کشتواڑ+بانہال+ڈوڈہ+گول//خطہ چناب میں مسلسل دوسرے روز بھی بالائی علاقوں میں برف باری جبکہ میدانی علاقوں میںبارشوںکا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجہ میں متعدد سڑکیںمسلسل بند پڑی ہیں جبکہ بیشتر رابطہ سڑکیںزیرآب آچکی ہیں اور بجلی اور پانی کی سپلائی کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔اس دوران سردی کی شدت میںمزید اضافہ بھی درج کیاگیا ہے۔
کشتواڑ
سنیچر کی صبح شروع ہوئی موسلادھار بارشوں اور برفباری کا سلسلہ دوسرے روز بھی ضلع میں جاری رہاجس کے سبب عوام کو سخت مشکلات سے دوچار ہونا پڑا۔ تفصیلات کے مطابق دوسرے روز بھی پہاڑی علاقوں میں برفباری جبکہ میدانی علاقوں میں موسلادھار بارشوں کا سلسلہ بدستور جاری رہاتاہم دوپہر تین بجے کے بعد موسم میں قدرے بہتری آئی۔ضلع کے بالائی علاقوں واڑون ، مڑواہ دچھن ، کیشوان ، بونجواہ ، سرتھل ،پاڈر میں برفباری ہوئی جبکہ میدانی علاقوں میں بارشوں نے تباہی مچادی۔واڑون کے سکھنائی ، گمری،بسمینہ ،مرگی علاقہ جات میں دوفٹ سے زائد برفباری درج کی گئی جبکہ مڑواہ میں نوانچ برفباری ہوئی۔ دیگر علاقہ جات میں بھی دو انچ سے زاید برفباری درج کی گئی جسکے سبب ان علاقہ جات میں کافی نقصان پہنچاہے۔میدانی علاقوں میں بارشوں کے سبب متعدد مقامات پرسڑکیں و گلی کوچے زیر آب آئے جسکے سبب عوام کو سخت مشکلات سے دوچار ہونا پڑا ۔کئی مقامات پر پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہوا۔ قصبہ کے گلی کوچے ہرطرف پانی سے بھرے رہے جبکہ لوگوں نے گھروں میں رہنے کو ہی ترجیح دی۔ درجہ حرارت میں نمایا کمی کے سبب سردی کی شدت میں کافی اضافہ ہوا ہے۔دورافتادہ علاقہ جات کی عوام نے بتایا کہ غیراعلانیہ بجلی کٹوتی کے سبب عوام کو سخت مشکلات سے دوچار ہونا پڑرہا ہے جہاں ان علاقہ جات میں معمولی بارشوں کے سبب دن میں محض چند گھنٹوں تک ہی بجلی فراہم کی جارہی ہے وہیں دچھن میں بھی سنچر شام کو ہی بجلی گل ہوگئی ہے جسے ٹھیک کرنے کا کام جاری ہے ۔مقامی لوگوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ان علاقوںمیں عوام کی شکایتوں کا ازالہ فوری طور کیا جانا چاہے تاکہ آنیوالے دنوں میں انھیں مزید کوئی مشکلات نہ ہوں۔ادھر مسلسل دوسرے روز بھی کشتواڑ سنتھن قومی شاہرہ آمدورفت کیلئے بندرہی ۔دن بھر سنتھن میں برفباری ہوتی رہی جبکہ اسوقت بھی سنتھن ٹاپ پر کل چار فٹ سے زائد برف جمع ہے وہیں مرگن ٹاپ بھی آمدورفت کیلئے بند ہے جہاں پر پانچ فٹ کے قریب برف جمع ہوئی ہے۔ مڑواہ و واڑون کی عوام نے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ سے اس سڑک پر فوری طوربرف ہٹانے کی مانگ کی ہے تاکہ درماندہ افراد گھروں کو واپس پہنچ سکیں۔ڈنگڈور کشتواڑ سڑک پر اکھالہ و ڈنگڈورو کے قریب بھاری پسی گرآنے کے سبب بند ہے جسے ہٹانے کیلئے کام جاری ہے اور آج اسے آمدورفت کیلئے بحال کردیاجائیگا۔
بانہال
ضلع رام بن اور بانہال کے علاقوں میں موسلادھار بارشوں کا سلسلہ اتوار کی علی الصبح تک جاری رہا تاہم مطلع مسلسل آبروآلود تھا اور بارشوں کی ہلکی ہلکی پھواریں بھی وقفے وقفے سے ہوتی رہیں۔ سنیچر اور اتوار کی رات بانہال کے پیر پنجال پہاڑی سلسلے، کھڑی ، پوگل پرستان ، بٹوٹ کی پہاڑیوں اور صحت افزاء مقام پتنی ٹاپ اور سناسر میں بھی اس موسم کی پہلی برفباری ہوئی ہے۔ پہاڑوں پر مسلسل برفباری اور میدانی علاقوں میں بارشوں کی وجہ سے عام زندگی متاثر ہے اور بازاروں میں لوگوں کا رش کم رہا۔ برفباری اور بارشوں کی وجہ سے سردی میں شدت آئی ہے اور ضلع رام بن کے علاقوں میں فرجہ حرارت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اتوار کی شام تک مطلع ابر آلود تھا اور دور علاقوں میں وقفے وقفے سے ہلکی بارشیں اور برفباری ہوتی رہی۔
ڈوڈہ
وادی چناب کے دیگر حصوں کی طرح ڈوڈہ ضلع میں کے میدانی علاقوں میں مسلسل دوسرے روز شدید بارشوں و پہاڑی علاقوں برفباری کا سلسلہ جاری رہا جس کے نتیجے میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔متواتر بارشوں و برفباری سے درجہ حرارت میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے اور خطہ میں سردی کی شدت و عوامی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس دوران ڈوڈہ بٹوت قومی شاہراہ سمیت بھدرواہ، ٹھاٹھری و گندوہ کی رابطہ سڑکوں پر اگر چہ وقفے وقفے سے ہلکے پتھر گرنے کا عمل بھی جاری تاہم آخری اطلاعات ملنے تک ٹریفک معمول کے مطابق بحال رہا۔ مسلسل بارشوں سے 133 کے وی و 11 کے وی کے ترسیلی نظام میں خرابی آنے کے باعث بھلیسہ ،کاہرہ ،بونجواہ و ٹھاٹھری سمیت درجنوں دیہات میں بجلی پندرہ گھنٹے بعد بحال کی گئی تاہم غیر اعلانیہ کٹوتی کا سلسلہ جاری ہے۔ ادھر ضلع کے متعدد علاقوں میں پانی کے پینے کی کمی پائی جاتی ہے جبکہ ندی نالوں میں پانی کی سطح میں اضافہ ہوا ہے اور رابطہ سڑکیں بھی زیر آب آ گئی ہیں۔متواتر بارشوں سے دھڑا ڈوڈہ میں غلام نبی ٹاک ولد محمدو ٹاک کے رہائشی مکان کو نقصان پہنچا ہے۔ اس دوران گذشتہ روز ہوئی شدید ژالہ باری وتیز آندھی سے پھلدار درختوں و سبزیوں کو بھی بھاری نقصان پہنچا ہے۔ ضلع انتظامیہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ بارشوں و برفباری سے ضلع میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے جبکہ پانی و بجلی و دیگر سہولیات کی بحالی کے لئے متعلقہ محکموں کو متحرک کیا گیا ہے۔ادھر متعدد سیاسی شخصیات، ڈی ڈی سی کونسلروں و بی ڈی سی چیئرپرسنوں نے ضلع و مقامی انتظامیہ سے متاثرہ علاقوں میں خصوصی ٹیمیں روانہ کرکے زرعی اراضی، فصلوں، گھاس و پھلوں کو پہنچے نقصان کا تخمینہ لگا کر متاثرین کو معقول معاوضہ ادا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
گول
گول میں دوسرے روز بھی گول و ملحقہ جات میں وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ جاری رہا جس کے چلتے سردی میں قبل از وقت کافی اضافہ ہوا ہے اور لوگوں نے سردی سے بچنے کے لے گرم ملبوسات ، بالن وغیرہ کا انتظام شروع کر دیا ہے ۔ وہیں ساتھ ساتھ لوگوں نے سرکار سے مطالبہ کیا ہے کہ برف باری سے قبل گول وملحقہ جات میں سرکاری راشن ڈیپووں پر راشن کو ذخیرہ کر دیا جائے جس طرح سے قبل از وقت موسم نے کروٹ بدلی اور برف باری کا بھی بالائی علاقوں میں سلسلہ شروع ہو گیا ۔ مقامی لوگوں نے مز ید کہا کہ بجلی کے نظام کو بھی درست کیا جائے تا کہ سردیوں میں لوگوں کو بجلی کی صورتحال سے دوچار نہ ہونا پڑے۔ آج صبح سے ہی وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ جاری رہا اور لوگ گھروں میں ہی محصور رہے ۔ وہیں چھپرنالہ سنگلدان کے قریب سڑک کی حالت خستہ ہونے کی وجہ سے گاڑیوں کو آنے جانے میں کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا جس وجہ سے آج بڑی بسیںجموں نہیں جا پائیں ۔ گول سب ڈویژن کی عوام کی کافی عرصہ سے چھپرن نالہ پر پل تعمیر کرنے کی مانگ رہی ہے لیکن ابھی تک نہ ہی سیاسی سطح پر کسی لیڈر نے اس کی طرف کوئی توجہ دی اور نہ ہی انتظامیہ و محکمہ نے کوئی دلچسپی لی جس وجہ سے تھوڑی سی بارش ہونے پر لوگوں کو یہاں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔