سرینگر//ریزرو بینک آف انڈیانے ملک کے تمام مجاز بینکوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ درآمد و برآمد (ایکسپورٹ۔امپورٹ) سے متعلق پرانے تجارتی اور ادائیگی ریکارڈ میں موجود تمام زیر التوا تضادات اور خامیوں کو جلد از جلد دور کریں۔ مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ کئی برسوں سے مختلف لین دین میں دستاویزات کی کمی، غلط اندراجات، نامکمل معلومات اور دیگر تکنیکی وجوہات کی بنا پر ہزاروں معاملات ابھی تک مکمل طور پر حل نہیں ہو سکے ہیں، جس کے باعث بینکوں کے ریکارڈ اور تجارتی ادائیگیوں میں عدم مطابقت برقرار ہے۔
ذرائع کے مطابق آر بی آئی نے حال ہی میں بینکوں کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ایک جائزہ اجلاس کے دوران واضح کیا کہ ایسے تمام پرانے معاملات کی ازسرنو جانچ کی جائے، متعلقہ دستاویزات کی تصدیق کی جائے اور جہاں لین دین حقیقی اور قانونی ہو وہاں انہیں فوری طور پر باقاعدہ بنایا جائے۔ مرکزی بینک کا مقصد یہ ہے کہ برسوں سے زیر التوا ریکارڈ کو صاف کیا جائے تاکہ مالیاتی نظام زیادہ شفاف اور درست بنایا جا سکے۔ آر بی آئی کا ماننا ہے کہ پرانے عدم مطابقت والے معاملات ختم ہونے سے بینکوں کی ضابطہ جاتی تعمیل میں بہتری آئے گی، برآمد کنندگان اور درآمد کنندگان کو غیر ضروری رکاوٹوں اور نگرانی سے نجات ملے گی، جبکہ ملک کے تجارتی اعداد و شمار بھی زیادہ درست اور قابل اعتماد ہوں گے۔ اس کے علاوہ بینکوں کے لیے مشتبہ یا زیر التوا معاملات کی تعداد میں بھی نمایاں کمی آنے کی توقع ہے۔ ماہرین کے مطابق آر بی آئی کی یہ ہدایت بھارت کے بینکاری اور غیر ملکی تجارت کے نظام کو مزید شفاف، منظم اور مؤثر بنانے کی سمت ایک اہم قدم تصور کی جا رہی ہے۔ اس اقدام سے بینکوں میں برسوں سے زیر التوا ریکارڈ کی صفائی ہوگی، کاروباری اداروں کے لیے لین دین آسان ہوگا اور مستقبل میں تجارتی ادائیگیوں کے نظام کو مزید مضبوط بنانے میں بھی مدد ملے گی۔