اس بات میں کوئی دورائے نہیں بلکہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ غربت و ثروت،امیری و فقیری ،صحت وبیماری اور خوش حالی و تنگ دستی کا تعلق تقسیم ِخداوندی سے ہے،اس لئے اللہ تعالیٰ کےبندوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے خالق و مالک کی اِس تقسیم پر راضی اور تقدیر پر خوش رہیں۔ بے شک دولت مند کا فریضہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی دولت میں سخاوت و فیاضی سے کام لے اور محتاجوں کی حاجت روائی کرے، جبکہ مفلس وغریب کوچاہیے کہ وہ قناعت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے اور لوگوں کے سامنے دست ِسوال دراز نہ کرے۔ہم سب اس بات سے بھی وقف ہیں کہ اِن دنوں مہنگائی کے باعث ہر شخص معاشی بحران کا شکار اور مختلف پریشانیوں سے دوچارہے، ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ نرمی کا معاملہ کریں، ہمدردی سے پیش آئیں، ایک دوسرے کے دُکھ درد کا احساس کریں۔ جو مکان دار ہے، وہ اپنے کرایے میں کمی کرے، جو قرض وصول کرنے والا ہے، وہ اپنے مقروض کو قرض لوٹانے کا مزید موقع دے،جو مالک و عہدیدار ہے، وہ اپنے ملازم کا حسب ِوسعت خیال رکھے۔ اگر ہم دنیا کی مختصر زندگی میں اس حوالے سے خلقِ خدا کے کام آئیں گے تو کل آخرت کی زندگی میں خالق ِکائنات ہمارے کام آئیں گے ۔بلا شبہ آج بھی کتنے اہل ثروت ایسےہیں جو خدمت ِخلق کے مختلف کاموں میں حصہ لیتے ہیں، مگر اُن کے قریبی رشتے دار فاقہ و افلاس کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔کتنے تاجر ایسے ہیں جو دست ِسوال دراز کرنے والوں کے ساتھ تو داد و دہش کا معاملہ کرتے ہیں، مگر دکان پر آنے والے ایک غیرت مند غریب کے جذبات و احساسات سے ناواقف ہیں۔ کتنے خوش حال ایسے ہیں جوخود تو تین وقت انواع و اقسام کی غذاؤں سے لذتِ کام و دہن کا سامان کررہے ہیں ،مگر ان کے گھر سے متصل اُن کا عیال دار پڑوسی نان شبینہ کا محتاج ہے۔ جہاں عمومی اعتبار سے خدمت خلق اور انفاق فی سبیل اللہ کے کاموں میں سرگرمی دکھانا ضروری ہے ،اتنی یا اس سےبدرجہا زیادہ اپنے گرد و پیش میں موجود ،اپنی ذات سے وابستہ اور اپنے دکان و مکان میں برسرکارضرورت مندوں کی خبر گیری بھی ضروری ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہر شخص خواہ دکان دار ہو یا خریدار، اپنا معاملہ نرمی اور سنجیدگی کے ساتھ انجام دے، سختی، ترش روئی اوربد زبانی سے پیش نہ آئے، اسی طرح اپنا حق اور قرضہ وصول کرنے والا سختی نہ کرے، درشت لہجہ استعمال نہ کرے، نرمی اور سنجیدگی سے کہے، اس طرح معاملہ کرنے پر اللہ تعالیٰ کی رحمت اُترتی ہے۔آج کے اس خزاں رسیدہ ہمارے معاشرے میں یہی دکھائی دے رہا ہے کہ اخلاق وکردار ،حسن معاملات اور نرمی و محبت کے آثار مٹتے جارہے ہیں، جس کی بنیادی وجہ ہماری نبی کریمؐ کے اخلاق حسنہ سے دوری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دوسرے قوموں میں رُسوا اور ذلیل ہو رہے ہیں اور بگاڑ کا گھن ہمیں دیمک کی طرح کھاتاجارہا ہے۔ ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہم لوگوں کے ساتھ وہی معاملہ کرتے ہیں جو وہ ہمارے ساتھ کرتے ہیںجبکہ ہمارا دین کہتا ہے کہ تم دوسروں کی دیکھا دیکھی میں کام نہ کرو بلکہ اگر کوئی تمہارے ساتھ بُرائی کرے تو تم اُس کے ساتھ بھی بھلائی کرو،اور اگر کوئی تم پر ظلم کرے، توتم اُس پر ظلم نہ کرو بلکہ اپنے آپ کو اس بات پر قائم رکھو جس کی دین ِ اسلام نے تمہیں تعلیم دی ہے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم میں سے ہر شخص اپنی اپنی استطاعت کے مطابق بندگان ِخدا کے ساتھ فراخی و سہولت کا معاملہ کرے،تاجر اپنی تجارت میں، قرض خواہ قرض طلبی میں اوردیگر حقوق کا تقاضا کرنے والے اپنے تقاضے میں نرمی سے کام لیں۔اسلام کی سُنہری تعلیمات ہمیں اس امر کا پابند کرتی ہیں کہ ہم مشکل اور آزمائش کی گھڑی میں اپنے اِن بھائیوں کی ہر طرح مدد کریں، خدمتِ خلق، فلاحِ انسانیت، ایثار و ہمدردی کے اُن جذبات کا مظاہرہ کریں جو ہمارے دین کا شِعار اور ہماری دینی، مِلّی اور تہذیبی اقدار کے آئینہ دار ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خدمتِ خلق اور ایثار و ہمدردی کے اُس جذبے کو عام کیا جائے جو ہمارے دین ِ متین کا امتیاز اور ہمارے مِلّی مزاج کی رُوح ہے۔