تجمل قادری
18 جون 2025کو مرکزی حکومت کی Ministry of Education کی جانب سے جاری کردہ پرفارمنس گریڈنگ انڈیکس (PGI) 2.0برائے2022-2023 اور 2023–24 جموں و کشمیر کے تعلیمی نظام کی ایک واضح اور حقیقت پسند تصویر پیش کرتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ کچھ شعبوں میں بہتری دکھائی دیتی ہے، مگر مجموعی طور پر جموں و کشمیر کی کارکردگی اطمینان بخش نہیں کہی جا سکتی۔
PGI رپورٹ میں جموں و کشمیر کا کل اسکور 1000 میں سے 527.3 درج کیا گیا ہے اور اسے Akanshi–1 گریڈ میں رکھا گیا ہے۔ یہ درجہ ظاہر کرتا ہے کہ خطہ اب بھی تعلیمی معیار، نتائج اور نظم و نسق کے حوالے سے قومی سطح سے پیچھے ہے۔
تعلیمی نتائج (Learning Outcomes):تعلیمی نتائج جموں و کشمیر کی سب سے بڑی کمزوری بن کر سامنے آئے ہیں۔ اس شعبے میں خطے نے 240 میں سے صرف 76.8 نمبر حاصل کیے ہیں، جو Prachesta–3 گریڈ کے زمرے میں آتا ہے۔ بڑی تعداد میں طلبہ بنیادی پڑھنے، لکھنے اور ریاضی میں مطلوبہ معیار تک نہیں پہنچ پاتے، جبکہ ثانوی سطح پر ریاضی اور سائنس کے نتائج خاص طور پر تشویشناک ہیں۔
ضروری اقدامات اور ترجیحات:ابتدائی جماعتوں میں خواندگی اور حساب کو اولین ہدف بنایا جائے، ہر سال ریاستی سطح پر تعلیمی جائزہ لیا جائے، اور ریاضی و سائنس کے لیے سبجیکٹ اسپیشلسٹ اساتذہ تعینات کیے جائیں۔
مساوات (Equity) :مساوات کے شعبے میں جموں و کشمیر نے 260 میں سے 203.9نمبر حاصل کیے ہیں اور Atti–Uttam گریڈ میں جگہ بنائی ہے۔ اس کے باوجود دیہی و شہری علاقوں، درج فہرست ذاتوں اور عمومی طبقے، اور خصوصی ضرورتوں والے بچوں کے درمیان فرق اب بھی موجود ہے۔
ضروری اقدامات اور ترجیحات:پسماندہ علاقوں اور طبقات کے لیے ہدفی تعلیمی اسکیمیں، خصوصی ضرورتوں والے بچوں کے لیے معاون ٹیکنالوجی، اور دیہی اسکولوں میں اضافی تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں۔
انفراسٹرکچر اور سہولیات :انفراسٹرکچر کے شعبے میں جموں و کشمیر کا اسکور 190 میں سے 88.2 رہا اور گریڈ Prachesta–2 دیا گیا۔ کئی اسکولوں میں سائنس و کمپیوٹر لیبز، لائبریریاں اور ڈیجیٹل سہولیات ناکافی ہیں، جبکہ سرد علاقوں کے مطابق اسکول ڈھانچے کا فقدان بھی نمایاں ہے۔
ضروری اقدامات اور ترجیحات: ہر سیکنڈری اسکول میں سائنس اور کمپیوٹر لیب، سرد علاقوں کے لیے موزوں اسکول ڈیزائن، اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔
رسائی (Access) : رسائی کے معاملے میں خطے نے 80 میں سے 52.9 نمبر حاصل کیے ہیں اور Uttam گریڈ میں شامل ہوا ہے۔ داخلہ کی شرح بہتر ہے، مگر سیکنڈری سطح پر ڈراپ آؤٹ اور دور دراز علاقوں میں اسکول تک پہنچ اب بھی مسئلہ ہے۔
ضروری اقدامات اور ترجیحات: ڈراپ آؤٹ روکنے کے لیے وظیفہ اسکیمیں، ٹرانسپورٹ سہولت، اور دور دراز علاقوں میں رہائشی اسکولوں کا قیام ضروری ہے۔
نظم و نسق (Governance Processes) :نظم و نسق کے شعبے میں جموں و کشمیر کا اسکور 130 میں سے 44.1 رہا اور گریڈ Prachesta–3 دیا گیا۔ فنڈز کی تاخیر، پرنسپل اور ہیڈ ماسٹر کی خالی آسامیاں، اور کمزور نگرانی اس کی بنیادی وجوہات ہیں۔
ضروری اقدامات اور ترجیحات: فنڈز کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جائے، تمام قیادتی آسامیاں پُر کی جائیں، اور تعلیمی نگرانی کو انتظامی کاغذی کارروائی کے بجائے تعلیمی معیار سے جوڑا جائے۔
اساتذہ کی تعلیم و تربیت:اساتذہ کی تربیت کے شعبے میں اسکور 100 میں سے 61.4 رہا اور گریڈ Uttam دیا گیا، مگر مسلسل پیشہ ورانہ تربیت اور جدید تدریسی مہارتوں کی کمی برقرار ہے۔
ضروری اقدامات اور ترجیحات:ہر استاد کے لیے سالانہ لازمی تربیت، جدید تدریسی طریقوں پر ورکشاپس، اور تربیت کو ترقی سے جوڑا جائے۔
تعلیم کا بجٹ :اس وقت جموں و کشمیر میں تعلیم کو تقریباً 8 سے 9 فیصد سالانہ بجٹ ملتا ہے، جس کا بڑا حصہ تنخواہوں پر خرچ ہو جاتا ہے۔ موجودہ حالات کے پیش نظر کم از کم 15 سے 20 فیصد سالانہ بجٹ صرف محکمہ تعلیم کے لیے مختص کیا جانا چاہیے۔ اس میں سے 40 فیصد تعلیمی نتائج، 25 فیصد اساتذہ کی تربیت، 25 فیصد انفراسٹرکچر اور 10 فیصد نظم و نسق و نگرانی کے لیے مختص ہونا چاہیے۔
نتیجہ : PGI رپورٹ کا صاف پیغام ہے کہ جموں و کشمیر کا مسئلہ اسکولوں کی کمی نہیں بلکہ تعلیم کے معیار کی کمی ہے۔ اگر تعلیمی نتائج، مساوات، اساتذہ اور نظم و نسق کو ترجیح نہ دی گئی تو آنے والی نسلیں اس کی قیمت چکائیں گی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تعلیم کو واقعی اولین ترجیح بنایا جائے۔
رابطہ۔7006759662
[email protected]