محمد حنیف
جموں و کشمیر کا اقتصادی سروے 2025-26 یونین ٹیریٹری کے معاشی سفر میں ایک اہم سنگِ میل ہے۔ یہ بحالی، استحکام اور اصلاحات پر مبنی ایک جامع تجزیہ پیش کرتا ہے۔ عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور مہنگائی کے دباؤ کے باوجود، جموں و کشمیر نے ترقی کو مستحکم رکھنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔
معیشت کا مجموعی حجم مسلسل بڑھ رہا ہے، جس کا اندازہ تقریباً 2.86 لاکھ کروڑ روپے لگایا گیا ہے، جبکہ حقیقی ترقی کی شرح 5.82 فیصد متوقع ہے۔ فی کس آمدنی اب 1.68 لاکھ روپے تک پہنچ چکی ہے جو عوامی خوشحالی میں بہتری کی علامت ہے۔زرعی شعبہ اب بھی اہم ہے، تاہم خدمات کے شعبے میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ سیاحت، ٹرانسپورٹ، تجارت اور مالی خدمات نے معیشت کو مضبوط کیا ہے۔ تعمیرات اور صنعت نے بھی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔مالی نظم و نسق میں بہتری آئی ہے۔ ٹیکس نظام، جی ایس ٹی اور بجلی محصولات نے حکومتی آمدنی میں اضافہ کیا ہے۔ ڈیجیٹل نظام سے شفافیت بڑھی ہے۔زراعت میں جدید طریقوں، فصلوں کی تنوع اور منڈیوں سے ربط پر توجہ دی جا رہی ہے۔ باغبانی دیہی معیشت کی بنیاد بنی ہوئی ہے۔ بادام، اخروٹ اور دیگر مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ ہوا ہے۔
صنعتی ترقی پالیسی اصلاحات اور سرمایہ کاری کے باعث بہتر ہوئی ہے۔ ایم ایس ایم ای شعبے نے روزگار پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔سیاحت ایک اہم ستون ہے۔ 1.78 کروڑ سیاحوں کی آمد بحالی کی علامت ہے۔سماجی شعبے میں صحت اور تعلیم میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ شرحِ اموات میں کمی اور تعلیمی معیار میں اضافہ ہوا ہے۔
سماجی بہبود کی اسکیموں نے خواتین، بزرگوں اور قبائلی طبقات کو فائدہ پہنچایا ہے۔ خواتین کے لیے مفت ٹرانسپورٹ ایک اہم قدم ہے۔انفراسٹرکچر میں بجلی، سڑکوں، ریل اور ہوائی رابطوں پر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی ہے۔ڈیجیٹل گورننس نے سرکاری خدمات کو تیز اور شفاف بنایا ہے۔اقتصادی سروے محتاط امید کی تصویر پیش کرتا ہے۔ روزگار، ماحولیاتی تحفظ اور علاقائی عدم مساوات پر مزید توجہ ضروری ہے۔اگر اصلاحات جاری رہیں تو جموں و کشمیر پائیدار ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔