فکر و ادراک
ڈاکٹر شگفتہ خالدی
وادیٔ کشمیر، جسے دنیا پیر واری یعنی جنتِ ارضی کے نام سے جانتی ہے، ہمیشہ سے اپنی خوبصورتی، امن، محبت اور بھائی چارے کے لیے مشہور رہی ہے۔ یہاں کے لوگ سادگی، مہمان نوازی اور اخلاقی اقدار کے لیے پہچانے جاتے تھے۔ ایک وقت تھا جب کشمیر کی فضاؤں میں سکون، اعتماد اور تحفظ کا احساس موجود تھا، لیکن بدقسمتی سے آج یہی وادی مختلف جرائم کی لپیٹ میں آتی جا رہی ہے۔ خاص طور پر عورتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم اور قتل کی وارداتیں نہ صرف تشویش ناک ہیں بلکہ سماج کے لیے ایک خطرناک انتباہ بھی ہیں۔گزشتہ چند برسوں میں وادیٔ کشمیر میں منشیات (منشیات) کے بڑھتے ہوئے استعمال نے نوجوان نسل کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ منشیات کی لت نے نہ صرف اخلاقی اقدار کو کمزور کیا ہے بلکہ جرائم میں بھی اضافہ کیا ہے۔ چوری، تشدد، گھریلو جھگڑے اور قتل جیسی وارداتیں اب معمول بنتی جا رہی ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ وہ وادی جہاں عورت کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا، آج وہی عورت عدم تحفظ کا شکار نظر آتی ہے۔اب قتل کی وارداتیں روز کا معمول بنتی جا رہی ہیں۔ چند دن قبل نووشہرہ، سرینگر میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک عورت کو اس کے غیر کشمیری نوکر نے بے دردی سے قتل کر دیا۔ اس دل دہلا دینے والے واقعے نے پورے سماج کو ہلا کر رکھ دیا۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے قبل بھی وادی کے مختلف علاقوں میں اس نوعیت کے قتل کے واقعات پیش آ چکے ہیں، مگر افسوس کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ سلسلہ تھمنے کے بجائے بڑھتا جا رہا ہے۔
یہ واقعات کئی سوالات کو جنم دیتے ہیں۔ کیا ہماری سماجی اقدار کمزور ہو رہی ہیں؟ کیا قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کر پا رہے ہیں؟ کیا ہم بحیثیت سماج اپنی عورتوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں؟ ان سوالات کا جواب تلاش کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔عورت کسی بھی سماج کی بنیاد ہوتی ہے۔ اگر عورت خود کو غیر محفوظ محسوس کرے تو اس کا مطلب ہے کہ پورا سماج عدم توازن کا شکار ہے۔ کشمیر جیسے حساس خطے میں، جہاں پہلے ہی حالات نازک رہتے ہیں، وہاں عورتوں کے خلاف جرائم کا بڑھنا نہایت تشویشناک ہے۔ ایسے واقعات نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ کشمیر کی پرامن شناخت کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے سخت اور فوری اقدامات کریں۔ مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ معاشرے میں ایک واضح پیغام جائے کہ جرم، خاص طور پر عورتوں کے خلاف جرم، ناقابلِ برداشت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ منشیات کے خلاف مؤثر مہم چلانے کی بھی اشد ضرورت ہے، کیونکہ زیادہ تر جرائم کی جڑ یہی لعنت بنتی جا رہی ہے۔
عوام کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھنی ہوگی۔ محلے، خاندان اور سماجی اداروں کو چوکنا رہنا ہوگا۔ خواتین کو بااختیار بنانا، انہیں قانونی حقوق سے آگاہ کرنا اور ان کی آواز کو مضبوط کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ میڈیا کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ ایسے حساس معاملات کو سنجیدگی سے اجاگر کرے اور صرف سنسنی پھیلانے کے بجائے اصلاح کی طرف توجہ دلائے۔آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وادیٔ کشمیر آج ایک نازک دور سے گزر رہی ہے۔ اگر ہم نے بروقت سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو یہ جرائم ہمارے سماج کی جڑوں کو کھوکھلا کر دیں گے۔ ہمیں مل کر اس جنتِ ارضی کو دوبارہ امن تحفظ اور انسانیت کی علامت بنانا ہوگا، تاکہ ہماری آنے والی نسلیں ایک محفوظ اور باوقار ماحول میں زندگی گزار سکیں۔