محمد حنیف
جموں و کشمیر اس وقت سڑکوں کی حفاظت کے بگڑتے ہوئے بحران کا سامنا کر رہا ہے، جہاں بڑھتے ہوئے حادثات، شدید ٹریفک جام اور کمزور ٹرانسپورٹ ڈھانچے نے روزمرہ سفر کو نہایت مشکل بنا دیا ہے ،وہاں تیزی سے پھیلتے شہر، نجی گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، اور محدود سڑکوں پر بڑھتے دباؤ نے ٹریفک نظام کو مزید بے ترتیب بنا دیا ہے۔ جیسے جیسے خطہ ترقی کی طرف بڑھ رہا ہے، محفوظ سڑکیں اور بہتر ٹریفک نظم و نسق عوامی ترجیحات میں سرفہرست ہوتے جا رہے ہیں۔
خطے کا پُرکشش مگر دشوار گزار پہاڑی جغرافیہ بذاتِ خود سفر کو مشکل بناتا ہے۔ بلند پہاڑ، تیز موڑ، ڈھلوانیں اور غیر مستحکم موسم ڈرائیونگ کو خطرناک بنا دیتے ہیں۔ سردیوں میں شدید برف باری، دُھند اور مون سون میں لینڈ سلائیڈنگ معمول بن چکی ہے، جو رابطے میں بار بار رکاوٹ ڈالتی ہے۔ لیکن حادثات کی زیادہ تعداد ظاہر کرتی ہے کہ اصل مسئلہ ڈھانچے کی کمزوری، عمل درآمد میں ناہمواری اور ڈرائیوروں کے غیر ذمہ دارانہ رویّے میں بھی ہے۔
گزشتہ دہائی میں سری نگر اور جموں کے پھیلاؤ نے سفر کی ضرورت میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔ دونوں شہر انتظامی، تجارتی اور تعلیمی سرگرمیوں کے مراکز ہیں، مگر ان کا انفراسٹرکچر بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہو سکا۔ تنگ سڑکیں، سست رفتار توسیعی منصوبے اور ناقص ٹریفک پلاننگ نے روزمرہ سفر کو نہایت سست اور تکلیف دہ بنا دیا ہے۔ لعل چوک، پنتھ چوک، بمنہ، رام باغ، بکرام چوک، جیول چوک، جانی پور اور گاندھی نگر کے چوراہوں پر ٹریفک جام ایک معمول بن چکے ہیں۔
نجی گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد ٹریفک دباؤ کا سب سے بڑا سبب ہے۔ محدود اور غیر مؤثر پبلک ٹرانسپورٹ کے باعث شہری بڑی تعداد میں اپنی گاڑیاں استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ کئی گھروں میں ہر فرد کی علیحدہ گاڑی موجود ہے، جس نے پہلے سے کم گنجائش والی سڑکوں کو مزید بھاری بھرکم بنا دیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ فٹ پاتھوں اور سڑکوں کے کناروں پر غیر قانونی تجاوزات جیسے ٹھیلے، دکانیں اور غلط پارکنگ ٹریفک کے بہاؤ میں مزید رکاوٹ پیدا کرتی ہیں۔ مناسب پارکنگ سہولیات کی کمی کے باعث لوگ سڑک کے کناروں کو ہی پارکنگ کے طور پر استعمال کرتے ہیں، جس سے پیدل چلنے والوں اور ایمرجنسی گاڑیوں کو شدید مشکلات پیش آتی ہیں۔
غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ بھی حادثات میں نمایاں کردار ادا کرتی ہے۔ اوور اسپیڈنگ، غلط اوور ٹیکنگ، لین کی خلاف ورزی، بغیر ہیلمٹ موٹر سائیکل چلانا، سیٹ بیلٹ کے بغیر گاڑی چلانا اور موبائل فون کا استعمال ٹریفک خطرات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیاں اچانک درمیان سڑک پر رک کر مسافروں کو چڑھانے یا اتارنے کی غلط عادت بھی حادثات کا باعث بنتی ہے۔دیہی اور پہاڑی علاقوں میں سڑکوں کی حالت مزید خراب ہے۔ کئی سڑکیں بغیر مناسب سائن بورڈ، اسٹریٹ لائٹس اور حفاظتی نشانات کے موجود ہیں۔ گڑھے، ٹوٹی ہوئی سڑکیں اور تنگ گزرگاہیں خاص طور پر رات کے وقت حادثات کے امکانات بڑھا دیتی ہیں۔ جموں،سری نگر نیشنل ہائی وے تواتر سے لینڈ سلائیڈز، راک فال اور بندشوں کا شکار رہتی ہے، جس سے سفر اور تجارت دونوں بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔اس صورتحال کے انسانی اور معاشی اثرات انتہائی سنگین ہیں۔ حادثات جان لیوا ثابت ہوتے ہیں، خاندان اُجڑتے ہیں، کئی لوگ معذوری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف ٹریفک جام میں ضائع ہونے والا وقت، اضافی ایندھن خرچ، سامان کی ترسیل میں تاخیر اور کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ معیشت پر بوجھ ڈالتی ہے۔
حکومت اور ٹریفک حکام نے اس سنگین صورتحال کے حل کے لیے متعدد اقدامات کئے ہیں۔ انٹیلی جینٹ ٹریفک مینجمنٹ سسٹم، سی سی ٹی وی نگرانی، اسمارٹ سگنلز اور قوانین کی سختی سے عمل داری جیسے اقدامات قابلِ ذکر ہیں۔ اوور اسپیڈنگ اور نشہ میں ڈرائیونگ پر سخت جرمانے نافذ کیے گئے ہیں۔ مختلف مقامات پر فلائی اوورز، بائی پاس روٹس اور سڑکوں کی توسیع کے منصوبے ٹریفک دباؤ کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ سری نگر اور جموں میں الیکٹرک بس سروس کا آغاز جدید اور ماحول دوست پبلک ٹرانسپورٹ کی طرف ایک مثبت قدم ہے۔
اگرچہ یہ اقدامات اہم ہیں، لیکن چیلنجز اب بھی باقی ہیں۔ قوانین پر عمل درآمد میں کبھی سختی تو کبھی نرمی دیکھی جاتی ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ اب بھی ناکافی ہے۔ مختلف ڈیپارٹمنٹس کے درمیان ہم آہنگی کی کمی کے باعث مسائل کا جامع حل سامنے نہیں آ پاتا۔
پائیدار حل کے لیے مربوط حکمتِ عملی ضروری ہے۔ بہتر پبلک ٹرانسپورٹ، پارکنگ انفراسٹرکچر کی توسیع، سڑکوں کی جدید ڈیزائننگ اور باقاعدہ مرمت ناگزیر ہے۔ اسکولوں میں روڈ سیفٹی کی تعلیم، عوامی آگاہی مہمات اور سول سوسائٹی کی شمولیت ڈرائیونگ کے ذمہ دارانہ رویّے کو فروغ دے سکتی ہے۔
آخر میں، شہریوں کا کردار سب سے اہم ہے۔ ٹریفک قوانین کی پابندی، ذمہ دارانہ ڈرائیونگ، درست پارکنگ، صبر و تحمل، ہیلمٹ اور سیٹ بیلٹ کا استعمال اور موبائل فون کے بغیر ڈرائیونگ جیسے معمولی مگر ضروری اقدامات حادثات میں نمایاں کمی لا سکتے ہیں۔جموں و کشمیر کا حسن اور اس کی مہمان نوازی ایک ایسے ٹریفک نظام کی حق دار ہے جو محفوظ، منظم اور جدید ہو۔ بہتر حکمرانی، منصوبہ بندی اور شہری تعاون کے ساتھ خطہ ایک زیادہ محفوظ اور بہتر ٹریفک نظام کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
[email protected] ایکس/ٹویٹر: @haniefmha