عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//جموں و کشمیر میں جون 2026 کے دوران اشیا و خدمات ٹیکس (جی ایس ٹی) کی وصولی میں سال بہ سال 15 فیصد کمی درج کی گئی ہے۔ مرکزی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ریاست وار تازہ اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں جون 2026 کے دوران جی ایس ٹی وصولی 470 کروڑ روپے رہی، جبکہ جون 2025 میں یہ رقم 552 کروڑ روپے تھی۔اعداد و شمار کے مطابق مرکز کے زیر انتظام اس خطے میں ایک سال کے دوران جی ایس ٹی وصولی میں 82 کروڑ روپے کی کمی واقع ہوئی۔ دوسری جانب ملک بھر میں مجموعی جی ایس ٹی وصولی میں اضافہ دیکھنے میں آیا، جس سے مختلف ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ٹیکس وصولی کی ملی جلی صورت حال سامنے آئی ہے۔قومی سطح پر جون 2026 کے دوران مجموعی جی ایس ٹی وصولی ایک لاکھ 34 ہزار 774 کروڑ روپے رہی، جو گزشتہ سال جون میں وصول کیے گئے ایک لاکھ 26 ہزار 506 کروڑ روپے کے مقابلے میں 7 فیصد زیادہ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ ملک کے کئی حصوں میں معاشی سرگرمیوں اور ٹیکس قوانین پر بہتر عمل درآمد کی عکاسی کرتا ہے۔جموں و کشمیر ان ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں شامل رہا جہاں جون کے دوران جی ایس ٹی وصولی میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ پڑوسی ریاست ہماچل پردیش میں وصولی 26 فیصد کم ہو کر 895 کروڑ روپے سے 661 کروڑ روپے رہ گئی، جبکہ اتراکھنڈ میں 21 فیصد کمی کے ساتھ وصولی 1688 کروڑ روپے سے گھٹ کر 1334 کروڑ روپے ہوگئی۔اس کے برعکس پنجاب نے بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جی ایس ٹی وصولی میں 14 فیصد اضافہ درج کیا، جہاں محاصل 2186 کروڑ روپے سے بڑھ کر 2491 کروڑ روپے تک پہنچ گئے۔ ہریانہ میں 9 فیصد اضافے کے ساتھ وصولی 10 ہزار 65 کروڑ روپے رہی، جبکہ دہلی میں 8 فیصد اضافے کے ساتھ 5987 کروڑ روپے اور چندی گڑھ میں 7 فیصد اضافے کے ساتھ 229 کروڑ روپے کی وصولی درج کی گئی۔
لداخ میں بھی جی ایس ٹی وصولی میں 7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جہاں جون 2025 کے 28 کروڑ روپے کے مقابلے میں جون 2026 میں صرف 26 کروڑ روپے جمع ہوئے۔بڑی ریاستوں میں اتر پردیش نے نمایاں کارکردگی دکھاتے ہوئے 19 فیصد اضافے کے ساتھ 9165 کروڑ روپے کی وصولی کی۔ آسام میں 17 فیصد اضافہ ہو کر محاصل 1492 کروڑ روپے تک پہنچ گئے، جبکہ گجرات میں 12 فیصد اضافے کے ساتھ 11 ہزار 743 کروڑ روپے اور کرناٹک میں 10 فیصد اضافے کے ساتھ 12 ہزار 937 کروڑ روپے کی وصولی درج کی گئی۔ ملک میں سب سے زیادہ جی ایس ٹی وصول کرنے والی ریاست مہاراشٹر نے 30 ہزار 714 کروڑ روپے جمع کیے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 9 فیصد زیادہ ہیں۔دوسری جانب سکم میں ملک کی سب سے بڑی 53 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ پڈوچیری میں 28 فیصد، جھارکھنڈ میں 16 فیصد اور راجستھان و مدھیہ پردیش میں 5، 5 فیصد کمی درج کی گئی۔واضح رہے کہ یکم جولائی 2017 کو نافذ کیے گئے جی ایس ٹی نظام نے مختلف بالواسطہ ٹیکسوں کی جگہ ایک متحدہ ٹیکس نظام متعارف کرایا تھا اور آج یہ مرکز اور ریاستوں کی آمدنی کا ایک اہم ذریعہ شمار ہوتا ہے۔ ماہانہ جی ایس ٹی وصولی کو معاشی سرگرمیوں، صارفین کے اخراجات اور ٹیکس کی تعمیل کا اہم اشاریہ تصور کیا جاتا ہے۔معاشی ماہرین کے مطابق کسی ایک ماہ میں جی ایس ٹی وصولی میں کمی کا مطلب لازمی طور پر معاشی سست روی نہیں ہوتا، کیونکہ موسمی کاروباری سرگرمیاں، ٹیکس ادائیگیوں کا وقت، ریفنڈز اور دیگر انتظامی عوامل بھی ماہانہ اعداد و شمار پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ تاہم اگر کئی ماہ تک مسلسل کمی برقرار رہے تو یہ معیشت اور ٹیکس وصولی کے نظام کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے۔تازہ اعداد و شمار سے واضح ہوتا ہے کہ جہاں قومی سطح پر جی ایس ٹی وصولی میں مسلسل اضافہ جاری ہے، وہیں جموں و کشمیر کی کارکردگی جون 2026 کے دوران قومی اوسط سے پیچھے رہی۔ آنے والے مہینوں کے اعداد و شمار سے یہ واضح ہوگا کہ آیا یہ کمی عارضی تھی یا خطے کی معاشی سرگرمیوں اور ٹیکس وصولی کے رجحان میں کسی بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے۔