اُڑنے والی موٹر بائیک اورخون سے انسانی آنکھ کی بافتوں کی نمو
پروفیسرعطاء الرحمٰن
Hover بائیک پرکا م کی طرف پرواز : Hover craft جہاز پانی کی سطح سے صرف ایک یا دو منٹ اوپر ہوتے ہیں۔ اب آسٹریلیا کے ایک تخلیق کار کربس میلوئے نے اڑنے والی موٹر سائیکل تیار کی ہے۔ یہ Hover bike زمین سے کئی ہزار فیٹ کی بلندی پر سفر کرے گی۔ یہ Hover bike کیولر Reinforced کاربن فائبر سے تیار کی گئی ہے۔ اس میں نالی دار گھومنے والے دھکامار
(Propeller) لگے ہوئے ہیں جو اس کو فضاء میں پرواز کرتے ہوئے173میل فی گھنٹے کی رفتار فراہم کرتے ہیں۔ اس موٹر بائیک کی پہلی پروازبہت جلد ہونے کی اُمید ہے۔
Vending مشین کے قریب فری انٹرنیٹ :
انٹرنیٹ ہم میں سے اکثر لوگوں کی روزمرہ کی ضرورت بن چکا ہے، تاہم سڑکوں پر سفرکرتے ہوئے اکثر وائرلیس انٹرنیٹ کی سہولت میسر نہیں ہوتی۔ اب جاپانی مشروب کی کمپنی نے ایک اچھوتا تصور پیش کیا ہے جو بھی ان کی vending مشین کے قریب کھڑا ہوگا اسے فری انٹرنیٹ کی سہولت فراہم ہوجائے گی۔ اس میں کسی قسم کے پاس ورڈ کی ضرورت نہیں ہوگی۔ 30منٹ استعمال کے بعد اس کی مدت ختم ہونے کے بعد آپ کو ایک دفعہ پھر login کرنے کی ضرورت پڑے گی۔
اس کے ساتھ ہی جب آپ اس مشین کی قریب کھڑے ہوکر انٹرنیٹ استعمال کریں گے تو آپ کو پیاس محسوس ہوگی اور آپ ان کا مشروب خریدنے کی خودبخود ضرورت محسوس کریں گے۔ ملک میں2000ء میں آئی ٹی انڈسٹری کو فروغ حاصل ہوا اور اس دور میں انٹرنیٹ غیرمعمولی رفتارسے سفر کرتا ہوا ملک کے کئی شہروں اور ہزاروں دیہاتوں اور قصبوں تک پہنچ گیا۔ 2001ءمیں پہلا عوامی Wifi ملک کے تمام ائیرپورٹس پر متعارف کروایا گیا۔ اس سے قبل یہ سہولت صرف امریکی اور یورپی ائیرپورٹس پر موجود تھی۔
دنیا کا مختصر ترین ہتھیلی (پام وین) کا ا سکینر :
جاپان کے کمپیوٹرسرور اور اسٹوریج ڈیوائس سازی کے معروف ادارے نے دنیا کا مختصر ترین ہتھیلی (پام وین ) کا اسکینر ایجاد کیا ہے ۔ بائیو میٹرک ا سکینر کے مختلف موبائل مصنوعات مثلاً ٹیبلٹ کمپیوٹرز میں وسیع پیمانے پر استعمال ہونے کی توقع ہے۔ اس کی وجہ درستگی اور سائز (جسامت) ہے،جس سے اس کو بہترین سیکورٹی میسر آئے گی۔ اس کے استعمال کنندہ کو یہ فائدہ ہوگا کہ یہ ہاتھ کی لکیروں اور ہاتھ کے نقش کا پرنٹ فاصلے سے لے سکے گا۔بغیرچھوئے Plam vein authentication سسٹم نہ صرف ہتھیلی میں موجود رگوں کی ساخت کی شناخت کرے گا جو کہ عام طور پر خالی آنکھ سے نظر نہیں آتیں بلکہ انگلیوں کی ساخت کو بھی شناخت کرے گا اور پھر اس کی مرکب Composit تصویر تشکیل دے کر استعمال کنندہ کی شناخت کرسکے گا۔اس کی خا ص بات یہ ہے کہ ا س کو چھونے کی ضرورت نہیں ہوتی ،لہٰذا یہ اسپتالوں اور دوسرے عوامی مقامات کے لیے انتہائی کارآمد ہے ۔جہاں صفائی اور ہائجین کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔
خون سے انسانی آنکھ کی بافتوں کی نمو :
اسٹیم سیل کے ذریعے علاج تیزی سے مقبول ہورہا ہے۔ اس سے قبل اسٹیم سیل کو جنین (Embryo) سے حاصل کیا جاتا تھا (جس کی وجہ سے یہ انتہائی متنازعہ تھا) یا پھر مریض کی ریڑھ کی ہڈی کے گودے Bone Marrow سے حاصل کیا جانے لگا، مگر اب مریض کی جلد یا خون سے ایک قسم کے اسٹیم سیل (Induced Pluripotent
stem cell) بنائے جاسکتے ہیں۔ یہ خاص اسٹیم سیل بعدازاں دل، گردے یا دوسری اقسام کی بافتوں (ٹشوز) میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔بالغ افراد میں نابینا پن کی ایک اہم وجہ آنکھ کے پردے ( Retina )پر بیماریوں Mascular degeneration and pigmentosa) (کا ظہور ہے۔
انحطاط Degeneration کے اس عمل کو بعض دوائوں کی مدد سے سست کیا جاسکتاہے، مگر ابھی تک اس کا مکمل علاج دریافت نہیں ہوا ہے۔ اس کا ایک حل آنکھ کے پردے کی نئی بافتوں کی پیدائش ہے۔ امریکا میں یونیورسٹی آف وسکوسن میڈیسن کے سائنسدان اسٹیم سیل کی مدد سے انسانی آنکھ کے ٹشوز اُگانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔اس مقصد کے لیے اسٹیم سیل، ایک مریض کے خون کے سفید ذرّات سے حاصل کیے گئے۔ اس کے بعد ان خلیات کو Reprogramed(ری پروگرامنگ پروٹین کے حامل پلازمڈز کو استعمال کرتے ہوئے تاکہ خون کے سفید ذرات کو متاثر Infectکیا جاسکے) کیا گیا ۔اس عمل کا مقصد خاص سسٹم کے اسٹیم سیل حاصل کرنا تھا۔ (induced pluripotent stem cell) اس کے بعد اس کو انسانی آنکھ کے پردے کی بافتوں میں تبدیل ہونے پر مائل کیا جاتا ہے۔ اس عمل کی مدد سے مستقبل میں آنکھ کے پردوں کے ٹشوز کو ٹرانسپلانٹ کرنے میں مدد ملے گی جب آنکھ کے پردے کے متاثرہ حصوں کو بیماری سے محفوظ آنکھ کے پردے کے ٹشوز سے تبدیل کردیا جائے گا۔ یہ ٹشوز اسی مریض کے خون سے حاصل کیے جائیں گے۔