حال و احوال
شفیع نقیب
گذشتہ روزشمالی کشمیر کے بانڈی پورہ ضلع کے حاجن علاقے میں پیش آنے والا سانحہ صرف تین نوجوانوں کی موت کا واقعہ نہیں تھا بلکہ یہ پورے سماج کے ضمیر کو جھنجھوڑ دینے والا ایک ایسا دردناک حادثہ تھا، جس نے ہر حساس دل کو غمزدہ کردیا۔ چندرگیر حاجن کے تین نوجوان، عادل احمد ڈار، سمیر احمد ڈار اور سہیل احمد ڈار ایک لمحے میں زندگی کی ساری رونقیں چھوڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاموش ہوگئے۔ ان کے گھروں میں کہرام مچا ہوا ہے، مائیں بین کررہی ہیں، باپ ساکت ہیں، بہن بھائی غم سے نڈھال ہیں اور پورا علاقہ سوگوار دکھائی دے رہا ہے۔اس حادثے کی سب سے دل دہلا دینے والی بات یہ ہے کہ یہ نوجوان دریا میں نہانے یا تفریح کی غرض سے نہیں گئے تھے۔ وہ معمول کے گھریلو کام کے طور پر دریا کنارے دری دھورہے تھے۔ زندگی کتنی بے اعتبار ہے کہ ایک لمحہ پہلے انسان روزمرہ کے کاموں میں مصروف ہوتا ہے اور دوسرے ہی لمحے موت اسے اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک نوجوان کا پاؤں پھسل گیا اور وہ پانی میں جاگرا۔ پانی کی تیز لہروں نے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں سے مدد کی اپیل کی۔ دوسرے دو نوجوان اسے بچانے کے لئے آگے بڑھے لیکن افسوس کہ وہ خود بھی پانی کی بے رحم موجوں کا شکار ہوگئے۔ تینوں نوجوان تیراکی نہیں جانتے تھے اور یہی ناواقفیت ان کی زندگی کی ڈور کاٹ گئی۔
یہ منظر کتنا خوفناک ہوگا، اس کا اندازہ صرف وہی لگا سکتا ہے جس نے کسی انسان کو پانی میں ڈوبتے دیکھا ہو۔ چند لمحوں کی بے بسی، مدد کے لئے چیخ و پکار، ہاتھ پاؤں مارنے کی آخری کوششیں اور پھر خاموش پانی۔ انسان سوچتا رہ جاتا ہے کہ کاش کوئی تیرنا جانتا، کاش کوئی رسی موجود ہوتی، کاش وہاں فوری ریسکیو سہولت ہوتی، کاش انہیں بچپن سے تیراکی سکھائی گئی ہوتی، تو شاید آج تین گھروں میں چراغ بجھنے سے بچ جاتے۔
ہمارے یہاں ایک عجیب المیہ یہ بھی ہے کہ ہم حادثات کے بعد ماتم تو بہت کرتے ہیں لیکن اس کے اسباب اور سدباب پر سنجیدگی سے غور نہیں کرتے۔ دوچار دن سوشل میڈیا پر افسوس کے پیغامات لکھے جاتے ہیں، تعزیتی اجتماعات منعقد ہوتے ہیں، آنسو بہائے جاتے ہیں، پھر زندگی اپنی رفتار پکڑ لیتی ہے اور اگلے موسم گرما میں کوئی اور سانحہ ہمارا منتظر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر سال جون، جولائی اور اگست کے مہینوں میں کشمیر کے کسی نہ کسی علاقے سے غرقابی کی خبریں سننے کو ملتی ہیں۔ کہیں نوجوان دریا میں نہاتے ہوئے ڈوب جاتے ہیں، کہیں بچے ندی نالوں میں بہہ جاتے ہیں، کہیں کشتی الٹ جاتی ہے اور کہیں سیر و تفریح پر گئے طلبہ موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ آخر ایسا کیوں ہورہا ہے؟ کیا ہمارے دریا پہلے سے زیادہ خطرناک ہوگئے ہیں؟ کیا پانی کی لہریں اچانک زیادہ بے رحم ہوگئی ہیں؟ نہیں۔ اصل مسئلہ ہماری غفلت، لاپروائی اور حفاظتی شعور کی کمی ہے۔ ہم اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلانے کے لئے بڑے بڑے اسکولوں میں داخل کرتے ہیں، مہنگے موبائل فون خریدتے ہیں، قیمتی کپڑے پہناتے ہیں، لیکن انہیں زندگی بچانے کی بنیادی مہارتیں نہیں سکھاتے۔ ہم انہیں ریاضی، سائنس اور کمپیوٹر تو سکھاتے ہیں مگر یہ نہیں سکھاتے کہ اگر پانی میں پھنس جائیں تو خود کو کیسے بچائیں، اگر بجلی کا کرنٹ لگ جائے تو کیا کرنا چاہئے، اگر آگ بھڑک اٹھے تو کس طرح باہر نکلنا چاہئے، اگر کسی کا دل اچانک بند ہوجائے تو ابتدائی طبی امداد کیسے دی جاتی ہے۔یہ سچ ہے کہ ہر حادثہ روکا نہیں جاسکتا، موت کا ایک وقت مقرر ہے، لیکن اسلام بھی ہمیں احتیاط اور تدبیر اختیار کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اگر انسانی جانوں کو بچانے کے لئے اقدامات کئے جائیں تو کم از کم اس طرح کے سانحات کا گراف کم ضرور ہوسکتا ہے۔
مجھے سب سے زیادہ حیرانی اس بات پر ہوتی ہے کہ ہمارے نوجوان، جنہیں تیراکی نہیں آتی، وہ خود کو ندی نالوں اور دریا کے حوالے کیوں کردیتے ہیں؟ دریا کی لہریں کسی کی دوست نہیں ہوتیں۔ پانی بظاہر پرسکون دکھائی دیتا ہے لیکن اس کے اندر ایسی طاقت چھپی ہوتی ہے جو پل بھر میں انسان کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ جو شخص تیراکی نہیں جانتا، اس کے لئے معمولی گہرائی بھی جان لیوا بن سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر حادثات میں لوگ پانی کی گہرائی سے زیادہ خوف اور گھبراہٹ کی وجہ سے جان کھو بیٹھتے ہیں۔
ہمارے دیہی علاقوں میں موسم گرما آتے ہی نوجوان جوق در جوق ندی نالوں کا رخ کرتے ہیں۔ گرمی سے راحت حاصل کرنے کے لئے پانی میں اُترنا انہیں تفریح محسوس ہوتا ہے۔ بعض نوجوان دوستوں کے سامنے بہادری دکھانے کے لئے خطرناک جگہوں تک چلے جاتے ہیں۔ کچھ لوگ دریا کی تیز لہروں کے ساتھ سیلفیاں لیتے ہیں، کچھ کشتیوں کے کناروں پر کھڑے ہوکر ویڈیوز بناتے ہیں۔ یہ سب چیزیں بظاہر معمولی لگتی ہیں لیکن کئی بار ایک لمحے کی بے احتیاطی پوری زندگی ختم کردیتی ہے۔
مجھے آج بھی ولر جھیل کا وہ المناک سانحہ یاد ہے جب کئی معصوم طلبہ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ وہ بچے سیر و تفریح کے لئے گئے تھے، خوشیاں منانے نکلے تھے، مگر ان کے والدین کو ان کی لاشیں واپس ملیں۔ اس واقعے نے پورے کشمیر کو ہلاکر رکھ دیا تھا۔ میں جب بھی اس حادثے کو یاد کرتا ہوں تو بدن میں جھرجھری دوڑ جاتی ہے۔ سوچتا ہوں کہ ان معصوم بچوں کے والدین نے کس اذیت کا سامنا کیا ہوگا۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ ہم نے ان سانحات سے مستقل سبق نہیں سیکھا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس مسئلے کو جذباتی نعروں کے بجائے عملی انداز میں لیں۔ سب سے پہلے گھر سے شروعات ہونی چاہئے۔ ایک بچے کی پہلی درسگاہ اس کا گھر ہوتا ہے۔ والدین اگر چاہیں تو بچپن سے ہی بچوں میں حفاظتی شعور پیدا کرسکتے ہیں۔ جیسے ہم بچوں کے لئے کھلونے خریدتے ہیں، ویسے ہی انہیں تیراکی کی ابتدائی تربیت بھی دلاسکتے ہیں۔ آج کل بازار میں چھوٹے پلاسٹک سوئمنگ پول آسانی سے دستیاب ہیں۔ اگر والدین چاہیں تو گھر کے صحن میں بچوں کو پانی سے مانوس کرسکتے ہیں۔متمول خاندان اپنے گھروں میں چھوٹے سوئمنگ پول تعمیر کرسکتے ہیں۔ جس طرح ہم اپنے بچوں کے لئے مہنگی بائک اور گاڑیاں خریدنے پر ہزاروں لاکھوں روپے خرچ کرتے ہیں، اسی طرح ان کی جان بچانے والی مہارتوں پر بھی توجہ دینی چاہئے۔ تیراکی صرف کھیل نہیں بلکہ زندگی بچانے کا ایک اہم فن ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں تیراکی کو بنیادی تعلیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔ وہاں بچے چھوٹی عمر سے پانی میں خود کو محفوظ رکھنے کے طریقے سیکھتے ہیں۔
سرکاری سطح پر بھی اس سلسلے میں بہت کچھ کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے اسکولوں اور کالجوں میں سپورٹس اساتذہ تعینات ہیں۔ اگر حکومت سنجیدگی سے منصوبہ بندی کرے تو گرمیوں کے دوران طلبہ کو محفوظ مقامات پر ماہرین کی نگرانی میں تیراکی سکھائی جاسکتی ہے۔ یہ کوئی ناممکن کام نہیں۔ کشمیر میں جھیلیں، تالاب، ندی نالے اور پانی کے قدرتی ذخائر موجود ہیں۔ اگر ان جگہوں پر حفاظتی انتظامات کے ساتھ تربیتی مراکز قائم کئے جائیں تو ہزاروں نوجوان فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔
اسکولوں میں صرف نصابی تعلیم کافی نہیں۔ بچوں کو ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کی تربیت دینا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہیں یہ سکھایا جانا چاہئے کہ اگر کوئی شخص پانی میں ڈوب رہا ہو تو اسے کیسے بچایا جائے، اگر کوئی آگ میں پھنس جائے تو کیا کرنا چاہئے، اگر کسی کو دل کا دورہ پڑے تو ابتدائی طبی امداد کیسے دی جائے۔ایک اور اہم پہلو اسکولوں اور کالجوں کے ایکسکرشن پروگرام ہیں۔ موسم گرما میں تعلیمی ادارے بچوں کو سیر و تفریح کے لئے مختلف مقامات پر لے جاتے ہیں۔ وہاں بچے قدرتی حسن سے لطف اندوز ہونے کے دوران پانی کے قریب چلے جاتے ہیں۔ بعض اوقات اساتذہ کی معمولی غفلت بھی بڑے سانحے کو جنم دیتی ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ حکومت ایک واضح پالیسی بنائے۔
بلاک اور زون سطح پر اسکول انتظامیہ کو پہلے اجازت نامہ لینا چاہئے۔ متعلقہ پولیس، ضلع انتظامیہ اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام سے کلیئرنس کے بغیر کسی بھی ادارے کو طلبہ کو آبی مقامات کی سیر پر لے جانے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ ایک ہی دن کئی اسکولوں کو ایک ہی مقام پر جانے کی اجازت دینا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے کیونکہ بھیڑ کی وجہ سے نگرانی مشکل ہوجاتی ہے۔ہر اسکول کے لئے طلبہ کی تعداد محدود ہونی چاہئے اور ہر مخصوص تعداد پر ایک استاد یا نگران مقرر کیا جانا چاہئے۔ سیر و تفریح کے مقامات پر پولیس، محکمہ صحت، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ریسکیو ٹیموں کی موجودگی لازمی ہونی چاہئے۔ وہاں لائف جیکٹس، ریسکیو بوٹس، ابتدائی طبی امداد اور ایمرجنسی سہولیات ہر حال میں دستیاب ہونی چاہئیں۔
افسوس کی بات یہ بھی ہے کہ ہمارے یہاں اکثر حادثات کے بعد ہی انتظامیہ حرکت میں آتی ہے۔ کچھ دن نگرانی بڑھائی جاتی ہے، پھر سب کچھ معمول پر آجاتا ہے۔ ضرورت مستقل منصوبہ بندی کی ہے۔ دریا کناروں، جھیلوں اور خطرناک مقامات پر وارننگ بورڈ نصب ہونے چاہئیں۔ جہاں پانی زیادہ گہرا ہو وہاں واضح نشانات لگائے جائیں۔ مقامی سطح پر رضاکاروں کی ٹیمیں تیار کی جائیں جو ہنگامی صورتحال میں فوری مدد فراہم کرسکیں۔
میڈیا، مساجد، مدارس اور سوشل میڈیا کو بھی اس حوالے سے مثبت کردار ادا کرنا چاہئے۔ جمعہ کے خطبات میں انسانی جان کے تحفظ پر گفتگو ہونی چاہئے۔ اسکول اسمبلیوں میں بچوں کو حفاظتی ہدایات دی جانی چاہئیں۔ سوشل میڈیا پر خطرناک اسٹنٹس اور غیر ذمہ دارانہ ویڈیوز کے بجائے آگاہی مہم چلائی جانی چاہئے۔آج حاجن کے تین نوجوان اس دنیا میں نہیں رہے۔ ان کے گھروں میں جو قیامت برپا ہے، اس کا اندازہ وہی لگا سکتے ہیں جنہوں نے اپنے جوان بیٹے کھوئے ہوں۔ ایک ماں جس نے اپنے بیٹے کو ہزار امیدوں سے پالا ہو، اس کے لئے جوان اولاد کا جنازہ اٹھانا دنیا کا سب سے بڑا دکھ ہوتا ہے۔ ایک باپ جو اپنے بیٹے کے مستقبل کے خواب دیکھتا ہو، اس کے لئے یہ صدمہ ناقابل برداشت ہوتا ہے۔ ہمیں سوچنا ہوگا کہ آخر کب تک ہمارے نوجوان اس طرح پانی کی نذر ہوتے رہیں گے؟ کب تک مائیں اپنے بچوں کی لاشیں اٹھاتی رہیں گی؟ کب تک ہر موسم گرما ہمارے لئے نئے آنسو لے کر آئے گا؟ اگر ہم واقعی ایک باشعور اور زندہ قوم ہیں تو ہمیں ان سانحات سے سبق لینا ہوگا۔
ان تین نوجوانوں کی موت ہمیں یہی پیغام دے رہی ہے کہ انسانی جان بہت قیمتی ہے اور اس کی حفاظت صرف حکومت کی نہیں بلکہ پورے سماج کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اگر ہم نے آج بھی سنجیدگی نہ دکھائی تو کل کوئی اور دریا، کوئی اور نالہ، کوئی اور جھیل کسی اور گھر کے چراغ بجھادے گی۔اللہ تعالیٰ حاجن کے ان تینوں نوجوانوں کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور ان کے اہل خانہ کو صبر جمیل نصیب فرمائے۔ آمین۔
رابطہ:9622555263
email:[email protected]
����������������