معراج وانی
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ایک سماج کی بنیاد ایک گھر سے ہوتی ہے۔ جیسا ماحول گھر کا ہوگا افرادِ خانہ ویسی ہی تربیت یافتہ ہوں گے، جس کا پورا پورا اثر سماج کے بننے اور بہتر ہونے پر پڑتا ہے۔ جن گھروں میں بچوں کے متعلق سنجیدہ تبصرے ہوں، ان کی بات چیت، تعلیم و تربیت اور اُن کے وقت کی قدر کی جاتی ہو، وہاں قوم اور ملت کا مستقبل روشن ہو کر پورے سماج کو اپنی روشنی سے فیض یاب کرنے کی ضمانت بن جاتا ہے اور جہاں گھریلو ماحول اس کے برعکس ہو ،وہاں سے روشن مستقبل کی امید مدھم اور منفی نظر آتی ہے۔
آج امتِ مسلمہ کے تمام والدین کو اس بات کی طرف خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ ان کے بچوں کا وقت کہاں صرف ہو رہا ہے اور ان کی سمت کیا ہے، کیونکہ گزرا ہوا وقت کبھی واپس نہیں آتا۔ بچے کی زندگی کے ابتدائی دس بارہ سال اس کی شخصیت کی تشکیل اور سمت کے تعین میں نہایت اہم ہوتے ہیں۔ اگر یہی زمانہ درست رہنمائی اور صحیح تربیت کے ساتھ گزر جائے تو وہ بچہ مستقبل میں دین و دنیا دونوں میدانوں میں کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ہر بچہ فطری طور پر باصلاحیت ہوتا ہے، بشرطیکہ اسے صحیح سانچے میں ڈھالا جائے اور اسے ایسے مواقع فراہم کیے جائیں، جن سے وہ پوری زندگی فائدہ اٹھا سکے۔ اسی تناظر میں ہر والدین کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو حافظِ قرآن بنانے میں اپنا کردار ادا کریں، کیونکہ چند برسوں کی محنت ایک بچے کو وہ عظیم سرمایہ عطا کر سکتی ہے جس سے اسے دونوں جہانوں کی کامیابی نصیب ہو سکتی ہے۔قرآنِ مجید کی حفاظت اور اس کی خدمت اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت اور عظیم سعادت ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے:’’بلکہ یہ روشن آیات ہیں جو اہلِ علم کے سینوں میں محفوظ ہیں۔‘‘
— (سورۃ العنکبوت۔ 49)۔یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ قرآن کی اصل حفاظت ان سینوں میں ہوتی ہے جو اسے یاد کرتے اور اپنے دلوں میں بساتے ہیں۔ اسی لیے حافظِ قرآن کو امت میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔رسول اللہؐ نے حافظِ قرآن کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:’’تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔‘‘ (صحیح بخاری)
ایک اور حدیث میں حافظِ قرآن کے والدین کے مقام کو بیان کرتے ہوئے حضورؐ نے فرمایا کہ قیامت کے دن حافظِ قرآن کے والدین کو ایسا تاج پہنایا جائے گا ،جس کی روشنی سورج کی روشنی سے بھی زیادہ ہوگی۔ سوچئے! اگر حافظِ قرآن کے والدین کا یہ مقام ہے تو خود حافظِ قرآن کی شان و عظمت کتنی بلند ہوگی۔قیامت کے دن حافظِ قرآن کو یہ اعزاز بھی عطا کیا جائے گا کہ اس سے کہا جائے گا:’’قرآن پڑھتے جاؤ اور جنت کے درجات میں بلند ہوتے جاؤ، جیسے دنیا میں ترتیل کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔‘‘یہ وہ عظیم مرتبہ ہے جس کا تصور بھی انسان کے دل کو خوشی اور روح کو سکون سے بھر دیتا ہے۔اسی لیے والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے ابتدائی چند سال قرآنِ کریم کی تعلیم اور حفظ کے لیے وقف کریں، پھر اس کے بعد انہیں عصری اور مروجہ علوم سے بھی آراستہ کریں۔ کیونکہ درحقیقت قرآن سے بڑھ کر کوئی علم نہیں، اس سے بلند کوئی ڈگری نہیں اور اس سے بڑا کوئی اعزاز نہیں کہ ایک انسان اپنے سینے میں اللہ کا کلام محفوظ کر لے۔اگر ہمارے گھروں سے حافظِ قرآن نکلیں گے تو یہی بچے کل کے صالح علماء، باکردار رہنما اور باصلاحیت شہری بنیں گے۔ یہی وہ چراغ ہوں گے جو اپنے گھر کو بھی روشن کریں گے اور پورے معاشرے کو بھی نورِ قرآن سے منور کریں گے۔
آئیے! ہم سب عہد کریں کہ اپنے بچوں کے وقت کی حفاظت کریں گے، انہیں قرآن سے جوڑیں گے اور حتی المقدور انہیں حافظِ قرآن بنانے کی کوشش کریں گے، تاکہ ہماری آنے والی نسلیں قرآن کی روشنی میں پروان چڑھیں اور دنیا و آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کریں۔