ملک منظور
ہم اکثر مختلف حلقوں سے یہ سنتے ہیں کہ جنسی امتیاز ایک ایسی لعنت ہے جو ریاست اور قوم کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ بچیوں کی تعلیم اور سماجی انصاف کے حق میں بلند و بانگ نعرے بھی سنائی دیتے ہیں، مگر افسوس کہ یہ دعوے عملی حقیقت اور سچے عزم سے کوسوں دور نظر آتے ہیں۔جنسی امتیاز یا جنس کی بنیاد پر تفریق آج بھی ہمارے معاشرے کا ایک سنگین المیہ ہے۔ بہت سے لوگ اب بھی اس فرسودہ سوچ کے اسیر ہیں کہ صرف لڑکے ہی خاندان کے اصل وارث اور نام لیوا ہوتے ہیں۔ کیا یہ وہ سنگین غلط فہمی نہیں جو ہمیں روحانیت اور انسانیت کی حقیقی سمجھ سے دور رکھتی ہے؟ اس مفروضے کی کوئی مستند یا عقلی بنیاد موجود نہیں۔ اس کے برعکس، قرآنِ مجید واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ اولاد کی جنس کا فیصلہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے، جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے دونوں سے نوازتا ہے۔لہٰذا، بیٹی کسی بھی طور بیٹے سے کمتر نہیں۔ وہ خاندانی وقار کو بڑھانے اور وراثت کی حقدار بننے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ ذمہ داریاں نبھانے اور کامیابی حاصل کرنے کی استعداد اس میں بھی اتنی ہی ہے جتنی کسی بیٹے میں ہوتی ہے۔ ہمارے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹیوں کے والد تھے، اور آپؐ نے بیٹیوں کی پرورش پر جنت کی بشارت دی،اس سے بڑھ کر بیٹی کا مرتبہ کیا ہو سکتا ہے؟ جدید تحقیق بھی ثابت کرتی ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں ذہانت اور علمی صلاحیت میں برابر ہوتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب والدین بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں، تو وہ اکثر بیٹے کے بجائے بیٹی کی قربت تلاش کرتے ہیں، کیونکہ بیٹی فطری طور پر زیادہ رفیق اور غمگسار ثابت ہوتی ہے۔ مگر ستم ظریفی دیکھیے کہ اسی بیٹی کو ’’کمزوری‘‘ کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
یہ امتیازی رجحان عموماً متوسط اور نچلے متوسط طبقے میں زیادہ گہرا ہے، جہاں یہ گمان کیا جاتا ہے کہ صرف لڑکا ہی بڑھاپے کا سہارا بنے گا۔ کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ لڑکیاں ایک مستقل بوجھ ہیں؟ ہرگز نہیں! اللہ تعالیٰ نے انہیں بھی وہی ذہن، فہم اور ہمت عطا کی ہے جو لڑکوں کا خاصہ سمجھی جاتی ہے۔ جن گھرانوں میں صرف بیٹیاں ہیں، کیا وہ گھر اُجڑ جاتے ہیں؟ نہیں۔افسوسناک امر یہ ہے کہ جب دو میں سے ایک کو اچھے اسکول بھیجنے کا مرحلہ آتا ہے، تو بعض لوگ کم ذہین بیٹے کو ترجیح دیتے ہیں اور زیادہ ذہین بیٹی کو گھر بٹھا دیتے ہیں۔ اس طرح ایک بہترین ذہن کو بے دردی سے ضائع کر دیا جاتا ہے۔ ہم کیوں ان بیٹیوں کے پَر کاٹ دیتے ہیں جو آسمانوں کی بلندی چھو سکتی ہیں؟ اور کیوں ان لڑکوں میں زبردستی جان ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں جو صلاحیت سے عاری ہوتے ہیں؟ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ صنفی مساوات کے بغیر سماجی فلاح کا خواب ادھورا ہے۔ عورت کے ساتھ امتیاز نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ یہ پورے معاشرے کے استحکام میں رکاوٹ ہے۔
صنفی امتیاز کی ایک اور تلخ مثال لڑکیوں کے اسکول چھوڑنے (Dropout) کی شرح ہے۔ جب ایک لڑکی حالات کے جبر تلے تعلیم ادھوری چھوڑتی ہے، تو معاشرہ اسے خاموشی سے قبول کر لیتا ہے۔ اعلیٰ پرائمری کے بعد لڑکیوں کو صرف ’’گھریلو کام کاج‘‘ سکھانے پر زور دیا جاتا ہے تاکہ وہ ایک ’’کامیاب‘‘ بہو بن سکیں۔ اگر وہ تعلیمی میدان میں کسی ناکامی کا شکار ہوں تو ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے، جبکہ بیٹوں کی ہر کوتاہی کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ کتنا اچھا ہوتا کہ لڑکیوں کو بھی روشن مستقبل کے خواب دکھائے جاتے، نہ کہ بچپن ہی سے انہیں ’’پرایا مال‘‘ کہہ کر ذہنی طور پر رخصتی کے لیے تیار کیا جاتا۔ وہی لڑکی جو بہن بن کر اپنے بھائی کی کامیابی کے لیے مصلے پر روتی ہے، خود اپنے ہی گھر میں اجنبی قرار دی جاتی ہے۔
بھارت کے حالیہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ثانوی سطح پر اسکول چھوڑنے کی شرح 8 سے 12 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جس کی بڑی وجہ لڑکیوں پر گھریلو کام کا دباؤ اور کم عمری کی شادی ہے۔ یہ ایک اخلاقی زوال ہے جسے ہم نے معمول بنا لیا ہے۔اس امتیاز کا ذمہ دار کون ہے؟ باپ، ماں یا دونوں؟ درحقیقت دونوں ہی اس پدرانہ سوچ کا شکار ہیں جو نسلوں سے چلی آ رہی ہے۔ یہ امتیاز شادی کے بعد ختم نہیں ہوتا بلکہ ایک نئی اور بھیانک صورت اختیار کر لیتا ہے۔ والدین اپنی بیٹی کے لیے تو دعا کرتے ہیں کہ وہ سسرال میں ملکہ بن کر رہے، مگر اپنی بہو کو بیٹی ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اگر ہم بہو کو دل سے بیٹی تسلیم کر لیں تو آدھے مسائل خود بخود حل ہو جائیں۔
مزید برآں ملازمت پیشہ خواتین کو آج بھی مالی خودمختاری حاصل نہیں۔ ان کی تنخواہ کو ان کا حق سمجھنے کے بجائے شوہر یا سسرال کی ملکیت تصور کیا جاتا ہے۔ انہیں اطاعت کے نام پر خاموش رہنے کی تربیت دی جاتی ہے اور نافرمانی کی صورت میں ’’جہنم‘‘ کا خوف دلایا جاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا وہ مرد جہنم سے بچے رہیں گے جو عورتوں کے حقوق سلب کرتے ہیں اور ان کی تذلیل کرتے ہیں؟ عورت کی کمائی اس کی اپنی ملکیت ہے اور مرد کو اس کی رضا کے بغیر اسے استعمال کرنے کا کوئی اخلاقی یا شرعی حق نہیں۔
حل کیا ہے؟اس ناسور کو ختم کرنے کے لیے ہمیں عملی اقدامات کرنے ہوں گے:
عوامی آگاہی: پنچایت اور مقامی سطح پر بیداری پروگرام شروع کیے جائیں۔
اساتذہ کا کردار: اساتذہ طالبات کی صلاحیتوں سے واقف ہوتے ہیں، وہ والدین کی ذہن سازی میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
سیمینارز اور ورکشاپس: جامعات کے سیمینارز کو صرف ہالوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ مقامی لوگوں کو ان میں شامل کیا جائے۔
مذہبی و سماجی رہنما: علماء کرام اور این جی اوز اس برائی کے خلاف منظم مہم چلائیں۔
تعلیمی مراعات: لڑکیوں کے وظائف (Scholarships) کے طریقہ کار کو آسان بنایا جائے اور شادی گرانٹس سے قبل یہ تحقیق لازمی ہو کہ لڑکی نے تعلیم کیوں چھوڑی۔
گھریلو تعاون: مرد حضرات گھر کے کام کاج میں خواتین کا ہاتھ بٹائیں تاکہ وہ بھی زندگی میں آگے بڑھ سکیں۔
جب ہم بہو کو گھر کی اصل بیٹی تسلیم کریں گے اور کھوکھلے نعروں کے بجائے عملی قدم اٹھائیں گے، تبھی ایک خوبصورت اور متوازن معاشرہ وجود میں آئے گا۔