سہیل انجم
ہندوستان کے سابق نائب صدرمحمد حامد انصاری کی شخصیت کی کئی شناختیں ہیں۔ وہ سابق بیوروکریٹ ہیں، سابق نائب صدرہیں، علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلرہیں ، قومی اقلیتی کمیشن کے سابق چیئرمین ہیں، مجاہدین آزادی کے ایک معروف خاندان کے چشم و چراغ ہیںاور سیکولر شخصیت کے مالک ایک سچے مسلمان ہیں۔ اتنے امتیازات کے باوجود وہ ملک کی موجودہ حکمران جماعت اور اس کی نظریاتی سرپرست جماعت کی آنکھوں میںکھٹکتے رہے ہیںاور ایک غیر پسندیدہ شخصیت کا سبب بنے ہوئے ہیں۔ غیر جانبدار حلقوں کے مطابق دراصل انصاری کے اوصاف موجودہ حکمران پارٹی اور آر ایس ایس کے گلے نہیں اترتے۔جس کے باعث وہ موقعہ بموقعہ اُن کے نشانے پر رہتے ہیںاور مختلف بہانوں کی آڑ میں اُن کی مخاصمانہ سوچ کا نشانہ بن رہے ہیں۔
محمد حامد انصاری کو یو پی اے کے دور حکومت میں دو بار نائب صدر بنایا گیا۔ نائب صدر کی حیثیت سے وہ دس سال تک راجیہ سبھا کے چیئرمین رہے۔ انہوں نے بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ ایوان بالا کی کارروائی چلائی اور بی جے پی کو جو کہ اُس وقت اپوزیشن میں تھی اور بعد میں حکمراں جماعت بن گئی، راجیہ سبھا کے چیئرمین کی حیثیت سے کوئی غیر اصولی یا غیر پارلیمانی کام کرنے کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے رول بک کے خلاف کسی بھی اقدام کی اجازت نہیں دی۔ اس کے علاوہ انہوں نے سیکولرزم کا بھرپور دفاع کیا اور فسطائیت کی کھل کر مخالفت کی۔ ان کی یہ ادائیں شائدبی جے پی کو راس نہیں آئیں اور وہ اُن کے سبکدوش ہونے کے بعد اُن کی کردار کشی پر اُتر آئی۔ بلکہ اُن کے نائب صدر رہتے ہوئے بھی اُن پر الزامات عاید کیے جاتے رہے۔ اگست2017 میں جب وہ نائب صدر کے منصب سے سبکدوش ہو رہے تھے تو راجیہ سبھا میں اُن کی الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے اُن کے کردار پر بھی سوالیہ نشان لگایا تھا اور جہاں اُن کے خاندان کی تاریخی حیثیت بیان کی تھی اور بحیثیت ایک کریئر ڈپلومیٹ اُن کی خدمات کو یاد کیا تھا، وہیں ایسی باتیں کہی تھیں، جن سے یہ تاثر ملتا تھا کہ حامد انصاری کی سوچ محض ایک ہی دائرے میں گھومتی رہی اور وہ دائرہ ملت یا مسلمانوں کا رہا ہے۔
وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ’’ انصاری کی مدت کارکردگی کا بہت بڑا حصہ مغربی ایشیا سے جڑا رہااور اسی دائرے میں آپ کی زندگی کے بہت سے سال گزرے۔ اسی ماحول میں، اسی سوچ میں اور ایسے ہی لوگوں کے درمیان آپ رہے۔جبکہ سبکدوش ہونے کے بعد بھی حامد انصاری کا زیادہ تر کام وہی رہا۔ اقلیتی کمیشن ہو یا مسلم یونیورسٹی ۔ گزشتہ دس سال آپ نے ایک الگ قسم کی ذمہ داری نبھائی، ایک ایک لمحہ آئین کے بارے میں گزرا۔ اس لیے ممکن ہے کہ آپ کے اندر کچھ چھٹپٹاہٹ رہی ہو۔ مگر آج کے بعد شاید وہ بات نہیں رہے گی، آپ کو آزادی کی لذت بھی ملے گی اور جو آپ کی بنیادی سوچ رہی ہے، اسی کے مطابق کام کرنے کا آپ کو موقع ملے گا‘‘۔گویاوزیر اعظم نے اشاروں اشاروں میں انھیں ایک ایسا ڈپلومیٹ یا ایسا شخص ثابت کرنے کی کوشش کی، جس نے ایک خاص ماحول میں زندی گزاری، جس کی وجہ سے اس کی سوچ کا دائرہ محدود ہو گیا یعنی وہ صرف مسلمانوں کے بارے میں ہی سوچنے لگا۔ اُس وقت پارلیمنٹ میں تو اس پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کی گیا لیکن بعد میں مودی جی کی اس تقریر پر کافی لے دے ہوئی تھی۔ دراصل حامد انصاری کا ایک مسلمان ہونا، کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت کی جانب سے نائب صدر بنایا جانا اور فسطائیت کی مخالفت اور سیکورلزم اور اس کے اصولوں پر ڈٹے رہنا اور بغیر کسی جھجک کے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف آواز اٹھانا شائد نہ مودی جی کو پسند آیا اور نہ ہی بی جے پی اور آر ایس ایس کو راس آیا،اس لئے آج تک اُن کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
چنانچہ اُس الواداعی تقریب سے ایک روز قبل ہی بحیثیت نائب صدرحامد انصاری نے ایک انٹرویو دیا تھا، جس میں انھوں نے ملک کے اس وقت کے ماحول پر گفتگو کی تھی اور مسلمانوں کے اندر عدم تحفظ کے احساس پر اظہار تشویش کیا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اس وقت ملک پر ایک طرح کی جو قوم پرستی تھوپی جا رہی ہے وہ غیر ضروری ہے۔ انہوں نے تکثیریت کی اقدار پر زور دیا تھا جو کہ روایتی طور پر ہندوستانی قوم پرستی کی بنیاد ہے۔ تاہم انہوں نے حکومت یا وزیر اعظم پر نکتہ چینی کرنے سے گریز کیا تھا۔ اس کے باوجود انہوں نے اشاروں اشاروں میں جو باتیں کہی تھیں ،جس کی زد اس وقت کی حکومت پر پڑ رہی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں ان پر نکتہ چینی کی اور طنز و تشنیع کے تیر بھی چلائے۔
ابھی چند روز قبل ایک بار پھر حامد انصاری کو نشانہ بنایا گیا۔ پاکستان کے ایک صحافی نصرت مرزا کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے ،جس میں انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے یو پی اے کے دور حکومت میں 2005 سے 2011 کے درمیان کئی بار ہندوستان کا دورہ کیا اورو ہاں کے حساس راز پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو پاس کیے۔ اس دعوے کی بنیاد پر حکمران پارٹی نے حامد انصاری پر حملہ بول دیا اور یہ الزام لگا دیا کہ انہوں نے ہی نصرت مرزا کو ہندوستان آنے کی دعوت دی تھی۔ جبکہ حامد انصاری نے ایک بیان جاری کرکے اس دعوے کی تردید کی اور کہا کہ وہ نصرت مرزا کو نہیں جانتے، اور یہ کہ غیر ملکی شخصیات کو وزارت خارجہ کی جانب سے مدعو کیا جاتا ہے۔ اس میں اُن کا کوئی رول نہیں ہے۔ لیکن حکمران جماعت کے پارٹی ترجمان گورو بھاٹیہ نے یہاں تک الزام لگا دیا کہ حامد انصاری نے نصرت مرزا کو مدعو کرکے ملک کے حساس راز سے ان کو واقف کرایا۔ کانگریس نے اسے ایک بدنام کرنے والی کہانی قرار دیا ہے اور اس الزام کی مذمت کی ہے۔
متعدد سابق سفارت کاروں نے حامد انصاری کے بے داغ کردار کی تائید کی اور کہا کہ وہ کئی دہائیوں تک ایک کامیاب سفارت کار رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی قابل قدر خدمات سے ملک کو فائدہ پہنچایا ہے۔ ان کے اوپر جو الزام لگایا جا رہا ہے وہ ان کی ایمانداری اور حب الوطنی پر شک کرنے والا ہے۔ سابق سفارت کاروں نے ان کے خلاف اس الزام تراشی کی سختی سے مذمت کی ہے۔ جبکہ پاکستان کے کئی صحافیوں نے بھی نصرت مرزا کے بیان کی مذمت کی اور اسے بے بنیاد قرار دیا۔ ایک صحافی کا یہاں تک کہنا ہے کہ نصرت مرزا نے پندرہ منٹ کی شہرت کے لیے بے بنیاد باتیں کی ہیں۔ جبکہ ایک سابق فوجی عہدے دار کا کہنا ہے کہ نہ تو پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی اتنی نااہل ہے کہ اسے ایک صحافی کی مدد لینی پڑے اور نہ ہی ہندوستان کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ اتنی نافہم ہے کہ وہ نصرت مرزا کو یہاں کے راز بے روک ٹوک حاصل کرنے کی اجازت دیتی۔
یہ کتنی افسوس ناک بات ہے کہ بی جے پی نے پاکستان کے ایک صحافی کے الزام کو سچ مان لیا اور اپنے ملک کے ایک سابق سفارت کار اور نائب صدر کی باتوں کو غلط مانا۔ حالانکہ یہ وہی نصرت مرزا ہیں جو ہندوستان اور یہاں کی حکومت کی ہمیشہ نکتہ چینی کرتے رہے ہیں۔ خاص طور پر کشمیر کے معاملے میں وہ پاکستان کا راگ الاپتے اور ہندوستانی موقف کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ اگر کانگریس کا کوئی لیڈر کسی دوسرے ملک کے کسی شخص کے انکشاف پر یہاں کی حکومت سے سوال کرتا ہے تو کہہ دیا جاتا ہے کہ اسے اپنی حکومت اور اپنی فوج پر بھروسہ نہیں ہے۔ لیکن جب وہ خود پاکستانی صحافی کی ایک بے بنیاد بات پر یقین کر رہی ہے تو وہ محب وطن ہو گئی۔
غیر جاندار حلقوں کا کہنا ہے کہ دراصل موجودہ حکومت اور حکمران جماعت کی جانب سے شروع سے ہی کانگریس اور سرکردہ مسلمانوں کے خلاف مخاصمانہ کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ ان لوگوں کو معلوم ہے کہ ان کی غلط پالیسیوں کی گرفت اگر کوئی پارٹی کر سکتی ہے تو وہ کانگریس ہی ہے۔ اس لیے کانگریس پر بے جا الزامات لگا کر اس کو اس قدر بدنام کر دیا جائے کہ اس پر سے عوام کا بھروسہ ہی اُٹھ جائے۔ لہٰذا ایک بار پھر جبکہ مختلف مسائل پر حکومت سوالوں کے گھیرے میں ہے تو ایک بار پھر محمد حامد انصاری کو ایک آسان ٹارگیٹ مان کر ان پر حملہ کر دیاگیا اور اس کی آڑمیں کانگریس کو بدنام کرنے کی مہم پھر شروع کر دی گئی۔