ڈاکٹر شگفتہ خالدی
جموں و کشمیر کے ہزاروں ڈیلی ویجرز آج بھی غیر یقینی اور مشکل حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو برسوں سے مختلف سرکاری محکموں—جیسے پی ایچ ای، پی ڈی ڈی، فاریسٹ، آر اینڈ بی اور میونسپل باڈیز—میں روزانہ اجرت پر کام کر رہے ہیں۔ ان کی محنت سے سرکاری نظام چلتا ہے، مگر ان کی اپنی زندگیاں عدم تحفظ اور کم آمدنی کا شکار ہیں۔
ڈیلی ویجرز کو اکثر مہینوں تک تنخواہ نہیں ملتی۔ کبھی تین مہینے تو کبھی چھ مہینے تک ان کی اجرت رکی رہتی ہے۔ ایسے حالات میں گھر کا خرچ، بچوں کی تعلیم اور علاج معالجہ پورا کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔ کئی لوگ قرض لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ان کی نوکری مستقل نہیں، اور کسی بھی وقت انہیں ہٹا دیا جا سکتا ہے۔
حکومت کی طرف سے وقتاً فوقتاً ریگولرائزیشن کے وعدے کیے گئے۔ مختلف ادوار میں کمیٹیاں بنیں اور پالیسیاں بنانے کی بات کی گئی، مگر عملی طور پر زیادہ تبدیلی نظر نہیں آئی۔ اکثر اعلانات صرف بیانات تک محدود رہے اور زمین پر عمل درآمد سست روی کا شکار رہا۔
ڈیلی ویجرز کا کہنا ہے کہ انہوں نے 10 سے 20 سال تک مسلسل خدمات انجام دیں، لیکن انہیں سروس فوائد، پراویڈنٹ فنڈ، میڈیکل انشورنس یا پنشن جیسے حقوق نہیں ملے۔ یہ لوگ سخت سردی، گرمی اور بارش میں بھی اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہیں۔ بعض اوقات خطرناک حالات میں کام کرتے ہوئے حادثات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے مگر ان کے اہلِ خانہ کے لیے کوئی مضبوط سہارا موجود نہیں ہوتا۔
مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ یومیہ اجرت کم ہے۔ کئی محکموں میں روزانہ مزدوری اتنی کم ہے کہ اس سے گزارا کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ شہری علاقوں میں کرایہ، بجلی کے بل اور راشن کے اخراجات پورے کرنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔
مختلف یونینز اور ملازمین نے کئی بار احتجاج بھی کیا، دھرنے دیے اور یادداشتیں پیش کیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ یا تو انہیں مستقل کیا جائے یا کم از کم ایک واضح پالیسی بنائی جائے جو ان کی برسوں کی خدمت کو تسلیم کرے۔ حکومت اکثر مالی مشکلات اور قانونی پیچیدگیوں کا حوالہ دیتی ہے، مگر ملازمین کے نزدیک یہ جواز ان کی محنت کا مناسب اعتراف نہیں۔
یہ مسئلہ صرف ملازمین تک محدود نہیں بلکہ ان کے خاندانوں اور بچوں کے مستقبل کو بھی متاثر کرتا ہے۔ تعلیم اور بہتر مواقع کی کمی اگلی نسل کو بھی معاشی دباؤ کا شکار بنا سکتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت اور ڈیلی ویجرز کے درمیان سنجیدہ مذاکرات ہوں اور ایک منصفانہ اور قابلِ عمل پالیسی بنائی جائے۔ مرحلہ وار ریگولرائزیشن، کم از کم اجرت میں اضافہ اور سماجی تحفظ جیسے اقدامات اس مسئلے کا حل بن سکتے ہیں۔
آج جموں و کشمیر کے ڈیلی ویجرز صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان کی محنت کو تسلیم کیا جائے اور انہیں ایک محفوظ مستقبل دیا جائے۔ وعدے تبھی معنی رکھتے ہیں جب ان پر عمل ہو ورنہ وہ محض سراب ثابت ہوتے ہیں، جو امید تو دلاتے ہیں مگر حقیقت میں کچھ بھی فراہم نہیں کرتے۔