ندائے کمراز
اِکز اِقبال
زندگی کے اس بے کنار صحرا میں، جہاں ہر سمت دھوپ اپنے تیور بدلتی رہتی ہے اور وقت کی ریت مٹھی سے پھسلتی جاتی ہے، انسان اکثر یہ بھول جاتا ہے کہ وہ محض ایک مسافر نہیں ‘ وہ خود ایک ذریعہ ہے۔ ایک وسیلہ۔ ایک ایسا کنواں جس سے یا تو زندگی پھوٹتی ہے۔۔۔یا خاموشی سے مٹی بن جاتی ہے۔
یہ کوئی فلسفیانہ الجھاؤ نہیں، نہ ہی کتابی باتوں کا بوجھ۔ یہ ایک سادہ سا اصول ہے، اتنا سادہ کہ اکثر ہماری نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے اور اتنا گہرا کہ پوری زندگی کا رخ بدل سکتا ہے۔
وہ کنواں جس سے لوگ پانی بھرتے رہیں، کبھی خشک نہیں ہوتا۔۔۔ اور جس کے پاس آنا لوگ چھوڑ دیں، وہ آہستہ آہستہ اپنی ہی زمین میں دفن ہو جاتا ہے۔ یہ محض ایک منظر نہیں،یہ انسانی معاشرے کی مکمل تصویر ہے۔
آج کے دور میں، جب ترقی نے رفتار پکڑ لی ہے اور سہولتیں انسان کے دروازے پر دستک دے رہی ہیں، ایک عجیب خلا بھی جنم لے رہا ہے۔ ہم جڑے ہوئے نظر آتے ہیں، مگر ٹوٹے ہوئے ہیں۔ ہم بات کرتے ہیں، مگر سنتے نہیں۔ ہم قریب ہیں، مگر ایک دوسرے سے کوسوں دور۔
ایسے میں انسان کا ’’کنواں‘‘ ہونا ٫ یعنی دوسروں کے لیے مفید ہونا—ایک نایاب وصف بنتا جا رہا ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے: آخر وہ کیا چیز ہے جو انسان کو باقی رکھتی ہے؟ نہ دولت، نہ شہرت، نہ عہدہ۔۔۔ بلکہ وہ اثر جو وہ دوسروں کی زندگیوں میں چھوڑ جاتا ہے۔
ایک استاد جو اپنی بساط سے بڑھ کر شاگردوں کے لیے راستے روشن کرتا ہے، وہ ایک بہتا ہوا کنواں ہے۔
ایک ماں جو اپنی خواہشات کو اولاد کی مسکراہٹ پر قربان کر دیتی ہے، وہ ایک زندہ چشمہ ہے۔ایک مزدور، جو پسینے سے اپنے گھر کی دیواروں کو مضبوط کرتا ہے، وہ بھی ایک ایسا کنواں ہے جس کی گہرائی کا اندازہ لگانا آسان نہیں۔مگر اسی معاشرے میں کچھ چہرے ایسے بھی ہیں جو خود کو سمیٹ لیتے ہیں۔ وہ اپنے گرد دیواریں کھڑی کر لیتے ہیں،غرور کی، بے نیازی کی، یا شاید تھکن کی۔
وہ دینا چھوڑ دیتے ہیں اور یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب ان کے اندر کا کنواں سوکھنا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ فطرت کا اٹل قانون ہے۔ جو بہتا ہے، وہ رہتا ہے۔۔۔اور جو رُک جاتا ہے، وہ ختم ہو جاتا ہے۔
دریا کو دیکھ لیجیے،جب تک وہ بہتا ہے، اس کے کنارے آباد رہتے ہیں۔ جس دن وہ رک جائے، وہ دلدل میں بدل جاتا ہے۔انسان بھی اسی اصول کا پابند ہے۔ وہ جب تک بانٹتا رہتا ہے ‘ گچاہے، وہ علم ہو، وقت ہو، محبت ہو یا محض ایک مسکراہٹ ،وہ زندہ رہتا ہے، نہ صرف اپنی ذات میں بلکہ دوسروں کے دلوں میں بھی۔
بدقسمتی سے، ہم ایک ایسے عہد میں سانس لے رہے ہیں جہاں’’لینا‘‘ کامیابی کی علامت بن چکا ہے اور’’دینا‘‘ کمزوری سمجھا جاتا ہے ہر شخص چاہتا ہے کہ اسے سنا جائے، مگر وہ کسی کو سننے کے لیے تیار نہیں۔
ہر شخص چاہتا ہے کہ اسے سمجھا جائے، مگر وہ کسی کو سمجھنے کی زحمت نہیں کرتا۔
یہی وہ خاموش زوال ہے جو انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے۔ ہم بڑے کارناموں کے انتظار میں چھوٹے مواقع ضائع کر دیتے ہیں۔ ہم سوچتے ہیں کہ جب ہمارے پاس زیادہ ہوگا تب دیں گے، جب وقت ہوگا تب سنیں گے، جب حالات بہتر ہوں گے تب کسی کا ہاتھ تھامیں گے۔
مگر سچ یہ ہے کہ دینے کے لیے’’زیادہ‘‘ نہیں،’’دل‘‘ چاہیے۔ اور دل کا تعلق حالات سے نہیں، نیت سے ہوتا ہے۔ زندگی کی اصل خوبصورتی اسی میں ہے کہ ہم کسی کے لیے آسانی پیدا کریں۔ کسی کے بکھرے ہوئے حوصلے کو سمیٹ دیں، کسی کی خاموش تکلیف کو محسوس کر لیں، کسی کے اندھیرے میں ایک چھوٹی سی روشنی بن جائیں۔
یہ بڑے کام نہیں۔۔۔ مگر یہی وہ چھوٹے عمل ہیں جو انسان کو بڑا بنا دیتے ہیں۔
میں نے اپنی زندگی میں ایسے چہرے دیکھے ہیں جو وسائل میں کم مگر دل کے امیر ہے۔ وہ زیادہ نہیں دے سکتے تھے، مگر جو دیتے تھے، خلوص سے دیتے تھے۔اور یہی خلوص انہیں لوگوں کے دلوں میں زندہ رکھتا تھا۔کیونکہ انسان کا اصل قد اس کی دولت سے نہیں، اس کے اثر سے ناپا جاتا ہے۔
آج اگر ہم اپنے گرد نظر دوڑائیں تو ہمیں احساس ہوگا کہ لوگ صرف مدد نہیں چاہتے،وہ توجہ چاہتے ہیں، وہ احساس چاہتے ہیں، وہ یہ چاہتے ہیں کہ کوئی ان کی خاموشی کو بھی سن لے اور یہ کام صرف وہی کر سکتا ہے جو اپنے اندر کے کنویں کو زندہ رکھتا ہے۔
اب سوال یہ نہیں کہ ہمارے پاس کتنا ہے۔۔۔ بلکہ سوال یہ ہے کہ ہم کتنا بانٹنے کو تیار ہیں۔ اگر آپ کسی کے لیے آسانی بن سکتے ہیں، تو بن جائیے۔ اگر آپ کسی کے بوجھ کو ہلکا کر سکتے ہیں، تو کر دیجیے۔اگر آپ کسی کے اندھیرے میں روشنی بن سکتے ہیں، تو دیر نہ کیجیے۔کیونکہ دینے والا کبھی خالی نہیں ہوتا۔
وہ جتنا دیتا ہے، اتنا ہی اس کے اندر بھر دیا جاتا ہے،کبھی سکون کی صورت میں، کبھی دعاؤں کی صورت میں اور کبھی ایسی خوشیوں کی صورت میں جو الفاظ سے ماورا ہوتی ہیں۔
آخر میں فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ چاہیں تو ایک بند دروازہ بن سکتے ہیں،محفوظ، مگر بے مصرف۔یا ایک ایسا کنواں بن سکتے ہیں جس سے لوگ سیراب ہوں، جس کے پاس آ کر پیاس بجھائیں اور جس کا پانی کبھی ختم نہ ہو۔
یاد رکھیے! زندگی کا حسن لینے میں نہیں، دینے میں ہے۔اور بقا کا راز جمع کرنے میں نہیں، بہنے میں ہے۔ اب یہ آپ پر ہے۔۔۔ آپ رپکنا چاہتے ہیں، یا بہنا؟
(مضمون نگار کشمیر سے تعلق رکھنے والے کالم نگار اور تعلیمی شعبے سے وابستہ ہیں)
رابطہ ۔7006857283
[email protected]