نئی دلی//مرکزی سرکاری نے جموں و کشمیر اور اترا کھنڈ سمیت 8شمال مشرقی ریاستوں کو ہدایت دی ہے کہ 60سال سے زیادہ عمر کے زمرے میں آنے والے لوگوں کو کورونا وائرس مخالف دوسراڈوز دینے کی طرف توجہ مرکوز کریں ۔ مرکزی سرکار کا کہنا ہے کہ چند ریاستوں میں کارکردگی غیر اطمینان بخش ہے۔ مرکزی سرکار کا مزید کہنا ہے کہ 60سال سے زیاد ہ عمر کے زمرے میں آنے والے لوگوں کو کورونا سے زیادہ خطرہ ہونے کی وجہ سے ٹیکہ کاری خاصی اہمیت کی حامل ہے۔مرکزی ہیلتھ سیکریٹری راجیش بھوشن کی جانب سے منعقد کی گئی جائزہ میٹنگ میں جموں و کشمیر، لداخ، اتراکھنڈ اور دیگر شمال مشرقی ریاستوں اروناچل پردیش، آسام، منی پور، میگھالیہ، میزورم، ناگالینڈ، سکم اور تریپورہ کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔وازارت صحت کے مطابق آسام، منی پور، اروناچل پردیش، ناگالینڈ اور میگھالیہ میں 60سال سے زیادہ عمرکے لوگوں کو ویکسین کے دونوں ڈوز دینے میں کوتاہی برتی گئی ہے اور ان کی کارگردگی غیر اطمینان بخش ہے۔ میٹنگ میں مختلف ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں میں 18سال سے کم عمر کے لوگوں کو کورونا مخالف ویکسین کا پہلا ڈوز جلد دینے کی ہدایت دی گئی ہے۔ وزارت صحت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ چند ریاستوں میں انتظامیہ نے دوسرے ڈوز کے بدلے پہلے ڈوز پر توجہ مرکوز کی ہے۔وزارت نے تمام ریاستوں کو مشورہ دیا ہے کہ لوگوں کو ویکسین دینے کا مقررہ حدف مقررہ وقت پر ہی مکمل کیا جائے۔ میٹنگ میں 0.5ایم ایل سرینج،خصوصی گروپوںمثلاًخواجہ سرا، معزور افراد ، قیدیوںاور خواتین خاصکر حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو ویکسین دینے کے معاملہ پر بھی تفصیلی بحث کی گئی۔ وزارت نے تمام ریاستوں اور مرکزی زیر انتظام علاقوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ریاستی سطح کے سٹوروں میں ویکسین کی دستیابی، تقسیم اورویکسین کو ضائع ہونے کے عمل کو بھی کم کرےں اور تمام تفصیلات روزانہ کی بنیاد پرeVIN ویب سائٹ پر اپلوڈ کریں۔
دوسری لہر میں 5فیصد مسافر مثبت، مسافر و سیاحوں کےلئے ٹیسٹ کرنا لازمی
نئے ہیت کے وائرس کو روکنے کیلئے مشاورتی کمیٹی کی 19صفحات پر مشتمل رپورٹ حکومت کو پیش
پرویز احمد
سرینگر //مرکزی زیر انتظام جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کی روکتھام کیلئے بنائی گئی اعلیٰ سطحی مشاورتی کمیٹی نے بیرون ریاستوں سے آنے والے سیاحوں اور مسافروں کیلئے ٹیسٹنگ کو لازمی قرار دینے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ رپیڈ اینٹیجن مسافروں اور سیاحوں میں وائرس کا پتہ لگانے کیلئے کافی نہیں ہے۔ کمیٹی نے کہاہے کہ بیرون ریاستوں اور ممالک سے آنے والے 5فیصد لوگوں میں وائرس کے مختلف اقسام پائے گئے ہیں، اسلئے سفر کرنے والوں کیلئے علیحدہ ٹرول ایڈوائزری اورمنصوبہ بندی کی جائے۔ کمیٹی نے مزیدکہاہے کہ نئے ہیت کے وائرسوں کو جموں و کشمیر میں داخل ہونے سے روکنے کیلئے سرعت کے ساتھ ٹیسٹنگ کے عمل کو برقرار رکھنا ہوگا۔ کمیٹی نے 19صفحات پر مشتمل اپنی رپورٹ میںکہا ہے کہ غیر علامتی مریضوں میں وائرس کا پتہ لگانے کیلئے ریپڈ اینٹی جن ٹیسٹ کافی نہیں ہے کیونکہ ریپڈ ٹیسٹ صحیح ہونے کے امکانات صرف 50فیصد ہوتے ہیں ۔ کمیٹی نے کہاہے کہ ریپڈ اینٹی جن صرف ان علامتی مریضوں میں کامیاب ہوتے ہیں جن میں وائرس کی موجودگی کے آثار نمایا ںہوتے ہیں۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ دوسری لہر کے دوران جموں و کشمیر آنے والے لوگوں میں 5فیصد افراد کی رپورٹیں مثبت آئیں ۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نئے ہیت کے وائرس پر نظر رکھنے کیلئے بیرون ریاستوں سے آنے والے متاثرین میں موجود وائرس کی جین میپنگ (Gene Maping)کو ضروری قرار دیا جائے اور جن متاثرین کے وائرس کی جینیاتی تحقیق نہیں ہوئی ہے ، ایسے متاثرین کے نمونوں کو محفوظ رکھنے کے بھی انتظامات کئے جائیں۔ جموں و کشمیر آنے والے کسی بھی مسافر کی رپورٹ مثبت آنے کے بعد انہیں قرنطین کی سہولیات بھی دستیاب رکھیںجائےں جبکہ بیرون ممالک سے آنے والے متاثرین کیلئے قرنطین پالیسی کو مزید سخت بنایا جائے۔ کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر ایم ایس کھورو نے بتایا کہ رپیڈ اینٹی جن ٹیسٹ مسافروں میں وائرس کی تصدیق کیلئے کافی نہیں ہے کیونکہ وائرس کی ہیت کو روکنے میں یہ کامیاب نہیں ہوتا اور اسلئے آنے والے مسافروں کے نمونوں کی جین میپنگ درکار ہے لہٰذا سیاحوں اور مسافروں کیلئے آر ٹی پیس سی آر ٹیسٹ لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ریاستوں اور ممالک سے جموں و کشمیر میں مختلف اوقات کے وائرس داخل ہوسکتے ہیں،اسلئے مسافروں کیلئے علیحدہ ٹرول ایڈوائزری اور منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جو تیسری لہر کے اثر کو کم کرنے میں مدد گار ثابت ہوسکتی ہے۔
ملک میں 42ہزار سے زائد کیسز،366ہلاکتیں
یو این آئی
نئی دہلی // ملک میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا کے 42 ہزار سے زائد نئے کیسزسامنے آئے ہیں اور اس دوران ایکٹوکیسز کی شرح بڑھ کر 1.23 فیصد ہوگئی ہے ۔ملک میں جمعہ کے روز 58 لاکھ 85 ہزار 687 افراد کو کورونا کے ٹیکے لگائے گئے اور اب تک 67 کروڑ 72 لاکھ 11 ہزار 205 افراد کو ٹیکے لگائے جا چکے ہیں ۔مرکزی وزارت صحت کی جانب سے ہفتے کی صبح جاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے 42،618 نئے کیسزسامنے آنے کے ساتھ ہی متاثرہ افراد کی تعداد تین کروڑ 29 لاکھ 45 ہزار 907 ہو گئی ہے ۔ اس دوران 36 ہزار 385 مریضوں کے صحتیاب ہونے سے اس وبا کو شکست دینے والوں کی مجموعی تعداد تین کروڑ 21 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے ۔اس دوران ایکٹو کیسز 5،903 بڑھ کر تین لاکھ 99 ہزار 778 تک پہنچ گئے ہیں۔ اس دوران 366 مریضوں کی موت ہونے کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 4،05،681 ہو گئی ہے ۔
جموں کشمیر میں ایک فوت، 116متاثر
پرویز احمد
سرینگر //جموں و کشمیر میں کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں اضافہ کا سلسلہ جاری ہے۔ سنیچر کو جموں و کشمیر میں کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے 35ہزار 535ٹیسٹ کئے گئے جن میں 4مسافروں سمیت 116افراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں۔ متاثرین کی مجموعی تعداد 3لاکھ 25ہزار 830ہوگئی ہے۔ پچھلے24گھنٹوں کے دوران کشمیرکورونا وائرس سے ایک اور شخص فوت ہوگیا ہے ۔ متوفین کی مجموعی تعداد4410ہوگئی ہے۔ جموںو کشمیر میں کورونا وائرس سے مزید 116افراد کی رپورٹیں مثبت آئیں جن میں 31جموں جبکہ 85کشمیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ کشمیر سے تعلق رکھنے والے 85افراد میں 4بیرون ریاستوں اور ممالک سے سفر کرکے کشمیر واپس لوٹے جبکہ 81افراد مقامی سطح پر رابطے میں آنے کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔ کشمیر میں کولگام اور شوپیان میں کسی کی رپورٹ مثبت نہیں آئی ہے جبکہ دیگر 8اضلاع میں 85افراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں۔ کشمیر میں مثبت قرار دئے گئے 85افراد میں سرینگر میں47، بارہمولہ میں7،بڈگام میں 3، پلوامہ میں 14، کپوارہ میں 2، اننت ناگ میں2،بانڈی پورہ میں 3اور گاندربل میں 7افراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں۔ متاثرین کی مجموعی تعداد 2لاکھ 2ہزار 718ہوگئی ہے۔ سنیچر کو صدر اسپتال سرینگر میں ایک شخص کورونا وائرس سے پیدا ہونے والے نمونیاسے فوت ہوگیا ہے۔کشمیر صوبے میں متوفین کی مجموعی تعداد 2244تک پہنچ گئی ہے۔ جموں صوبے کے ادھمپور، کٹھوعہ، سانبہ اور پونچھ میں کسی کی رپورٹ مثبت نہیں آئی ہے جبکہ دیگر 6اضلاع میں 31افراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں۔ جموں صوبے کے 31متاثرین میں جموں میں5، راجوری میں 6، ڈوڈہ میں14، کشتواڑ میں 3، رام بن میں 2جبکہ ریاسی میں ایک کی رپورٹ مثبت نہیں آئی ہے۔ جموں صوبے میں متاثرین کی مجموعی تعداد 1لاکھ 23ہزار112تک پہنچ گئی ہے۔ ا س دوران جموں صوبے میں کسی کی موت نہیں آئی ہے۔ جموں میں متوفین کی مجموعی تعداد 2166 ہوگئی ہے۔