتا ہے اور ہر اختلاف کو اپنی طاقت کا پیمانہ۔ اس کے نزدیک تاریخ محض ایک پریس ریلیز ہے۔آج کچھ اور، کل کچھ اور۔اور اخلاق ایک فٹ نوٹ۔
دنیا اس کھیل میں شریک بھی ہے اور تماشائی بھی۔ کہیں تالیاں بجتی ہیں، کہیں سیٹیاں، کہیں خاموشی۔ خاموشی سب سے خطرناک ہوتی ہے، یہ طاقت کو غلط فہمی دے دیتی ہے کہ سب ٹھیک ہے اور غلط فہمی جب طاقت کے ہاتھ لگے تو فیصلے برق رفتار ہو جاتے ہیں۔ تحقیق کہتی ہے کہ طاقت کی رفتار بڑھ جائے تو انسانیت پیچھے رہ جاتی ہے۔ یہاں بھی یہی ہوا۔بیانات آگے، سوال پیچھے؛ فیصلے آگے، زندگی پیچھے۔ رات کے آخری پہر میں، جب اس کے الفاظ کی بازگشت تھک کر دیواروں سے اترتی ہے، تو کہیں کسی بند کمرے میں ایک فائل کھلتی ہے، کہیں کسی ماں کی آنکھیں نہیں لگتیں، کہیں کسی تاجر کے کیلنڈر سے تاریخیں کٹ جاتی ہیں، کہیں کسی طالب علم کے خواب میں بارڈر آ جاتا ہے۔ دنیا صرف ایوانوں میں نہیں رہتی، دنیا گھروں میں سانس لیتی ہے اور جب ایوانوں کی داداگری گھروں کی خاموشی سے ٹکراتی ہے تو ایک عجیب سی کھنک پیدا ہوتی ہے۔نہ نعرہ، نہ فریاد، بس سوال۔
یہ سوال کسی ایک ملک کا نہیں۔ یہ سوال اس ذہنیت کا ہے جو طاقت کو حق اور دھمکی کو دلیل گردانتی ہے۔ یہ سوال اس دور کا ہے جہاں عالمی سیاست ایک ڈراما بن چکی ہے اور اس ڈرامے میں سب سے خطرناک کردار وہ نہیں جو تخت پر بیٹھا ہو، بلکہ وہ ہے جو خود کو تخت سمجھنے لگے۔ تاریخ ایسے کرداروں کو دیر تک برداشت نہیں کرتی، وہ پہلے انہیں شور دیتی ہے، پھر حاشیہ، پھر سبق۔
اور آخر میں، جب شور تھم جاتا ہے، تو پیچھے حساب رہ جاتا ہے۔ وینزویلا کی خودمختاری کے کاغذ پر کتنے دستخط مٹے؟ مشرق کی دھمکیوں نے کس کو محفوظ کیا اور کس کو تنہا؟ جنوبی سمندروں کی شطرنج میں کس کا پیادہ کٹا؟ غزہ کی تباہی میں کس کا ہاتھ تھا؟ یہ حساب کتاب کسی عدالت میں نہیں، وقت کی میز پر ہوتا ہے۔ وقت بڑا منصف ہے۔رشوت نہیں لیتا، بیان نہیں مانتا، بس یاد رکھتا ہے۔
شاید کسی دن، کسی بے نام صفحے پر، ایک سادہ سا جملہ لکھا جائے گا۔بغیر نعرے، بغیر قوسین کہ ایک زمانہ تھا جب ایک آدمی خود کو دنیا کا سرپنچ سمجھ رہا تھا، داداگری کو حکمت کہتا تھا، اور دنیا کچھ دیر اس کی سنتی رہی۔ پھر دنیا نے اپنی سانس واپس مانگی۔ اور سانس جب واپس آتی ہے تو طاقت کو یاد دلاتی ہے کہ کرسی آخرکار لکڑی کی ہوتی ہے، آواز گونج کر تھک جاتی ہے اور تاریخ ہمیشہ آخری جملہ خود لکھتی ہے۔